دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم

فرماتا ہے:"اللہُ الْغَنِیُّ وَ اَنۡتُمُ الْفُقَرَآءُ " مگر اس کے محبوب بندے مخلوق کے حاجت روا ہیں باذن پروردگار،رب تعالٰی فرماتا ہے:"اَغْنٰہُمُ اللہُ وَرَسُوۡلُہٗ مِنۡ فَضْلِہٖ"۔بادل بھی رب کا محتاج اور زمین بھی مگر بادل زمین کا محتاج الیہ ہے کہ ہر وقت زمین کو بادل کی ضرورت ہے۔

۵؎ خطا کے معنی ہیں غلط راستہ پر چلنا بھول کر ہو یا جان بوجھ کر لہذا اس میں خطائیں،بھول چوک،عمدًا  گناہ سب داخل ہیں۔علامہ ابن حجر نے فرمایا کہ یہاں روئےسخن عام بندوں سے ہے معصومین حضرات جیسے فرشتے،انبیاء اس حکم سے خارج ہیں کہ اگرچہ بعض انبیاء سے خطائیں سرزد ہوئیں مگر عمر بھر میں ایک دو نہ کہ دن رات اور ہر وقت،نیز ان کی وہ خطائیں بھی ان کی شان کے لائق ہیں ہماری عبادتوں سے افضل ہیں، سارے عالم کا ظہور حضرت آدم کی ایک خطا کی برکت سے ہے لہذا اس عصمت انبیاء پر اعتراض نہیں ہوسکتا۔

۶؎ اس کی شرح اگلے جملے سے ہورہی ہے کہ تمہاری عبادتوں سے میرا نفع نہیں اور تمہارے گناہوں سے میرا نقصان نہیں بلکہ ان میں نفع نقصان خودتمہارا ہے۔

۷؎  یعنی دنیا کے کسی بڑے پرہیز گار کو لے لو پھر سوچو کہ اگر تمام جہان کا دل اس پرہیزگار کا سا ہوجائے اور ساری دنیا اس نیک و صالح کی طرح نیکیاں ہمیشہ کیا کرے۔اس ترجمہ سے یہ جملہ بالکل واضح ہوگیا اس پر کوئی اعتراض نہ رہا۔

۸؎ لہذا کوئی شخص یہ سمجھ کر عبادت نہ کرے کہ میری عبادت سے رب تعالٰی کے خزانے بڑھ جائیں گے بلکہ اس کا احسان مانے کہ اس نے اپنے آستانہ پر بلالیا۔

۹؎ اس کا مطلب بھی وہ ہی ہے جو پہلے جملہ میں عرض کیا گیا کہ دنیا کے بادشاہوں کا رعایا کے بگڑ جانے سے نقصان ہوتا ہے،آمدنی میں کمی ہو جاتی ہے،خزانہ خالی رہ جاتا ہے مگر رب تعالٰی وہ بے نیاز ہے کہ ساری خلق کی بدکاری سے اس کا کوئی نقصان نہیں۔خیال رہے کہ یہ مضمون ایسا ہی ہے جیسے رب تعالٰی فرماتاہے کہ اگر رب تعالٰی کے اولاد ہوتی تو پہلے میں ہی اسے پوجتا نہ رب تعالٰی کے اولاد ممکن ہے نہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کا اسے پوجنا ممکن،ایسے ہی تمام بندوں کا گنہگار ہوجانا غیرممکن ہے فرشتے،انبیاءمعصومین اور اولیاء محفوظین بفضلہ تعالٰی گناہ کرتے ہی نہیں۔ر ب تعالٰی فرماتاہے:"اِنَّ عِبَادِیۡ لَیۡسَ لَکَ عَلَیۡہِمْ سُلْطٰنٌ"۔غرضکہ اس جملے سے عصمت انبیاء کے خلاف دلیل نہیں پکڑی جاسکتی۔

۱۰؎ اس جملے کا یہی ترجمہ درست ہے اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ میری یہ عطا میرے خزانوں کی سوئی کی تری کی بقدر کم کردیں گے وہاں کمی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا،سورج ہزار ہا سال سے دنیا کو روشنی دے رہا ہے مگر اس کی روشنی میں مطلقًا کمی نہ ہوئی،جب رب تعالٰی کی تجلیوں کا یہ حال ہے تو اس کے خزانو ں کا کیا حال ہوگا اور یہ نسبت بھی فقط سمجھانے کے لیے ہے ورنہ رب تعالٰی کے خزانے غیرمحدود ہیں اور اسکی عطائیں محدود کیونکہ لینے والے محدود اور محدود کی غیر محدود سے نسبت کیسی۔

۱۱؎ اس طرح کہ نیک کار کی جزاء میں کمی نہ کروں گا اور بدکار کی سزا میں زیادتی نہ کروں گا۔اس کا مطلب یہ نہیں کہ نیک کار کو زیادہ نہ دوں اور گنہگار کو معاف نہ کروں۔یہاں عدل کا ذکر ہے عدل فضل کے خلاف نہیں لہذا حدیث واضح ہے نہ آیات قرآنی کے خلاف ہے اور نہ دیگر احادیث کے مخالف۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن