دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم

۴؎ یعنی مجھے ایسی مصیبت میں گرفتار نہ کر جس کا انجام میرے لیے برا ہو۔(مرقات) عافیت کے یہ معنی نہایت نفیس ہیں اصل عافیت معصیت سے امن ہے۔

۵؎  غالبًا راوی سے مراد صحابی ہوں یعنی اسناد کے آخری راوی۔ہوسکتا ہے کہ کوئی اور راوی مراد ہوں ان میں یہ شک ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے عَافِنِیْ فرمایا یا نہیں،بہتر یہ ہے کہ عَافِنِیْ بھی پڑھا جائے ممکن ہے کہ یہ بھی دعا کا جز ہو عافیت میں دین و دنیا کی ساری امتیں داخل ہیں،یوسف علیہ السلام نے معصیت کے مقابل مصیبت اختیار فرمائی کہ عرض کیا"رَبِّ السِّجْنُ اَحَبُّ اِلَیَّ مِمَّا یَدْعُوۡنَنِیۡۤ اِلَیۡہِ"کیونکہ معصیت کے مقابلے میں مصیبت  عافیت ہے۔

2318 -[25]

وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَى شَجَرَةٍ يَابِسَةِ الْوَرَقِ فَضَرَبَهَا بِعَصَاهُ فَتَنَاثَرَ الْوَرَقُ فَقَالَ: «إِنَّ الْحَمْدُ لِلَّهِ وَسُبْحَانَ اللَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ تُساقطُ ذُنوبَ العَبدِ كَمَا يتَساقطُ وَرَقُ هَذِهِ الشَّجَرَةِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ. وَقَالَ: هَذَا حديثٌ غَرِيب

روایت ہےحضرت انس سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم ایک خشک پتوں والے درخت سے گزرے تو اس میں اپنی لاٹھی شریف ماری پتے جھڑ گئے ۱؎ فرمایا الحمدﷲ،سبحان اﷲ اور لا الہ الا اﷲ اور اﷲ اکبر بندے کے گناہ یوں جھاڑ دیتے ہیں جیسے اس درخت کے پتے جھڑگئے ۲؎ (ترمذی)اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔

۱؎  ظاہر ہے کہ وہ درخت جنگلی تھا جس کا کوئی مالک نہیں،اس کے پھل پھول پتے ہرشخص لے سکتا ہے اور ممکن ہے کسی کے گھر یا باغ کا درخت ہو،چونکہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم اپنے صحابہ کی جان و مال کے مالک ہیں اس لیے حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے بغیر اجازت درخت کے پتے جھاڑ دیئے ورنہ کسی کے مملوک درخت پر پتھر پھینکنا،لاٹھی سے اس کے پتے جھاڑنا ہمارے وا سطے ممنوع ہے کہ یہ دوسرے کی ملک میں تصرف ہے۔

۲؎  سبحان اﷲ! کیا نفیس تشبیہ ہے یعنی گناہوں میں گرفتار انسان سوکھے ہوئے درخت کی طرح ہے اور اس کے گناہ مثل پتوں کے اور یہ کلمات گویا عصائے محبوبی ہیں،جس سے وہ گناہ جھڑتے رہتے ہیں۔اس میں صوفیانہ اشارہ اس جانب بھی ہے کہ یہ کلمات گناہوں سے اس وقت پاک کریں گے جب یہ کسی کامل کے ذریعہ کئے جائیں گے کیونکہ اگرچہ درخت میں لگی لاٹھی ہی تھی مگر حضور انورصلی اللہ علیہ و سلم کے ہاتھ مبارک سے۔

2319 -[26]

وَعَن مَكحولِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَكْثِرْ مِنْ قَوْلِ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ فَإِنَّهَا مِنْ كَنْزِ الْجَنَّةِ ". قَالَ مَكْحُولٌ: فَمَنْ قَالَ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ وَلَا مَنْجًى مِنَ اللَّهِ إِلَّا إِلَيْهِ كَشَفَ اللَّهُ عَنْهُ سَبْعِينَ بَابًا مِنَ الضُّرِّ أَدْنَاهَا الْفَقْرُ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ. وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ لَيْسَ إِسْنَادُهُ بِمُتَّصِلٍ وَمَكْحُولٌ لَمْ يَسْمَعْ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ

روایت ہے حضرت مکحول سے ۱؎ وہ حضرت ابوہریرہ سے راوی فرماتے ہیں مجھے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لاحول ولا قوۃ الا باﷲ زیادہ پڑھا کرو کہ یہ جنت کے  خزانے سے ہے ۲؎  مکحول فرماتے ہیں جو کوئی پڑھاکرے لاحول ولا قوۃ الا باﷲ اور لا منجامن اﷲ الا الیہ تو اﷲ تعالٰی اس سے ستر مصیبتوں کے در بند کردے گا جن میں سے ادنیٰ مصیبت فقیری ہے۳؎ (ترمذی) اور ترمذی نے فرمایا کہ اس حدیث کی اسناد متصل نہیں مکحول نے حضرت ابوہریرہ سے سنا نہیں۴؎

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن