30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
2308 -[15] وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَوَّلُ مَنْ يُدْعَى إِلَى الْجَنَّةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الَّذِينَ يَحْمَدُونَ اللَّهَ فِي السَّرَّاءِ وَالضَّرَّاءِ» . رَوَاهُمَا الْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَان |
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے جنہیں قیامت کے دن سب سے پہلے جنت کی طرف بلایا جائے گا وہ ہوں گے جو خوشی و غم میں اﷲ کی حمد کرتے ہیں ۱؎ یہ دونوں حدیثیں بیہقی نے شعب الایمان میں روایت کیں۔ |
۱؎ اس طرح کہ ہر حال میں رب کی حمد کرتے رہتے ہیں،تبدیلی حالات ان کو نہیں بدلتی،راضی برضا رہتے ہیں،چونکہ یہ لوگ رب سے راضی رہے لہذا رب بھی ان سے راضی رہا،وہ رب کے تھوڑے رزق سے راضی تو رب ان کی تھوڑی عبادت سے راضی،وہ رب کے بھیجے ہوئے رنج وغم پر راضی تو رب ان سے گناہ سرزد ہونے پر بھی راضی،فرماتاہے:"رَضِیَ اللہُ عَنْہُمْ وَ رَضُوۡاعَنْہُ"۔اﷲ تعالٰی یہ درجہ نصیب کرے۔
|
2309 -[16] وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَالَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ: يَا رَبِّ عَلِّمْنِي شَيْئًا أَذْكُرُكَ بِهِ وَأَدْعُوكَ بِهِ فَقَالَ: يَا مُوسَى قُلْ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَقَالَ: يَا رَبِّ كلُّ عبادكَ يقولُ هَذَا إِنَّما أيد شَيْئًا تَخُصُّنِي بِهِ قَالَ: يَا مُوسَى لَوْ أَنَّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعَ وَعَامِرَهُنَّ غَيْرِي وَالْأَرَضِينَ السَّبْعَ وُضِعْنَ فِي كِفَّةٍ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فِي كِفَّةٍ لَمَالَتْ بِهِنَّ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ". رَوَاهُ فِي شرح السّنة |
روایت ہے حضرت ابو سعید خدری سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا تھا یارب مجھے وہ چیز سکھا جس سے تجھے یاد کیا کروں یا جس کے ذریعے تجھ سے دعا کروں ۱؎ رب نے فرمایا اے موسیٰ کہو لا الہ الا اﷲ پھر عرض کیا یا رب یہ تو تیرے سارے بندے ہی کہتے ہیں میں تو کوئی ایسی خاص چیز چاہتا ہوں جس سے تو مجھے خاص کرے ۲؎ فرمایا اے موسیٰ اگر ساتوں آسمان اور میرے سواء ان کی آبادی اور ساتوں زمینیں ایک پلڑے میں رکھ دی جائیں ۳؎ اور لا الہ الا اﷲ دوسرے پلڑے میں تو ان سب پر لا الہ الا اﷲ بھاری ہوگا ۴؎ (شرح سنہ) |
۱؎ یعنی اے مولیٰ مجھے خصوصی ذکر و دعا بذریعہ وحی یا الہام سکھا عمومی ذکر و دعائیں تو تو نے مجھے بہت عطا فرمائی ہیں لہذا حدیث پر یہ سوال نہیں ہوسکتا کہ کیا اب تک موسیٰ علیہ السلام کو ذکر و دعا بھی معلوم نہ تھی اس کی تائید اگلے مضمون سے ہورہی ہے۔
۲؎ چونکہ فطرت بشری ہے کہ عام نعمت کے مقابلہ میں خاص نعمت سے زیادہ خوش ہوتے ہیں اگرچہ عام نعمت کا نفع زیادہ ہی ہو،دیکھو ہوا،پانی،نمک وغیرہ کے مقابل سونے چاندی جواہر سے زیادہ خوش ہوتے ہیں،نماز پنجگانہ سے زیادہ نماز عید کی خوشی مناتے ہیں اسی لیے آپ نے یہ سوال فرمایا لہذا حدیث پر اعتراض نہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کلمہ سے خوش نہ ہوئے بلکہ اﷲ تعالٰی نے یہ سوال موسیٰ علیہ السلام کے دل میں خود ہی ڈالا تھا تاکہ اس کے جواب سے لوگوں کو کلمہ طیبہ کے مسائل کا پتہ چلے۔خیال رہے کہ یہاں لا الہ الا اﷲ سے مراد صرف یہ ہی الفاظ ہیں کیونکہ شریعت موسوی میں کلمہ میں محمد رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم داخل نہ ہوا تھا یہ جزء تو دین محمدی کی خصوصیات سے ہے۔
۳؎ خلاصہ جواب یہ ہے کہ اے موسیٰ تم کوئی خاص عمل و وظیفہ ایسا چاہتے ہو جو لا الہ الا اﷲ سے افضل ہو ایسا کوئی وظیفہ نہیں، تمام سے بہتر افضل یہ ہی کلمہ ہے۔ساتوں زمین و آسمان اور ان کے باشندوں میں انسان حیوانات اور ان کے سارے عمل داخل ہیں لہذا تمام وظیفے،اوراد،عبادات سب سے کلمہ طیبہ افضل ہوا کیونکہ رب کا نام مخلوق سے افضل و بہتر ہے ہاں اس کلمہ سے مختلف
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع