30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فرشتے کی آواز سنتے ہی نہیں تو اس کے پکارنے سے کیا فائدہ۔بادشاہ کے فرمان عوام تک اخبارات،حکام وغیرہ کے ذریعے پہنچا کرتے ہیں۔تسبیح کرنے سے مراد یا تو مطلقًا کوئی سی تسبیح پڑھ لینا ہے یا یہ پڑھنا ہے"سبحان الملك القدوس"یا یہ پڑھناہے"سُبُّوْحٌ قُدُّوْسٌ رَّبُّنَا وَ رَبُّ الْمَلَائِکَۃِ وَالرُّوْحِ"یا یہ پڑھنا ہے"سبحان اﷲ وبحمدہ سبحان اﷲ العظیم"۔ (مرقات)
|
2306 -[13] وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَفْضَلُ الذِّكْرِ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَفْضَلُ الدُّعَاءِ: الْحَمْدُ لِلَّهِ ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَابْن مَاجَه |
روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے بزرگ ترین ذکر لا الہ الا اﷲ ہے ۱؎ اور بزرگ ترین دعا الحمدﷲ ہے۔ (ترمذی و ابن ماجہ) |
۱؎ لا الہ الا اﷲ سے مراد پورا کلمہ شریف ہے یعنی مع محمد رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کے ورنہ صرف لا الہ الا اﷲ تو بہت سے موحد کفار بلکہ ابلیس بھی پڑھتا ہے،وہ مشرک نہیں موحد ہے۔جس چیز سے مؤمن بنتے ہیں وہ ہے محمد رسول اﷲ،چونکہ کلمہ شریف سے کفر کی گندگی دور ہوتی ہے،اسے پڑھ کر کافر مؤمن ہوتا ہے، اس سے دل کی زنگ دور ہوتی ہے،اس سے غفلت جاتی ہے،دل میں بیداری آتی ہے یہ حمد الٰہی و نعت مصطفویٰ کا مجموعہ ہے اس لیے یہ افضل الذکر ہوا۔صوفیائے کرام فرماتے ہیں کہ صفائی دل کے لیے کلمہ طیبہ اکسیر ہے۔
۲؎ دعا میں کریم کی تعریف اور اپنی عرض حاجت ہوتی ہے الحمدﷲ میں یہ دونوں چیزیں موجود اسی لیے الحمد کو بہترین دعا فرمایا گیا۔جب مسکین سخی کے دروازے پر کھڑے ہوکر اس کی تعریف کرنے لگے تو سمجھو کچھ مانگ رہا ہے ،یوں ہی جب ہم فقیر رب کریم کے دروازے پر اس کی حمدوثنا کریں تو در پردہ اس سے مانگتے ہی ہیں۔سورۂ فاتحہ کو ام القرآن کہتے ہیں کیونکہ یہ الحمد ﷲ سے شروع ہوتی ہے۔
|
2307 -[14] وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْحَمْدُ رَأْسُ الشُّكْرِ مَا شَكَرَ اللَّهَ عَبْدٌ لَا يحمده» |
روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن عمرو سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے حمد شکر کا سر ہے ۱؎ جس بندے نے خدا کی حمد نہ کی اس نے رب کا شکر ہی نہ کیا ۲؎ |
۱؎ لہذا جو شکر حمد کے بغیر ہو وہ شکر صحیح نہیں جیسے بغیر سر کے جسم درحقیقت جسم ہی نہیں۔
۲؎ بعض صوفیاء فرماتے ہیں کہ شکر کی اصل جگہ دل و اعضاء ظاہری ہیں،دل سے رب کی نعمتوں کا اقرار،اعضاء سے عبادت شکر ہے اور حمد کی اصل جگہ زبان ہے اور دل وغیرہ لوگوں سے مخفی ہیں،زبان لوگوں پر ظاہر اور شکر میں اظہار اصل مقصود ہے اسی لیے حمدکو شکر کا سرقرار دیا گیاکہ مقصدِشکر حمد سے ادا ہوتا ہے۔(مرقات) سبحان اﷲ! نہایت نفیس تحقیق ہے۔رب تعالٰی فرماتاہے: "وَ اَمَّا بِنِعْمَۃِ رَبِّکَ فَحَدِّثْ"اپنے رب کی نعمتوں کا خوب چرچا کرو،یہ ہے کامل شکر اور چرچا زبان سے ہوتا ہے۔
|
2308 -[15] وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَوَّلُ مَنْ يُدْعَى إِلَى الْجَنَّةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الَّذِينَ يَحْمَدُونَ اللَّهَ فِي السَّرَّاءِ وَالضَّرَّاءِ» . رَوَاهُمَا الْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَان |
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے جنہیں قیامت کے دن سب سے پہلے جنت کی طرف بلایا جائے گا وہ ہوں گے جو خوشی و غم میں اﷲ کی حمد کرتے ہیں ۱؎ یہ دونوں حدیثیں بیہقی نے شعب الایمان میں روایت کیں۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع