دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم

۲۰؎ یہاں رجل سے مراد ہر بالغ عاقل مسلمان ہے مرد ہو یا عورت یعنی چونکہ بکری کا نصاب چالیس ہے لہذا اگر انتالیس بکریاں بھی ہوں تو زکوۃ واجب نہیں ہوگی،ہاں اگر مالک کچھ صدقہ نفلی دیدے تو اسے اختیار ہے۔

۲۱؎  بوڑھی میں بیمار بھی داخل ہے اور کانی میں ہر اس عیب والی جس سے قیمت کم ہوجائے،یہ حکم جب ہے جب مالک کے پاس جوان یا بے عیب بھی ہوں لیکن اگر اس کے پاس ساری بوڑھی یا عیب دار ہی ہوں تو انہی میں سے درمیانی بوڑھی یا عیب دار لی جائے گی۔(مرقات)

۲۲؎ صحیح یہ ہے کہ یہاں مصدق سے مراد صدقہ لینے والا عامل ہے نہ کہ دینے والا اور یہ استثناءصرف بکرے کی طرف لوٹ رہا ہے یعنی زکوۃ میں بکرا نہ لیا جائے گا،ہاں اگر عامل بکرے ہی کو فقراء کے لیے مفید سمجھے تو لے لے کیونکہ وہ فقراء کا وکیل ہے ان کی بھلائی کا لحاظ کرے کبھی بکرا خصوصًا خصی قیمت میں بکری سے زیادہ ہوتاہے۔اس جملہ کی اور بہت سی شرحیں کی گئی ہیں لیکن فقیر کی یہ شرح سیدھی صاف اور بے گرد و غبار ہے۔

۲۳؎ یہ جملہ بہت جامع ہے جس کے بہت معنے ہوسکتے ہیں اگر اس میں عامل کی طرف روئے سخن ہے تو معنے یہ ہوں گے کہ نہ تو عامل زکوۃ لینے کے لیے چندشخصوں کا تھوڑا مال ملا کر نصاب بنالے مثلًا دو شخصوں کے پاس بیس بیس بکریاں ہیں تو ان کو ملاکر چالیس بنالے اور زکوۃ لے لے یہ ناجائز ہے اور نہ زکوۃ بڑھانے کے لیے ایک شخص کے ایک مال کو متفرق کردے مثلًا کسی کے پاس ایک سو بیس بکریاں ہیں جن میں ایک بکری واجب ہوتی ہے عامل انہیں چالیس کے تین نصاب بنالے اور تین بکریاں لے لے یہ ناجائز ہے۔امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے یہی معنے کئے اور اگر روئے سخن مالک کی طرف ہے تو مطلب یہ ہوگا کہ مالک تمام زکوۃ کم کرنے یا بچنے کے لیے متفرق مال جمع نہ کرے مثلًا دو شخصوں کے پاس چالیس چالیس بکریاں ہیں جن میں الگ الگ ایک بکری واجب ہوتی ہے مگر یہ دونوں عامل کے سامنے اسے شرکت کا مال قرار دے کر ایک بکری دیں یہ جرم ہے یا دو آدمیوں کی شرکت میں چالیس بکریاں ہیں جن میں ایک بکری واجب ہوتی ہے مگر عامل کے سامنے یہ دونوں تھوڑی دیر کے لیے شرکت توڑ دیں اور اگر شرکت توڑ دیں اور الگ الگ بیس بیس بکریاں دکھا کر زکوۃ سے بچ جائیں یہ توجیہ امام شافعی کی ہے اور ہوسکتا ہے کہ روئے سخن مالک اور عامل دونوں کی طرف ہو یعنی مالک تو صدقہ سے بچنے یا کم کرنے کے لیے مجتمع کو متفرق نہ کرے اور عامل صدقہ بڑھانے یا واجب کرنے کے لیے متفرق کو جمع نہ کرے،خوف صدقہ دونوں کو شامل ہے۔مالک کو صدقہ واجب ہونے یا بڑھ جانے کا خوف ہوتا ہے اور عامل کو صدقہ واجب نہ رہنے یا گھٹ جانے کا اور بھی اس کی بہت شرحیں ہوسکتی ہیں۔یہ ہے اس افصح الفصحاء کی جامع البیانی کہ دو لفظوں میں بہت صورتیں بیان فرمادیں،صلی اللہ علیہ وسلم۔

۲۴؎ یعنی  اگر  ایک  مال  کے  دو مشترک  مالک  ہوں اور ان  پر بقدر حساب شرعی زکوۃ واجب ہوجائے تو زکوۃ مشترکہ دےدیں،بعد میں حساب کرلیں مثلًا دو شخصوں کی دوسو  بکریاں مشترک ہیں  اسطرح کہ چالیس  ایک  کی  ہیں  اور  ایک سوساٹھ  ایک  کی،جس کی دوبکریاں بطور زکوۃ دی گئیں تو چالیس والا بھی اپنے ذمہ ایک بکری لے گا  اور ایک سوساٹھ والا بھی ایک بکری،یہ نہ ہوگا کہ دوبکریاں کا5/1 چالیس والا دے اور 5/4 ایک سو ساٹھ والا،برابری سے یہی مراد ہے۔ (لمعات وغیرہ)یہاں مرقات نے بہت بڑی بحث کی مگر جتنا فقیر نے عرض کردیا وہ  کافی ہے۔خیال رہے کہ نصاب میں شرکت کی چند صورتیں :ایک یہ کہ ایک آدمی کے دو  بیٹوں کو میراث ملی جو ابھی تقسیم نہیں ہوئی۔دوسرے یہ کہ دو شخصوں نے اپنے مال مخلوط کرکے ان سے مشترکہ کاروبار شروع کردیا وغیرہ۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن