30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۶؎ یعنی اگر کل قیامت میں رب تعالٰی میزان کے ایک پلے میں تمہارا آج کا سارے دن کا یہ وظیفہ رکھے اور دوسرے پلے میں ہمارے یہ کلمات رکھے تو ثواب میں یہ کلمات بڑھ جائیں گے۔
۸؎ اس کا مطلب یہ ہے کہ میں رب تعالٰی کی ایسی تسبیح کرتا ہوں جو تمام مخلوق کے برابر ہو،اس کی رضاء کا باعث ہو،اس کے عرش کی زینت ہو اور کلمات الہیہ کی جو روشنائی ہے اس کے برابر ہو۔ان جامع الفاظ میں ساری چیزیں آگئیں کوئی چیز باقی نہ رہی لہذا یہ جامع وظیفہ ہے اس لیے اس کا اجربھی زیادہ ہے۔
|
2302 -[9] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عَلَيْهِ وَسلم: " من قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ فِي يَوْمٍ مِائَةَ مَرَّةٍ كَانَتْ لَهُ عَدْلَ عَشْرِ رِقَابٍ وَكُتِبَتْ لَهُ مِائَةُ حَسَنَةٍ وَمُحِيَتْ عَنْهُ مِائَةُ سَيِّئَةٍ وَكَانَتْ لَهُ حِرْزًا مِنَ الشَّيْطَانِ يَوْمَهُ ذَلِكَ حَتَّى يُمْسِيَ وَلَمْ يَأْتِ أَحَدٌ بِأَفْضَلَ مِمَّا جَاءَ بِهِ إِلَّا رَجُلٌ عَمِلَ أَكْثَرَ مِنْهُ " |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے جو ایک دن میں سو بار یہ کہہ لے ۱؎ اﷲ کے اکیلے کے سواء کوئی معبود نہیں،اس کا کوئی شریک نہیں،اسی کا ملک ہے،اسی کی تعریف ہے،وہ ہر چیز پر قادر ہے،اس کے لیے دس۱۰ غلام آزاد کرنے کے برابر ہوگا ۲؎ اور اس کے لیے سو نیکیاں لکھی جائیں گی اور اس کے سو گناہ معاف کئے جائیں گے اور اس دن دن بھر اس کی شیطان سے حفاظت ہوگی حتی کہ شام پالے ۳؎ اور کوئی شخص اس سے بہتر افضل عمل نہ کرسکے گا اس کے سوا جو اس سے زیادہ یہ پڑھ لے ۴؎ (مسلم،بخاری) |
۱؎ خواہ ایک دم ایک ہی مجلس میں سو بار کہے یا مختلف اوقات اور مختلف مجلسوں میں۔غرضکہ چوبیس گھنٹے میں یہ شمار پوری کرے۔ (مرقات)
۲؎ یہاں مرقات نے فرمایا کہ یہ وہ کلمہ توحید ہے جس کے متعلق قرآن کریم فرماتا ہے:"مَثَلًاکَلِمَۃً طَیِّبَۃً کَشَجَرَۃٍ طَیِّبَۃٍ اَصْلُہَا ثَابِتٌ وَّفَرْعُہَا فِیۡ السَّمَآءِ"۔
۳؎ اس سے اشارۃً معلوم ہورہا ہے کہ اگر بندہ رات میں یہ پڑھ لیا کرے تو صبح تک شیطان سے محفوظ رہے مگر چونکہ بندہ دن میں جاگتا ہے اور جاگتے ہی میں شیطان زیادہ گناہ کراتا ہے اس لیے دن کا ذکر فرمایا اگرچہ یہ کلمات ایک دم یا علیحدہ علیحدہ ہر وقت پڑھنا درست ہے لیکن صبح کے وقت ایک دم پڑھنا افضل ہے تاکہ دن بھر شیطان سے محفوظ رہے،یہ تاثیر تو سو بار پڑھنے کی ہے اگر اس سے زیادہ پڑھے تو زیادہ فائدہ ہوگا۔غرضکہ یہ عمل بہت ہی پر تاثیر ہے۔(مرقات)
۴؎ اس کی شرح پہلے گز رچکی ہے یعنی کوئی ورد وظیفہ پڑھنے والا نہ اس جیسا وظیفہ پڑھ سکے گا نہ اس جیسا ثواب وظیفہ پاسکے گا،یہ فضیلت دیگر وظیفوں سے ہے۔
|
2303 -[10] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَجَعَلَ النَّاسُ يَجْهَرُونَ بِالتَّكْبِيرِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ ارْبَعُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ إِنَّكُمْ لَا تَدْعُونَ أَصَمَّ وَلَا غَائِبًا إِنَّكُمْ تَدْعُونَ سَمِيعًا بَصِيرًا وَهُوَ مَعَكُمْ وَالَّذِي تَدْعُونَهُ أَقْرَبُ إِلَى أَحَدِكُمْ مِنْ عُنُقِ رَاحِلَتِهِ» قَالَ أَبُو مُوسَى: وَأَنَا خَلْفَهُ أَقُولُ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ فِي نَفْسِي فَقَالَ: «يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى كَنْزٍ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ؟» فَقُلْتُ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ» |
روایت ہے حضرت ابو موسیٰ اشعری سے فرماتے ہیں کہ ہم رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے تو لوگ بلند آواز سے تکبیر کہنے لگے ۱؎ اس پر حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اے لوگو اپنی جانوں پر نرمی کرو ۲؎ تم لوگ نہ بہرے کو پکارتے ہو نہ غائب کو تم تو سمیع بصیر کو پکاررہے ہو۳؎ جو تمہارے ساتھ ہے جسے تم پکار رہے ہو وہ تم میں سے ہر ایک کی سواری کی گردن سے بھی زیادہ قریب ہے۴؎ ابو موسیٰ فرماتے ہیں کہ میں حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کے پیچھے تھا اپنے دل میں کہہ رہا تھا لاحول ولا قوۃ الا بااﷲ تو حضور نے فرمایا اے عبداﷲ ابن قیس کیا میں تم کو جنت کے خزانوں میں ایک خزانہ پر رہبری نہ کروں میں نے عرض کیا ہاں یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم فرمایا ولاحول ولا قوۃ الا باﷲ ہے ۵؎ (مسلم،بخاری) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع