30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مَا عَلَّمْتَنَا"یعنی یہ کلمات بہت افضل ہیں کیونکہ یہ فرشتوں کا ذکر ہے۔اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم ان فرشتوں کی عبادات کو بھی جانتے ہیں اور ان کے حالات سے بھی خبردار ہیں جو آسمانوں میں رہتے ہیں عرشی ہوں یا کرسی والے لہذا حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کو فرش والے انسانوں کے اعمال کی بھی یقینًا خبرہے۔دوسرے یہ کہ جو وردو وظیفے بزرگوں سے منقول ہوں وہ دوسرے وظیفوں سے افضل ہیں،دیکھو فرشتوں کے وظیفے افضل قرار دیا گیا،ایک اعتبار سے فرشتے عام انسانوں سے افضل ہیں۔اگرچہ انسانیت ماہیۃً فرشتہ سے افضل ہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَلَقَدْ کَرَّمْنَا بَنِیۡۤ اٰدَمَ"۔
|
2301 -[8] وَعَن جوَيْرِية أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مِنْ عِنْدِهَا بُكْرَةً حِينَ صَلَّى الصُّبْحَ وَهِيَ فِي مَسْجِدِهَا ثُمَّ رَجَعَ بَعْدَ أَنْ أَضْحَى وَهِيَ جَالِسَةٌ قَالَ: «مَا زِلْتِ عَلَى الْحَالِ الَّتِي فَارَقْتُكِ عَلَيْهَا؟» قَالَتْ: نَعَمْ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَقَدْ قُلْتُ بَعْدَكِ أَرْبَعَ كَلِمَاتٍ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ لَوْ وُزِنَتْ بِمَا قُلْتِ مُنْذُ الْيَوْمِ لَوَزَنَتْهُنَّ: سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ عَدَدَ خَلْقِهِ وَرِضَاءَ نَفْسِهِ وَزِنَةَ عَرْشِهِ وَمِدَادَ كَلِمَاته ". رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت جویریہ سے ۱؎ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم ان کے پاس سےگزرے جب کہ نماز فجر پڑھی وہ اپنی مسجد میں تھیں ۲؎ پھر دوپہر کے بعد واپس ہوئے وہ وہاں ہی بیٹھی تھیں۳؎ فرمایا کیا تم اسی طرح بیٹھی ہو جیسے میں تمہیں چھوڑ گیا تھا عرض کیا ۴؎ ہاں تب نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ میں نے تمہارے پیچھے چار کلمے تین دفعہ پڑھ لیے ۵؎ اگر انہیں تمہارے تمام وظیفوں سے تولا جائے جو تم نے سارے دن میں پڑھے تو ان پر بھاری ہوجائیں ۶؎ "سبحان اﷲ وبحمدہ عدد خلقہ ورضانفسہ وزنۃ عرشہ ومداد کلماتہ"۷؎ (مسلم) |
۱؎ حضرت جویریہ بنت حارث حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کی زوجہ مطہرہ ہیں،مسلمانوں کی والدہ،آپ کا نام برہ تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بدل کر جویریہ رکھا،آپ ۵ھ میں غزوہ مریسیع میں گرفتار ہوکر حضرت ثابت بن قیس کے حصہ میں آئیں انہوں نے آپ کو مکاتب کردیا ،ان کابدلِ کتابت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ادا کیا اور انہیں آزاد کر کے ان سے نکاح کیا ،۶۵ سال عمر شریف ہوئی ،ربیع الاول ۵۶ھ میں وفات پائی رضی اللہ عنہا۔
۲؎ یعنی حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم بعد نماز فجر آپ کے دولت خانہ سے باہر تشریف لے گئے اسوقت آپ اپنے مصلے پر بیٹھی ہوئی ذکر اﷲ اور وظیفہ پڑھ رہی تھیں،مسجد سے مراد مصلے ہے یعنی سجدہ گاہ یا وہ جگہ جو گھر میں نماز کے لیے خاص کرلی جائے۔
۳؎ یعنی حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نماز چاشت کے وقت (دوپہر کو) آپ کے پاس واپس آئے تو انہیں اسی مصلے پر اسی طرح بیٹھے دیکھا،اﷲ اکبر یہ ہے ازواج پاک کا شوق عبادت۔
۴؎ خیال رہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم پر اپنی نیکیاں ظاہرکرنا ریا نہیں بلکہ ذریعۂ قبولیت ہے،اسی طرح حضور انورصلی اللہ علیہ و سلم سے اپنے گناہ عرض کرنا پردہ دری نہیں بلکہ معافی کا ذریعہ ہے۔
۵؎ یعنی ہم نے تمہارے پاس سے جانے کے بعد یہ وظیفہ پڑھ لیا جو عمل میں بہت ہلکا اور آسان ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع