دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم

2299 -[6]

وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ: قَالَ: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «أَيَعْجِزُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَكْسِبَ كُلَّ يَوْمٍ أَلْفَ حَسَنَةٍ؟» فَسَأَلَهُ سَائِلٌ مِنْ جُلَسَائِهِ: كَيْفَ يَكْسِبُ أَحَدُنَا أَلْفَ حَسَنَةٍ؟ قَالَ: «يُسَبِّحُ مِائَةَ تَسْبِيحَةٍ فَيُكْتَبُ لَهُ أَلْفُ حَسَنَةٍ أَوْ يُحَطُّ عَنهُ ألفُ خطيئةٍ» . رَوَاهُ مُسلم وَفِي كِتَابه: فِي جَمِيعِ الرِّوَايَاتِ عَنْ مُوسَى الْجُهَنِيِّ: «أَوْ يُحَطُّ» قَالَ أَبُو بكر البرقاني وَرَوَاهُ شُعْبَةُ وَأَبُو عَوَانَةَ وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقطَّان عَن مُوسَى فَقَالُوا: «ويحُطُّ» بِغَيْر ألف هَكَذَا فِي كتاب الْحميدِي

روایت ہے حضرت سعد ابن ابی وقاص سے فرماتے ہیں ہم رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس تھے تو حضور نے فرمایا کیا تم میں سے کوئی اس سے عاجز ہے کہ روزانہ ایک ہزار نیکیاں کر لیا کرے ہم نشینوں میں سے کسی نے پوچھا کہ کوئی روزانہ ہزار نیکیاں کیسے کرسکتا ہے ۱؎ فرمایا ایک سو دفعہ سبحان اﷲ پڑھ لیا کرے اس کے لیے ہزار نیکیاں لکھی جائیں گی اور اس کی ہزار خطائیں معاف کی جائیں گی ۲؎ (مسلم)اس کتاب مسلم میں ابو موسیٰ جھنی سے تمام روایات میں یوں ہے کہ یا معاف کی جائینگی۳؎ ابوبکر برقانی فرماتے ہیں۴؎ کہ اسے شعبہ و ابوعوانہ اور یحیی ابن سعید قطان نے حضرت موسیٰ سے روایت کی ان سب نے ویحط فرمایا الف کے بغیر (کتاب حمیدی میں اسی طرح ہے)۵؎

۱؎ یعنی مسلسل روزانہ ایک ہزار نیکیاں کرتے رہنا طاقت انسانی سے باہر ہے،یہ عام انسانوں کا حال ہے ورنہ بعض مخصوص بندے تو ہر سانس میں نیکی کرتے ہیں۔

۲؎  ظاہر یہ ہے کہ یہاں اَوْ بمعنی واؤ ہے یعنی سو بار سبحان اﷲ پڑھ لینے سے پڑھنے والوں کو ہزار نیکیاں بھی ملیں گی اور اس سے ہزار گناہ بھی معاف ہوں گے اور اگر اَوْ اپنے ہی معنی میں ہو تو مطلب یہ ہوگا کہ یہ رب تعالٰی کے کرم پرموقوف ہے چاہے تو اسے ہزار نیکیاں دے چاہے اس کے ہزار گناہ معاف کردے۔خطیئتہ سے معلوم ہوا کہ گناہ صغیرہ معاف ہوں گے حقوق العباد اور گناہ کبیرہ کی معافی اس سے نہ ہوگی۔

۳؎ یعنی مسلم شریف میں حضرت موسیٰ جُہنّی سے بہت سی روایات منقول ہیں ان سب میں اَوْ ہے،یہ موسیٰ جہنی ابن عبداﷲ ہیں، قبیلہ جہنیہ سے ہیں،کوفی ہیں،انہوں نے حضرت مجاہد مصعب ابن سعد سے روایات لیں اور ان سے شعبہ،یحیی ابن سعید قطان نے احادیث نقل کیں۔

۴؎ آپ ابوبکر احمد ابن محمد خوارزمی برقانی ہیں،برقان خوارزم کی ایک بستی کا نام ہے۔

۵؎ یعنی ان روایات میں اَوْ نہیں بلکہ واؤ ہے یعنی اس کو ہزار نیکیاں بھی ملتی ہیں اور اس کے ہزار گناہ بھی معاف ہوتے ہیں لیکن اگر پہلی روایت میں اَوْ بمعنی واؤ ہو یا یہاں واؤ تنویع یعنی بیان نوعیت کے لیے ہو تو دونوں روایتوں میں کوئی فرق نہیں اور ہوسکتا ہے کہ پہلی روایت میں رب تعالٰی کے قانون کا ذکر ہو اور اس روایت میں اس کے فضل و کرم کا رب تعالٰی فرماتاہے:"مَنۡ جَآءَ بِالْحَسَنَۃِ فَلَہٗ عَشْرُ اَمْثَالِہَا"۔ دوسرے مقام پر فرماتاہے:"وَاللہُ یُضٰعِفُ لِمَنۡ یَّشَآءُ"۔

2300 -[7]

وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الْكَلَامِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: " مَا اصْطَفَى اللَّهُ لِمَلَائِكَتِهِ: سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ ". رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت ابوذر سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا گیا کون سا کلام افضل ہے فرمایا جو اﷲ تعالٰی نے اپنے فرشتوں کے لیے منتخب فرمایا سبحان اﷲ وبحمدہٖ ۱؎ (مسلم)

۱؎ یعنی سارے فرشتے ہمیشہ یہ پڑھا کرتے"سُبْحَانَ اﷲِ وَبِحَمْدِہٖ"اسی لیے فرشتوں نے عرض کیا تھا"نَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِکَ وَنُقَدِّسُ لَکَ"فرشتوں کاہمیشہ یہ پڑھنا اﷲ تعالٰی کی تعلیم سےہے نہ کہ اپنی رائےسے۔ قرآن کریم میں ہے"لَاعِلْمَ لَنَاۤ اِلَّا

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن