30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
2295 -[2] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَأَنْ أَقُولَ: سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِمَّا طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْس".رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے میرا سبحان اﷲ،الحمدﷲ اور لا الہ الا اﷲ واﷲ اکبر کہنا مجھے اس سب سے پیارا ہے جس پر سورج طلوع ہو ۱؎ (مسلم) |
۱؎ یعنی یہ کلمات مجھے ساری دنیا سے پیارے ہیں کیونکہ دنیا فانی ہے اور ان کا ثواب باقی،نیز دنیا رب تعالٰی سے غافل کرنے والی ہے اور یہ سب رب تعالٰی کی یاد دلانے والے۔خیال رہے کہ"ما طلعت علیہ الشمس" سے مراد ساری دنیا ہے زمین یا زمین کی چیزیں ہوں یا آسمان اور آسمان کی چیزیں،رہا قرآن وحدیث ہماری عبادات وغیرہ اس سے علیحدہ ہیں کہ یہ چیزیں اگرچہ دنیا میں ہیں مگر دنیا نہیں نہ ان میں دنیا ہے لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ یہ کلمات اور ان کے پڑھنے پربھی تو سورج طلوع ہوتاہے اور یہ بھی تو دنیا میں ہیں۔صوفیاءفرماتے ہیں کہ دل دنیا میں رکھو مگر دل میں دنیا نہ رکھو ورنہ ہلاک ہوجاؤ گے،کشتی دریا میں رہے تو خیر ہے لیکن اگر دریا کشتی میں آجائے تو ہلاکت ہے۔
|
2296 -[3] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ قَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ فِي يَوْمٍ مِائَةَ مَرَّةٍ حُطَّتْ خَطَايَاهُ وَإِنْ كَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ " |
روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو دن میں سو بار سبحان اﷲ وبحمدہ پڑھے ۱؎ تو اس کی تمام خطائیں بخش دی جائیں گی اگرچہ کف دریا یعنی سمندر کے جھاگ برابر ہوں ۲؎ (مسلم،بخاری) |
۱؎ خواہ بیک وقت یا مختلف اوقات میں صبح کے وقت پڑھےیا شام کو یا کسی اور وقت میں۔غرضکہ کوئی پابندی نہیں اگرچہ بہتر یہ ہے کہ صبح یا شام پڑھے جیساکہ دوسری روایا ت میں ہے۔
۲؎ یعنی بے حدوبے شمار خطاؤں سے مراد گناہ صغیرہ ہیں جو حقوق اﷲ کے متعلق ہوں،حقوق شرعیہ اور حقوق العباد اس سے علیحدہ ہیں لہذا فوت شدہ نماز،روزے،بندوں کے قرض اس وظیفہ سے معاف نہ ہوجائیں گے وہ تو ادا ہی کرنے ہوں گے لہذا حدیث پرکوئی اعتراض نہیں۔
|
2297 -[4] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ قَالَ حِينَ يُصْبِحُ وَحِينَ يُمْسِي: سُبْحَانَ اللَّهِ وَ بِحَمْدِهِ مِائَةَ مَرَّةٍ لَمْ يَأْتِ أَحَدٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِأَفْضَلَ مِمَّا جَاءَ بِهِ إِلَّا أَحَدٌ قَالَ مِثْلَ مَا قَالَ أَوْ زَادَ عَلَيْهِ) |
روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو صبح و شام کے وقت سبحان اﷲ وبحمدہ سو بار پڑھ لیا کرے ۱؎ تو قیامت کے دن کوئی شخص اس سے بہتر عمل نہ لائے گا اس کے سوا جو اس طرح یا اس سے زیادہ پڑھا کرے ۲؎ (مسلم،بخاری) |
۱؎ یا اس طرح کہ کچھ تو صبح کے وقت پڑھ لیا کرے کچھ شام کے وقت یا اس طرح کہ صبح کو سو بار پڑھے اور شام کو بھی یعنی روزانہ دو سو بار یہ ہی بہتر ہے۔صبح سے مراد پو پھٹنے سے زوال تک کا وقت ہے اور شام سے مراد زوال سے لے کر صبح صادق تک
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع