30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۳۴؎ قادرومقتدر دونوں قدرت سے بنے مگر مقتدر میں مبالغہ ہے۔قادر جو مختار ہوچاہے کرے یا نہ کرے دے یا نہ دے،مقتدر وہ کہ اپنے کسی کام میں کسی کی مدد کا حاجت مند نہ ہو۔
۳۵؎ یا ذاتًا آگے پیچھے کرنے والا جیسے اسباب کو آگے کردیا یا مسببات کو پیچھے،ماں باپ کو آگے اولاد کو پیچھے فرمادیا یا صفاتًا کہ انبیاء و اولیاء کو درجے و مراتب میں سب سے آگے فرمادیا یا دوسروں کو ان کے پیچھے لگادیا یا ہمارے حضور کو آگے بھی کردیا کہ حضور ہی کا نور سب سے پہلے پیدا ہوا(صلی اللہ علیہ و سلم )اور پیچھے بھی فرمادیا کہ آپ کا ظہور پیچھے ہوا(صلی اللہ علیہ و سلم)اس آگے پیچھے کے لذیذ معانی ہماری کتاب"شان حبیب الرحمن"میں ملاحظہ فرمائیے۔
۳۶؎ اس طرح کہ ہمیشہ سے ہے جس کی ابتداء نہیں لہذا وہ آگے ہے اور ہمیشہ تک رہے گا جس کی انتہاء نہیں لہذا وہ سب سے پیچھے بھی ہے یا وجود میں اول ہے سلوک میں آخر یا سب کی ابتداءبھی اسی سے ہے لہذا اول ہے اور سب کی انتہاءبھی اس پر لہذا وہ آخر سب اسی کی طرف لوٹیں گے۔شعر
نہ گل چمن میں رہے گا نہ گل میں بو باقی مٹیں گے سارے تجھی پر رہے گا تو باقی
۳۷؎ صفات،رحمت عطا سے سب پرکھلا ذات سب سے چھپی۔شعر
بے حجابی میں یہ کہ ہر ذرہ میں جلوہ آشکار اس پہ یہ پردہ کہ صورت آج تک نادیدہ ہے
یار تیرےحسن کو تشبیہ دوں کس چیزسے ایک تو ہی دیدہ ہے تیرے سوا نا دیدہ ہے
۳۸؎ یعنی سب کا والی وارث،سب کے خیال و وہم سے بالا،تمام عیوب سے منزہ،سب پر احسان فرمانے والا کہ جسے جو دیا اپنے کرم سے دیا نہ کہ اس کے استحقاق سے،بڑے بڑے گنہگاروں کی توبہ قبول فرماکر انہیں بخشنے والا،بار بار توبہ کی توفیق دینے والا بلکہ گنہگاروں کو پکار پکار کر بلانے والا کہ"لَا تَقْنَطُوۡا مِنۡ رَّحْمَۃِ اللہِ"،"اِنَّ اللہَ یَغْفِرُ الذُّنُوۡبَ جَمِیۡعًا"جب وہ توبہ کی توفیق دیتاہے تو بندہ توبہ کرتا ہے فرماتاہے: "ثُمَّ تَابَ عَلَیۡہِمْ لِیَتُوۡبُوۡا"توبہ بندے کی بھی صفت ہے،بمعنی گناہوں سے رجوع کرنا اور رب کی صفت ہے،بمعنی ارادۂ عذاب سے رجوع فرمالینا۔
۳۹؎ یعنی کفار غدار سے بدلہ لینے والا،مؤمن گنہگار کو معافی دینے والا وہ عدل ہے یہ فضل،غفور سے عفو زیادہ مبالغہ ہے کہ غفر کے معنے ہیں چھپانا،عفو کے معنے ہیں مٹانا،غفور عیبی کے عیب چھپانے والا عفو عیبوں کو مٹانے والا۔
۴۰؎ رؤف رافتہ سے بنا،بمعنی بے حد رحمت جس کی انتہاء نہ ہو۔بعض عشاق نے فرمایا کہ بندے کی حاجت کی بنا پر احسان کرنا رحمت ہے اور اپنی عادت کی بنا پر احسان فرمانا رافتہ،ملک ظاہر خلق ہے اور ملکوت باطنی خلق،اﷲ تعالٰی ہمارے جسموں کا مالک ہماری روح کا مالک لہذا وہ مالک الملک بھی اور مالکِ ملکوت بھی۔
۴۱؎ ذوالجلال رب کی صفت ذایتہ ہے اور اکرام اس کی صفت فعلیہ یعنی جلال اسکی ذات میں ہے اور اکرام مخلوق پر ہے،بعض نے فرمایا کہ یہ اسم اعظم ہے۔
۴۲؎ قسط کے معنےظلم بھی ہیں،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَاَمَّا الْقٰسِطُوۡنَ فَکَانُوۡا لِجَہَنَّمَ حَطَبًا" اوربمعنی عدل و انصاف بھی، رب تعالٰی فرماتاہے:"وَاَقِیۡمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ"مگر جب یہ باب افعال میں آئے تو عدل و انصاف ہی کے معنے میں ہوتا ہے یعنی عدل
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع