30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۲۷؎ ولی یا تو ولی سے ہے،بمعنی قرب یا ولایۃ سے،بمعنی والی ہونا یا مدگار ہونا یعنی اﷲ تعالٰی اپنے دوستوں کی ان کے دشمنوں کے مقابل مدد فرمانے والا ہے یا ان کا والی وارث و متولی امور ہے،فرماتاہے:"وَ اللہُ وَلِیُّ الْمُتَّقِیۡنَ" اور فرماتاہے:"اَللہُ وَلِیُّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا"یا اﷲ تعالٰی اپنے دوستوں سے قریب ہے۔حمید حمد سے بنا،بمعنی اسم فاعل یا بمعنی اسم مفعول یعنی اﷲ اپنے محبوبوں کی حمد فرماتا ہے اسی لیے اس کا نام حامد ہے اور حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کا نام محمد۔خیال رہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کا نام محمد ہے یعنی بہت ہی حمد کئے ہوئے اور رب کا نام ہے محمود یعنی حمد کیا ہوا کیونکہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم تو اﷲ کے محمد ہیں اور اﷲ تعالٰی حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کا محمود اور ظاہر ہے کہ اﷲ کی حمد بہت اعلیٰ اس لیے حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کی محمودیت بہت اکمل۔
۲۸؎ محصی احصاءسے بنا،بمعنی شمار کرنا اور گننا یعنی اﷲ تعالٰی ایسا علیم ہے کہ سب کو تفصیلی عدد وار جانتا ہے اس کا علم گول مول اجمالی نہیں جیسے عظیم الشان مجمع دیکھ کر ہم کو مجمع کا اجمالی علم ہوجاتا ہے کہ دس ہزار آدمی ہیں مگر ان کی تفصیل نہیں معلوم ہوتی بلکہ اس کا علم تفصیلی ہے اس نے خلق کو پہلے پیدا کیا لہذا وہ مبدی ہے وہ قیامت میں سب کو دوبارہ اٹھائے گا وہ معید ہے یا اس نے ہم کو پہلے مٹی سے بنایا لہذا وہ مبدی ہے اور وہ ہی ہم کو موت دے کر پھر مٹی ہی میں لوٹا دیتا ہے لہذا وہ معید ہے۔خیال رہے کہ مردہ خواہ دفن ہو یا جلا دیا جائے یا اسے جانور کھا جائے آخر کار بنتا مٹی ہی ہے کہ جل کر راکھ بنا یا جانور کے پیٹ میں پاخانہ بنا،پھر وہ راکھ یا پاخانہ مٹی بن گئی،رب تعالٰی نے فرمایا:"مِنْہَاخَلَقْنٰکُمْ وَفِیۡہَا نُعِیۡدُکُمْ"بالکل حق ہے۔
۲۹؎ کہ جسموں کو جان سے اور جان کو ایمان سے،جنان کو عرفان سے،انسان کو علم و معرفتِ رحمان سے، زمین کو سبزوں سے زندگی بخشتا ہے،پھر کفار کو کفر سے،غافلوں کو غفلت سے موت دیتا ہے۔
۳۰؎ یعنی وہ خود زندہ و قائم ہے دوسروں کو زندہ و قائم رکھتا ہے کہ تمام کی بقاء اسی سے ہے اگر اس سے نسبت نہ رہے تو کوئی کچھ نہ رہے۔صوفیاء کی اصطلاح میں ولایت کا ایک درجہ بھی قیومیت کہلاتا ہے جس پر پہنچ کر بندہ قیوم کہلاتا ہے،وہاں قیوم کے معنے ہیں باعث قیام عالم۔لفظ قیوم ایک ہے مگر رب تعالٰی کے لیے ایک معنی ہیں اور بندے کے لیے دوسرے معنے میں جیسے حیی،سمیع،بصیر اﷲ تعالٰی کی بھی صفت ہے اور اس کے بندوں کی بھی مگر مختلف معنے سے اسی لیے اولیاءاﷲ کو قیوم اول،قیوم ثانی وغیرہ کہاجاتاہے۔
۳۱؎ کہ وہ ہی واجب الوجودہے سب اسی کے موجود کرنے سے موجود ہیں،حقیقی بزرگی اسی کی ہے اور سب اس کے بنانے سے بزرگ بنے،واحد بمعنی کامل وجود و ہستی والا۔
۳۲؎ واحد بمعنی ایک اور احد بمعنی اکیلا ویگانہ یعنی ذاتًابھی ایک کہ اس کے سوا دوسرا رب نہیں صفاتًا بھی ایک کہ اس جیسا کوئی نہیں،افعالًا بھی ایک کہ اس جیسا کوئی جمیل افعال والا نہیں لہذا واحد اور احد میں تکرار نہیں۔
۳۳؎ صمد کے بہت معنے ہیں:وہ مالک جہاں سرداری و مالکیت ختم ہے۔وہ بے خوف جسےکسی کا ڈر نہیں حاجت و آفت سے منزہ و بری و باقی جسے فنا نہیں،وہ مولے جس پر سارے بندے بھروسہ و توکل کریں۔صمود سے مشتق،بمعنی مقصد و ارادہ یعنی لائق توکل و بھروسہ اسی کی ذات ہے۔شیخ نے فرمایا کہ اس اسم کی تجلی جس پر پڑ جائے وہ کونین سے بے نیاز ہوجاتا ہے،دیکھو حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے علم و ایمان و عرفان کسی سے حاصل نہ کیا سب نے سب کچھ حضور سے حضور نے اپنے پروردگار سےصلی اللہ علیہ وسلم ،یہ ہے صمد کی تجلی۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع