دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم

والا۔امام غزالی نے فرمایا کبیر کمال ذاتی اور جلیل کمال صفاتی پر دال ہے۔کریم وہ ہے جو مجرم پر قادر ہوکر معافی دے دے،وعدہ کرے پورا کرے اور امید سے زیادہ دے اور اپنے پناہ لینے والے کو ضائع نہ کرے تمام وسیلوں سے بے نیاز ہو۔غرضکہ ایک لفظ کریم محامد کا مجموعہ ہے۔رقیب وہ حافظ جس کی حفاظت سے کوئی چیز ایک لمحہ کے لیے باہر نہ ہوسکے،رقابت میں علم و حفظ ہے لزوم ہے۔

۲۲؎ مجیب کے معنے ہیں پکارنے والے کو جواب دینے والا یا مانگنے والوں کی دعائیں،آرزوئیں پوری کرنے والا بلکہ ہماری پیدائش سے پہلے ہماری ضروریات پوری فرمانے والا۔شعر

مانہ بودیم و تقاضائے مانبود                                         لطف تو باگفتہ مامے شنود

واسع وسعت سے بنا،بمعنی فراخی یا احاطہ۔رب ایسا واسع ہے کہ اس کا علم اس کی قدرت،رحمت،حکمت اور اس کی عطا فرش کو گھیرے ہے"وَسِعَ کُرْسِیُّہُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرْضَ"۔کرسی کی نہایت نفیس تفسیر ہماری"تفسیرنعیمی"میں ملاحظہ کیجئے آیت الکرسی کے ماتحت۔

۲۳؎  حکیم حکم سے ہے یا حکمت سے یعنی ہر چیز پر اعلیٰ حاکم کہ اس کے فیصلہ پر کسی کو دم مارنے کی مجال نہیں یا اس کا ہر کام حکمت سے ہے کوئی چیز عبث نہیں بنائی۔ودود  ودٌّ سے بنا،بمعنی صحیح محبت یعنی اپنے دوستوں سے ان کے اچھے اعمال سے محبت فرمانے والا،اپنے محبوب صلی اللہ علیہ و سلم کی ہر ادا کو پسند فرمانے والا۔مجید مجد سے بنا،بمعنی بزرگی یعنی ایسی بزرگی والا کہ اس کی بزرگی تک کسی کے وہم کی رسائی نہیں یا ہر طرح بزرگ کہ اس کی ذات و صفات و افعال سب بزرگ۔باعث بعث سے بنا،بمعنی اٹھانا یعنی سوتوں کو نیند سے،مردوں کو قبروں سے،مردہ دلوں کو علم سے اٹھانے والا۔غرضکہ باعث میں بہت وسعت ہے۔

۲۴؎  شہید شہادت سے بنا یا شہود سے یعنی رب تعالٰی بندے کے ہر عمل کا گواہ ہے کہ وہ ہر وقت ہر عمل کو مشاہدہ کررہا ہے یا ہر جگہ حاضر ہے مؤمنوں کے ایمان میں حاضر،عارفوں کی جان میں حاضر۔خیال ر ہے کہ رب تعالٰی کا نام شہید ہے حاضر نہیں کیونکہ رب کی ذات جسمانی یا مکانی حضور سے پاک ہے اور اس کا علم و قدرت و رحمت ہر جگہ موجود ہے۔حضور و شہود میں بڑا فرق ہے رب کی ذات ہر جگہ میں نہیں کہ مکان سے پاک و منزہ ہے۔

۲۵؎  حق باطل کا مقابل ہے،باطل بمعنی معدوم ہے تو حق بمعنی ثابت و موجود،رب تعالٰی ایسا موجود ہے کہ اس کے وجود کو فنا نہیں اور تمام موجودات اس کے کرم سے موجود ہیں جیسے تمام دھوپیں اور سایے آفتاب کے فیض سے ہیں۔رب تعالٰی گویا سورج ہے حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم گویا دیوار،ساری خلق اس دیوار کا سایہ کہ اگر درمیان سے حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کی ذات ہٹ جائے تو رب ہی ہو خلقت ختم ہوجائے۔مصرع اصل سے ہے ظل بندہا تم پہ کروڑوں درود۔

۲۶؎ امام غزالی نے فرمایا کہ قوت کے معنے ہیں کامل قدرت اور متانت کے معنے ہیں اس قدرت کی پختگی و مضبوطی،رب تعالٰی فرماتاہے:"ذُو الْقُوَّۃِ الْمَتِیۡنُ"یعنی وہ مضبوط قدرت و طاقت والا ہے۔حول،قوت، قدرت میں بڑافرق ہے جسے مرقات نے اس جگہ بہت تفصیل سے بیان کیا۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن