30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جھولیاں سب کی بھرتی رہتی ہیں دینے والا نظر نہیں آتا
ایسی نعمتیں دینے والا جو بندے کو دونوں جہان میں کام آئیں یا لطیف و باریک چیزوں کا دیکھنے جاننے والا۔چیز کے معنے ہیں ہر وقت ہر ظاہر و باطن پر اطلاع رکھنے والا بلکہ ہماری پیدائش سے پہلے ہمارے ہر حال سے خبردار۔
۱۷؎ حلم کے معنے ہیں آہستگی و بردباری یعنی رب تعالٰی مستحق سزا کو جلدی نہیں پکڑتا توبہ کی مہلت دیتا ہے یا دنیا میں بُروں پر بھی کرم و مہربانی فرماتا ہے۔عظیم عظمت سے بنا،بمعنی بڑائی،بڑائی جسمانی بھی ہوتی ہے اور رتبے و عزت کی بھی،یہاں عظمت و عزت کی بڑائی مراد ہے یعنی ایسی عظمت والا کہ کسی کا گمان و وہم وہاں کام نہ کرسکے۔شعر
تو دل میں تو آتا ہے سمجھ میں نہیں آتا پہچان گیا میں تیری پہچان یہی ہے
۱۸؎ غفار کے معنے بھی ہیں بخشنے والا اور غفور کے معنے بھی ہیں بخشنے والا۔بہت سے گناہوں کو بخشنے والا غفار،ہمیشہ بڑے گناہوں کو بخشنے والاغفور،یعنی غفار میں مقدار کا مبالغہ ہے اور غفور میں کیفیت کا مبالغہ۔شعر
گنہِ رضاؔ کا حساب کیا وہ اگرچہ لاکھوں سے ہیں سوا
مگر اے غفور ترے عفو کا حساب ہے نہ بے شمار ہے
شکر جب بندے کی صفت ہو تو اس کے معنے ہیں انعام پاکر منعم کی حمدوثناء بجالانا اور جب رب تعالٰی کی صفت ہو تو معنے ہوتے ہیں تھوڑے عمل پر بہت فضل فرمانا جس کا ترجمہ قدر دان بہت مناسب ہے کہ وہ کریم نہ بندہ کے لائق جزاء دیتا ہے نہ اس کے کام کے لائق بلکہ اپنی شان کے لائق دیتا ہے،ایک نیکی پر ہزاروں جزائیں،ایک نماز پر وضو کرنے کی جزاء علیٰحدہ،مسجد کے ہر قدم کی جزاء علیٰحدہ،پھر مسجد میں آکر انتطار نماز کی جزاء علیٰحدہ،پھر نماز میں قیام کی جزاء علیٰحدہ،رکوع کی سجود کی قرأت و تسبیح کی جزاء علیٰحدہ،بعدنماز دعا مانگنے کی جزائیں علیحدہ علیٰحدہ۔غرض اس کی عطا کا شمار نہیں ہر عبادت کا یہ ہی حال ہے اے شکور اس بندہ گنہگار کی یہ محنت قبول فرما اور اسے صدقہ جاریہ بنا۔آمین بجاہ حبیبك الکریم!
۱۹؎ بلندی صفائی رکھنے والا علی اور بلندی ذات والا کبیر۔صوفیاء فرماتے ہیں کہ علی وہ جس کے صفات تک عقل نہ پہنچ سکے۔کبیر وہ جس کے تصور ذات سے ذہن عاجز ہو۔علی کا مقابل حقیر ہے،کبیر کا مقابل صغیر۔حق تعالٰی کا رتبہ سب سے اونچا سارے رتبہ والے اس سے نیچے۔اﷲ تعالٰی نے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ و سلم پر اپنی تمام صفات کی عمومًا اور ان دو صفتوں کی خصوصًا تجلی ڈالی ہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کی ذات و صفات ہمارے وہم و گمان سے وراء ہیں۔شعر
اﷲ اﷲ آپ کا رتبہ صلی اللہ علیہ و سلم پڑھتی ہے دنیا رُتبے کا خطبہ صلی اللہ علیہ و سلم
۲۰؎ کہ تمام عالم اور عالم کی چیزوں کا بربادی سے محفوظ رہنا اس کی حفاظت کے باعث ہے ہمارے مزاج میں چار دشمنوں کو جمع فرمادیا،پھر ان میں سے ہر ایک محفوظ،یہ ہے اس کی شان حفیظی۔مقیت قوت سے بنا،بمعنی روزی یعنی جسمانی،جنانی،روحانی روزیاں پیدا فرمانے والا اور ہر ایک کو اس کے لائق روزی دینے والا کہ چیونٹی کو کن ہاتھی کو من دیتا ہے۔رزق و قوت میں فرق ہے اسی طرح رزاق اور مقیت میں فرق ہے۔
۲۱؎ حسیب بمعنی کافی بھی ہے یعنی اﷲ ہر بندے کو ہر طرح کافی بھی ہے اسی واسطے بندے کہتے ہیں حسبی اﷲ،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَمَنۡ یَّتَوَکَّلْ عَلَی اللہِ فَہُوَحَسْبُہٗ"یا بمعنی حساب لینے والا کہ ساری خلق کا حساب چار گھنٹے میں لے لوں گا"اِنَّ اللہَ سَرِیۡعُ الْحِسَابِ"یا دنیا میں ہر بندے کو حساب سے روزی دے رہا ہے۔جلیل کے معنے ہیں صفات جلالیہ سے موصوف یعنی بزرگی،جلالت و قدر
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع