30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱؎ سبحان اﷲ! کیسا پیارا اور جامع سوال ہے کہ ایسا بندہ کون ہے جس کا ثواب بھی زیادہ ہو اور قرب الٰہی بھی زیادہ۔ خیال رہے کہ ثواب اور ہے قرب و درجہ کچھ اور۔ اگر بادشاہ کسی موقع پر ایک سپاہی کو لاکھ روپیہ انعام دے دے اور وزیر کو کچھ نہ دے اس وقت اگرچہ انعام سپاہی نے پایا مگر درجہ وزیر ہی کا زیادہ ہے۔
۲؎ ذکر سے مراد زبان و دل کے سارے ہی ذکر ہیں خصوصًا وہ ذکر جو احادیث شریفہ میں مذکور ہیں کہ وہ دوسرے ذکروں سے بہتر ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ ذکر اﷲ زیادتی ثواب کا بھی ذریعہ ہے اور زیادتی قر ب الٰہی کا بھی وسیلہ، دین ودنیا کی نعمتیں ذکر اللہ سے ملتی ہیں ،زیادتی ذکر سے مراد ہے کہ اس کے اکثر اوقات ذکر میں گھیرے ہوں، دوسرے مشغلوں کے لئے بہت کم وقت بچے ۔(مرقات ، لمعات)
احادیث شریفہ میں مذکور ہیں کہ وہ دوسرے ذکروں سے بہتر ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ ذکر اﷲ زیادتی ثواب کا بھی ذریعہ ہے اور زیادتی قرب الٰہی کا بھی وسیلہ،دین و دنیا کی نعمتیں ذکر اﷲ سے ملتی ہیں،زیادتی ذکر سے مراد ہے کہ اس کے اکثر اوقات ذکر میں گھرے ہوں دوسرے مشغلوں کے لیے بہت کم وقت بچے۔(مرقات و لمعات)
۳؎ بعض غازی غنیمت کے لیے بعض ملک جیتنے کی غرض سے بعض اپنی شجاعت دکھانے بعض اسلام پھیلانے کے لیے کفار پر جہاد کرتے ہیں ان سب میں فی سبیل اﷲ غازی کون ہے۔
۴؎ اس طرح کہ غازی اپنے خون میں لتھڑ جائے یعنی شہید ہوجائے۔خلاصہ یہ ہے کہ یہ شخص غازی بھی درجہ اول کا ہو اور شہید بھی اعلیٰ مرتبہ کا۔
۵؎ اس کی وجہ ظاہر کہ ذکر مقصودی عبادت ہے اور جہاد غیر مقصودی عبادت کیونکہ جہاد اﷲ کا ذکر پھیلانے ہی کے لیے تو ہوتا ہے،نیز جہاد ہے غازی کا کام اور ذکر اﷲ میں ہے اﷲ کا نام یقینًا رب تعالٰی کا نام ہمارے کام سے بہتر ہے نیز جہاد کی جزا ہے جنت اور ذکر اﷲ کی جزاء ہے ذکر عبدہ ۔رب تعالٰی فرماتاہے:"فَاذْکُرُوۡنِیۡۤ اَذْکُرْکُمْ"کہ یہاں درجہ سے مراد جنسی درجہ ہے نہ کہ شخصی درجہ یعنی ذاکر مجاہد سے بدرجہا بہتر ہے اشارۃً یہ بھی فرمایا گیا کہ بوقت جہاد غازی اﷲ کا ذکر کرتا رہے کوئی نماز حتی المقدور نہ چھوڑے ہاتھ میں تلوار زبان پر ذکر یا ر ہو پھر سبحان اﷲ کیا پوچھنا ہے۔
|
2281 -[21] وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الشَّيْطَانُ جَاثِمٌ عَلَى قَلْبِ ابْنِ آدَمَ فَإِذَا ذَكَرَ اللَّهَ خَنَسَ وَإِذا غفَلَ وسوس» . رَوَاهُ البُخَارِيّ تَعْلِيقا |
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے شیطان انسان کے دل پر چمٹا رہتا ہے ۱؎ جب انسان اﷲ کا ذکر کرتا ہے تو ہٹ جاتا ہے اور جب انسان غافل ہوتا ہے تو وہ وسوسے ڈالتا ہے ۲؎(بخاری تعلیقًا) |
۱؎ ظاہر یہ ہے کہ شیطان سے مراد قرین شیطان ہے۔ہر انسان کے ساتھ الگ الگ ایک شیطان رہتا ہے ابلیس مراد نہیں،وہ تو ان تمام شیاطین کا منتظم ہے یعنی شیطان کی منزل انسان کا دل ہے جہاں وہ ایسا چمٹا رہتا ہے جیسے شہد سے مکھی۔ خیال رہے کہ غافل کے دل پر شیطان کی منزل ہے،اور کافر کے دل میں شیطان کا گھر ہے،اس جگہ ابن آدم سے مراد غافل مسلمان ہے نہ کہ کافر جیسا کہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے۔
۲؎ اس سے معلوم ہوا کہ وسوسہ سے غفلت نہیں آتی بلکہ غفلت سے وسوسے آتے ہیں،لہذا ذکر اﷲ و سوسوں کا علاج ہے یہاں ذکر سے مراد مسلمان کا ذکر اﷲ ہے نہ کہ کافر کا، کافر کے دل میں سے شیطان تو ایمان سے نکلے گا،بغیر ایمان اگر سارا قرآن بھی پڑھ لے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع