30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
گناہوں سے بچنے کی توفیق دوں گا اور اگر کبھی ان سے کوئی گناہ ہو بھی جائے گا تو اس کی بخشش کا آج فیصلہ کئے دیتے ہوں،گناہ بخشنا اور ہے گنہگار کو بخشنا کچھ اور یہاں گنہگار کو بخشا گیا ہے۔
۱۳؎ یعنی ذکر اﷲ سننے نہ آیا تھا بلکہ کسی کام کو جارہا تھا راستہ میں یہ مجلس نظر پڑی تو کچھ دیر کے لیے بیٹھ گیا یا کھڑے کھڑے کچھ ذکر سن لیا یہ عرض و معروض اس کو بخشوانے کے لیے ہے۔معلوم ہوا کہ فرشتے ذاکرین کے بڑے خیر خواہ ہیں ہم کو بھی چاہیئے کہ ان کے لیے دعائے خیر کیا کریں،دلائل الخیرات میں بعض دعائیں فرشتوں کے لیے بھی آتی ہیں،ہمیں ان سے کام پڑتا ہے ان سے تعلق رکھنا چاہیئے۔
۱۴؎ یعنی ان مجلس والوں کو تو ذکر کی وجہ سے بخش دیا اور اس گزرنے والے کو ان اچھوں کی صحبت کی برکت سے بخش دیا۔ صوفیائے کرام فرماتے ہیں کہ نیک صحبت ساری عبادات سے افضل ہے دیکھو صحابہ کرام سارے جہان کے اولیاء سے افضل ہیں کیوں اس لیے کہ صحبت یافتہ جناب مصطفی صلی اللہ علیہ و سلم ہیں،اصحاب کہف کا کتا بھی بہترہوگیا اولیاء کی صحبت کی برکت سے۔مرقات نے فرمایا کہ اﷲ کی صحبت اختیار کرو،اگر نہ ہوسکے تو اﷲ کے پاس رہنے والوں کی صحبت کرو مولانا فرماتے ہیں۔شعر
ہر کہ خواہد ہم نشینی باخدا اونشیند در حضور اولیاء
۱۵؎ یعنی ان فرشتوں کے ذمہ سوائے اس گھومنے پھرنے کے اور کوئی ڈیوٹی نہیں بعض صوفیاء ہمیشہ سفر میں رہتے ہیں جہاں عرس وغیرہ مجلس ذکر ہوتی ہیں شرکت کرتے ہیں ان کا ماخذ یہ حدیث ہے۔(مرقات)فضل بعض نسخوں میں ف کے پیش ض کے فتح سے ہے یعنی دوسرے فرشتوں سے افضل۔
۱۶؎ ا س طرح کہ اس ٹوٹی چٹائی پھٹے فرش پر بیٹھ جاتے ہیں جہاں ذاکرین بیٹھے ہیں کوئی اعلیٰ جگہ نہیں ڈھونڈتے تاکہ انہیں فیض دیں اور ان سے فیض لیں۔
۱۷؎ یعنی بعض فرشتے ان بعض انسانوں کو یا بعض فرشتے بعض فرشتوں کو اپنے پروں سے ڈھانپ لیتے ہیں کہ نیچے والے اوپر والوں کے پروں کے سایہ میں ہوجاتے ہیں۔
۱۸؎ معلوم ہوا کہ ذاکرین کی آواز آسمان تک پہنچتی ہے کہ وہاں تک کے فرشتے سنتے ہیں جب بجلی کے ذریعہ آج انسانی آواز ہزار ہا میل تک پہنچتی ہے،تو نورانی آواز کہاں تک پہنچے گی۔
۱۹؎ اس طرح کہ مجلس ختم ہوجاتی ہے اور لوگ اپنے اپنے گھروں یا کاموں کو چلے جاتے ہیں۔
۲۰؎ کیونکہ یہ فرشتے تو صر ف مجلسی ذکر سننے آتے ہیں،اکیلوں کا ذکر سننا ان کا کام نہیں،اس کے لیے دوسرے فرشتے ہیں اس سے بھی معلوم ہوا کہ ذکر بالجہر ذکر خفی سے افضل ہے یہ حدیث حضرات قادریہ چشتیہ کی دلیل ہے حضرات نقشبندیہ کی دلائل دوسری احادیث و آیات ہیں۔
۲۱؎ وہ فرشتے ان بندو ں کے نام اور جگہ کا پورا پتہ عرض کرتے ہیں،سبحان اﷲ! ان لوگوں اور اس جگہ کے بھاگ جاگ جاتے ہیں کہ ذکر الٰہی کی برکت سے معصوموں کی زبان پر بارگاہِ الٰہی میں ان کے نام آجاتے ہیں،مبارک ہیں دینی مدرسے اورخانقاہیں جہاں ہمیشہ ہی اﷲ کا ذکر رہتا ہے۔شعر
زہے مسجد و مکتب و خانقاہے کہ در دے بود قیل و قال محمد
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع