دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم

۵؎ اس عبادت کا یہ مطلب نہیں کہ خدا تعالٰی ولی میں حلول کرجاتا ہے جیسے کوئلہ میں آگ یا پھول میں رنگ و بوکہ خدا تعالٰی حلول سے پاک ہے اور یہ عقیدہ کفر ہے بلکہ اس کے چند مطلب ہیں: ایک یہ کہ ولی اﷲ کے یہ اعضاء گناہ کے لائق نہیں رہتے ہمیشہ ان سے ٹھیک کام ہی سرزد ہوتے ہیں اس پر عبادات آسان ہوتی ہے گویا ساری عبادتیں اس سے میں کرارہا ہوں یا یہ کہ پھر وہ بندہ ان اعضاء کو دنیا کے لیے استعمال نہیں کرتا،صرف میرے لیے استعمال کرتا ہے ہر چیز میں مجھے دیکھتا ہے ہر آواز میں میری آواز سنتا ہے،یا یہ کہ وہ بندہ فنا فی اﷲ ہوجاتا ہے جس سے خدائی طاقتیں اس کے اعضاء میں کام کرتی ہیں اور وہ ویسے کام کرلیتا ہے جو عقل سے وراء ہیں حضرت یعقوب علیہ السلام نے کنعان میں بیٹھے ہوئے مصر سے چلی ہوئی قمیص یوسفی کی خوشبو سونگھ لی،حضرت سلیمان علیہ السلام نے تین میل کے فاصلہ سے چیونٹی کی آواز سن لی حضرت آصف برخیا نے پلک جھپکنے سے پہلے یمن سے تخت بلقیس لاکر شام میں حاضر کردیا۔حضرت عمر نے مدینہ منورہ سے خطبہ پڑھتے ہوئے نہاوند تک اپنی آواز پہنچادی۔حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے قیامت تک کے واقعات بچشم ملاحظہ فرمالیے۔یہ سب اسی طاقت کے کرشمے ہیں آج نار کی طاقت سے ریڈیو تار،وائرلیس ٹیلی ویژن عجیب کرشمے دکھا رہے ہیں تو نور کی طاقت کا کیا پوچھنا اس حدیث سے وہ لوگ عبرت پکڑیں جو طاقت اولیاء کے منکر ہے،بعض صوفیاء جوش میں سبحانی ما اعظم شانی کہہ گئے بعض نے کہا مافی حبیتی الااﷲ یہ سب اسی فنا کے آثار تھے،مولانا فرماتے ہیں۔شعر

چوں روا باشد انا اﷲ ا ز درخت                               کے روانہ بود کہ گوید نیک بخت

۶؎ یعنی وہ بندہ مقبول الدعاء بن جاتا ہے کہ مجھ سے خیر مانگے یا شر سے پناہ میں اس کی ضرور سنتا ہوں۔ معلوم ہوا کہ اولیاء رب تعالٰی کی پناہ میں رہتے ہیں تو جو شخص ان سے دعا کرائے اس کی قبول ہوگی اور جو ان کی پناہ میں آئے وہ رب کی پناہ میں آجائے گا،مولانا جامی فرماتے ہیں۔شعر

یارسول اﷲ بدرگاہت پناہ آوردہ ام                           ہمچو کا ہے آمدم کو ہے گناہ آوردہ ام

۷؎  سبحان اﷲ! کیا نازو انداز والا کلام ہے یعنی میں رب ہوں اور اپنے کسی فیصلہ میں کبھی نہ توقف کرتا ہوں نہ تامل،جو چاہوں حکم کروں،مگر ایک موقعہ پر ہم توقف و تامل فرماتے ہیں وہ یہ کہ کسی ولی کا وقت موت آجائے اور وہ ولی ابھی مرنا نہ چاہے تو ہم اسے فورًا نہیں مار دیتے بلکہ اسے اولًا موت کی طرف مائل کردیتے ہیں جنت اور وہاں کی نعمتیں اسے دکھا دیتے ہیں اور بیماریاں پریشانیاں اس پر نازل کردیتے ہیں جس سے ا س کا دل دنیا سے متنفر ہوجاتا ہے اور آخرت کا مشتاق پھر وہ خود آنا چاہتا ہے اور خوش خوش ہنستا ہوا ہمارے پاس آتا ہے،یہاں تردد کے معنے حیرانی و پریشانی نہیں کہ وہ بے علمی سے ہوتی ہے رب تعالٰی اس سے پاک ہے بلکہ مطلب وہ ہے جو فقیر نے عرض کیا موسیٰ علیہ السلام کی وفات کا واقعہ اس حدیث کی تفسیر ہے حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم فرماتے ہیں کہ انبیاء کرام کو موت و زندگی کا اختیار دیا جاتا ہے وہ حضرات اپنے اختیار سے خوشی خوشی موت قبول کرتے ہیں اور یار خنداں رود بجانب یار کا ظہور ہوتا ہے ڈاکٹر اقبال کہتے ہیں۔شعر

نشان مرد مؤمن با توگویم                                         چوں قضاء آید تبسم برلب اوست

غرضکہ ہماری موت تو چھوٹنے کا دن ہے اور اولیاء انبیاء کی وفات پیاروں سے ملنے کا دن اسی لیے ان کی موت کے دن کو عرس یعنی شادی کا دن کہاجاتاہے۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اﷲ تعالٰی کے ارادہ مشیت،رضا کراہت میں بہت فرق ہے بعض چیزیں رب تعالٰی کو ناپسند ہیں مگر ان کا ارادہ ہے بعض چیزیں پسند ہیں مگر ان کا ارادہ نہیں۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن