30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
2266 -[6] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى قَالَ: مَنْ عَادَى لِي وَلِيًّا فَقَدْ آذَنْتُهُ بِالْحَرْبِ وَمَا تَقَرَّبَ إِلَيَّ عَبْدِي بِشَيْءٍ أَحَبَّ إِلَيَّ مِمَّا افْتَرَضْتُ عَلَيْهِ وَمَا يَزَالُ عَبْدِي يَتَقَرَّبُ إِلَيَّ بِالنَّوَافِلِ حَتَّى أُحِبَّهُ فَإِذَا أَحْبَبْتُهُ كُنْتُ سَمْعَهُ الَّذِي يَسْمَعُ بِهِ وَبَصَرَهُ الَّذِي يُبْصِرُ بِهِ وَيَدَهُ الَّتِي يَبْطِشُ بِهَا وَرِجْلَهُ الَّتِي يَمْشِي بِهَا وَإِنْ سَأَلَنِي لَأُعْطِيَنَّهُ وَلَئِنِ اسْتَعَاذَنِي لَأُعِيذَنَّهُ وَمَا تَرَدَّدْتُ عَنْ شَيْءٍ أَنَا فَاعِلُهُ تَرَدُّدِي عَنْ نَفْسِ الْمُؤْمِنِ يَكْرَهُ الْمَوْتَ وَأَنَا أَكْرَهُ مُسَاءَتَهُ وَلَا بُدَّ لَهُ مِنْهُ ". رَوَاهُ البُخَارِيّ |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ اﷲ تعالٰی فرماتا ہے جو میرے کسی ولی ۱؎ سے عداوت رکھے میں اسے اعلان جنگ دیتا ہوں ۲؎ اور میرے کسی بندے کا بمقابلہ فرائض عبادتوں کے دوسرے ذریعہ سے مجھ سے قریب ہونا مجھے زیادہ پسند نہیں۳؎ اور میرا بندہ نوافل کے ذریعہ سے قریب ہوتا رہتا ہےحتی کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں۴؎ پھر جب اس سے محبت کرتا ہوں تو میں اس کے کان ہوجاتا ہوں جس سے وہ سنتاہے اور اس کی آنکھیں ہوجاتا ہوں جس سے وہ دیکھتاہے اور اس کے ہاتھ ہوجاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے اور اس کے پاؤں بن جاتا ہوں جن سے وہ چلتا ہے ۵؎ اگر وہ مجھ سے مانگتا ہے تو اسے دیتا ہوں اور اگر میری پناہ لیتا ہے تو اسے پناہ دیتا ہوں ۶؎ اور جو مجھے کرنا ہوتا ہے اس میں کبھی میں تردد نہیں کرتا جیسے کہ میں اس مؤمن کی جان نکالنے میں توقف کرتا ہوں جو موت سے گھبراتا ہے اور میں اسے ناخوش کرنا پسند نہیں کرتا ادھر موت بھی اس کے لیے ضروری ہے ۷؎ (بخاری) |
۱؎ ولی اﷲ وہ بندہ ہے جس کا اﷲ تعالٰی والی وارث ہوگیا کہ اسے ایک آن کے لیے بھی اس کے نفس کے حوالے نہیں کرتا بلکہ خود اس سے نیک کام لیتا ہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَہُوَ یَتَوَلَّی الصّٰلِحِیۡنَ"۔اور وہ بندہ ہے جو خود رب تعالٰی کی عبادت کا متولی ہوجائے،پہلی قسم کے ولی کا نام مجذوب یا مراد ہے اور دوسرے کا نام سالک یا مرید ہے وہاں ہر مراد مرید ہے اور ہر مرید مراد فرق صرف ابتداء میں ہے یہ مقام قال سے وراء ہے حال سے معلوم ہوسکتاہے۔
۲؎ یعنی جو میرے ایک ولی کا دشمن ہے وہ مجھ سے جنگ کرنے کو تیار ہوجائے،خدا کی پناہ ۔ یہ کلمہ انتہائی غضب کا ہے صرف دو گناہوں پر بندے کو رب تعالٰی کی طرف سے اعلان جنگ دیاگیا ہے ایک سود خوار دوسرے دشمن اولیاء رب تعالٰی فرماتاہے:"فَاۡذَنُوۡا بِحَرْبٍ مِّنَ اللہِ وَرَسُوۡلِہٖ"۔علماء فرماتے ہیں کہ ولی کا دشمن کافر ہے اور اس کے کفر پر مرنے کا اندیشہ ہے۔(مرقات)خیال رہے کہ ایک ہے ولی اﷲ سے اس لیے عداوت و عناد کہ ولی اﷲ ہے یہ تو کفر ہے اسی کا یہاں ذکر ہے اور ایک ہے کسی ولی سے اختلاف رائے یہ نہ کفر ہے نہ فسق لہذا اس حدیث کی بناء پر یوسف علیہ السلام کے بھائی اور وہ صحابہ جن کی آپس میں لڑائیاں رہیں ان کو برا نہیں کہا جاسکتا کہ وہاں اختلاف رائے تھا عناد نہ تھا۔ عناد و اختلاف میں بڑا فرق ہے،اس کے لیے ہماری کتاب امیر معاویہ دیکھئے حتی کہ حضرت سارا کو اس بنا پر برا نہیں کہا جاسکتا کہ انہوں نے حضرت ہاجرہ و اسمعیل علیہما السلام کی مخالفت کی،اس لیے یہاں عادی فرمایا خالف نہ فرمایا اور لی ولیا فرمایا ولی اﷲ نہ فرمایا۔
۳؎ یعنی مجھ تک پہنچنے کے بہت ذریعہ ہیں،مگر ان تمام ذرائع سے زیادہ محبوب ذریعہ ادائے فرائص ہے اسی لیے صوفیاء فرماتے ہیں کہ فرائض کے بغیر نوافل قبول نہیں ہوتے ان کا ماخذ یہ حدیث ہے افسوس ان لوگوں پر جو فرض عبادات میں سستی کریں اور نوافل پر زور دیں اور ہزار افسوس ان پر جو بھنگ،چرس حرام گانے بجانے کو خدا رسی کا ذریعہ سمجھے نماز روزے کے قریب نہ جائیں۔
۴؎ یعنی بندہ مسلمان فرض عبادات کے ساتھ نوافل بھی ادا کرتا رہتا ہے حتی کہ وہ میرا پیارا ہوجاتا ہے کیونکہ وہ فرائص و نوافل کا جامع ہوتا ہے۔(مرقات)اس کا مطلب یہ نہیں کہ فرائص چھوڑ کر نوافل ادا کرے محبت سے مراد کامل محبت ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع