دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم

۱؎  یعنی نیکی کرنے والے مسلمان کو ایک کا دس تو قانونًا وعدلًا دیا جائے گا اور اس کے علاوہ فضل و کرم سے بطور انعام عطا ہوگا جو ہمارے گمان و وہم سے وراء ہے۔خیال رہے کہ ایک کا دس گناہ عام حالات میں ہے رب تعالٰی فرماتاہے:"مَنۡ جَآءَ بِالْحَسَنَۃِ فَلَہٗ عَشْرُ اَمْثَالِہَا"اور کبھی زمانہ جگہ کی خصوصیت سے ایک نیکی کا عوض سات سو یا پچاس ہزار بلکہ ایک لاکھ تک ہے رب تعالٰی فرماتاہے:"کَمَثَلِ حَبَّۃٍ اَنۡۢبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِیۡ کُلِّ سُنۡۢبُلَۃٍ مِّائَۃُ حَبَّۃٍ وَاللہُ یُضٰعِفُ لِمَنۡ یَّشَآءُ"۔یہ صرف نیکی کا عوض نہیں بلکہ اس و قت یا جگہ کی خصوصیت بھی ہے لہذا نہ تو گزشتہ مذکورہ آیتیں آپس میں متعارض ہیں اور نہ یہ حدیث دوسری احادیث کے خلاف جن میں فرمایا گیا کہ مدینہ پاک کی ایک نیکی کا ثواب پچاس ہزار ہے یا مکہ مکرمہ کی ایک نیکی کا ثواب ایک لاکھ۔

۲؎  یہاں بھی من سے مراد مؤمن ہے اور عام گناہ مراد ہیں عام حالات میں مؤمن کے ایک گناہ کا عوض ایک ہی ہے یا وہ بھی بخشش دیا جائے،لہذا یہ حدیث اس کے خلاف نہیں کہ مکہ معظمہ کا ایک گناہ ایک لاکھ ہے۔

۳؎ جب انسان دونوں ہاتھ سیدھے کرکے پھیلائے تو داہنے ہاتھ کی انگلی سے بائیں ہاتھ کی انگلی تک کو باغ کہتے ہیں یہ کلام تمثیلی طور پر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر تم اخلاص کے ساتھ تھوڑے عمل کے ذریعے قرب الٰہی حاصل کرو تو رب تعالٰی اپنے کرم سے بہت زیادہ رحمت کے ساتھ تم سے قریب ہوگا۔لہذا عمل کئے جاؤ تھوڑا بہت نہ دیکھو۔

۴؎ یہ کلام بطور مثال سمجھانے کے لیے ہے مطلب یہ ہے کہ تمہاری طلب سے ہماری رحمت سبقت لے گئی ہے،اگر تم ایسے معمولی اعمال کرو جن سے بدیر ہم تک پہنچ سکو تو ہم تم کو اپنے کرم سے بہت جلد اپنے دامن رحمت میں لے لیں گے اگر رب تعالٰی سے قرب ہماری کوشش سے ہوتا تو قیامت تک ہم اس تک نہ پہنچ سکتے،اس تک رسائی اس کی رحمت سے ہے۔

۵؎ یہاں شرک سے مراد کفر ہے،اور بخشش سے مراد مطلقًا بخشش ہے جلد ہو یا دیر سے یعنی مسلمان کتنا ہی گنہگار ہو اس کی بخشش ضرور ہوگی خواہ پہلے ہی سے ہوجائے یا کچھ سزا دے کر اور ظاہر ہے کہ بخشش بقدر گناہ ہوگی،ایک گناہ کی بخشش بھی ایک اور لاکھوں گناہوں کی بخشش بھی لاکھوں۔مقصد یہ ہے کہ کوئی بڑے سے بڑا گنہگار بھی رحمت الٰہی سے ناامید نہ ہو بلکہ بخشش کی امید پر توبہ کرلے۔یہ مقصد نہیں کہ بخشش حاصل کرنے کے لیے خوب گناہ کرے کہ یہ تو خدا پر امن ہے اور امن کفر ہے لہذا یہ حدیث گناہوں کی آزادی دینے کے لیے نہیں بلکہ توبہ کی دعوت دینے کے لیے ہے رب فرماتاہے:"لَا تَقْنَطُوۡا مِنۡ رَّحْمَۃِ اللہِ خیال رکھو کہ رب تعالٰی کی رحمت بھی وسیع ہے اور اس کا عذاب بھی سخت ہے نہ معلوم رحمت کسے پہنچے عذاب کسے پکڑے،لہذا امید و خوف دونوں رکھو اس معجون مرکب کا نام ایمان ہے۔

2266 -[6]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى قَالَ: مَنْ عَادَى لِي وَلِيًّا فَقَدْ آذَنْتُهُ بِالْحَرْبِ وَمَا تَقَرَّبَ إِلَيَّ عَبْدِي بِشَيْءٍ أَحَبَّ إِلَيَّ مِمَّا افْتَرَضْتُ عَلَيْهِ وَمَا يَزَالُ عَبْدِي يَتَقَرَّبُ إِلَيَّ بِالنَّوَافِلِ حَتَّى أُحِبَّهُ فَإِذَا أَحْبَبْتُهُ كُنْتُ سَمْعَهُ الَّذِي يَسْمَعُ بِهِ وَبَصَرَهُ الَّذِي يُبْصِرُ بِهِ وَيَدَهُ الَّتِي يَبْطِشُ بِهَا وَرِجْلَهُ الَّتِي يَمْشِي بِهَا وَإِنْ سَأَلَنِي لَأُعْطِيَنَّهُ وَلَئِنِ اسْتَعَاذَنِي لَأُعِيذَنَّهُ وَمَا تَرَدَّدْتُ عَنْ شَيْءٍ أَنَا فَاعِلُهُ تَرَدُّدِي عَنْ نَفْسِ الْمُؤْمِنِ يَكْرَهُ الْمَوْتَ وَأَنَا أَكْرَهُ مُسَاءَتَهُ وَلَا بُدَّ لَهُ مِنْهُ ". رَوَاهُ البُخَارِيّ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ اﷲ تعالٰی فرماتا ہے جو میرے کسی ولی ۱؎ سے عداوت رکھے میں اسے اعلان جنگ دیتا ہوں ۲؎ اور میرے کسی بندے کا بمقابلہ فرائض عبادتوں کے دوسرے ذریعہ سے مجھ سے قریب ہونا مجھے زیادہ پسند نہیں۳؎ اور میرا بندہ نوافل کے ذریعہ سے قریب ہوتا رہتا ہےحتی کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں۴؎ پھر جب اس سے محبت کرتا ہوں تو میں اس کے کان ہوجاتا ہوں جس سے وہ سنتاہے اور اس کی آنکھیں ہوجاتا ہوں جس سے وہ دیکھتاہے اور اس کے ہاتھ ہوجاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے اور اس کے پاؤں بن جاتا ہوں جن سے وہ چلتا ہے ۵؎ اگر وہ مجھ سے مانگتا ہے تو اسے دیتا ہوں اور اگر میری پناہ لیتا ہے تو اسے پناہ دیتا ہوں ۶؎ اور جو مجھے کرنا ہوتا ہے اس میں کبھی میں تردد نہیں کرتا جیسے کہ میں اس مؤمن کی جان نکالنے میں توقف کرتا ہوں جو موت سے گھبراتا ہے اور میں اسے ناخوش کرنا پسند نہیں کرتا ادھر موت بھی اس کے لیے ضروری ہے ۷؎ (بخاری)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن