30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کرکے بخشش کی امید رکھنا ظن نہیں بلکہ نفس کا دھوکا وغرور ہے ظن و غرور میں فرق چاہیئے جو بو کر گندم کاٹنے کی امید، ٹھنڈا لوہا کاٹنا بے کار ہے۔مولانا فرماتے ہیں۔شعر
گندم از گندم بروید جو ز جو از مکافات عمل غافل مشو
بعض لوگ امید دھوکے میں فرق نہیں کرتے وہ اس حدیث سے دھوکا کھاتے ہیں،حدیث واضح ہے۔
۲؎ رحمت و کرم،توفیق و مہربانی خیال رہے کہ بندہ رب سے ذکر اﷲ کرتے وقت بہت قریب ہوتا ہے،جو ہر وقت ذکر کرے وہ ہر وقت رب سے قریب ہے۔
۳؎ بہتر مجمع سے مراد ارواح انبیاء و اولیاء ہیں لہذا حدیث پر کوئی اعتراض نہیں اور ہوسکتا ہے اس مجمع سے مراد مقرب فرشتوں کا مجمع ہو چونکہ بعض لحاظ سے فرشتے انسان سے افضل ہیں کہ ہم انسان نیک و بد ہر طرح کے کام کرلیتے ہیں،فرشتے صرف نیک کام ہی کرتے ہیں اسی لیے انہیں خیرًا منھم کہا گیا، لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ انسان فرشتے سے افضل ہے پھر یہاں فرشتوں کو انسان سے افضل کیوں فرمایا گیا۔
مسئلہ: ماہیت انسان ماہیت فرشتہ سے افضل ہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَلَقَدْ کَرَّمْنَا بَنِیۡۤ اٰدَمَ"اسی لیے انسان کو اشرف المخلوقات کہا جاتا ہے رہے افراد اس میں تفصیل یہ ہے کہ خاص انسان جیسے انبیاء و اولیاء خاص و عام تمام فرشتوں سے افضل ہیں مگر عام مسلمان سے خاص فرشتے افضل،رہے کفار وہ تو گدھے کتے سے بھی بدتر ہیں،رب تعالٰی فرماتاہے:"اُولٰٓئِکَ ہُمْ شَرُّ الْبَرِیَّۃِ"۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ذکر بالجہر افضل ہے کہ آہستہ ذکر کرنے والوں کا ذکر وہاں بھی خفیہ ہی ہوتا ہے اور مجمع لگاکر اونچا ذکر کرنے والوں کا وہاں بھی علانیہ ذکر ہی ہوتا ہے جیسے فرشتے و انبیاء و اولیاء سنتے ہیں ذکر بالجہر والوں کی یہ حدیث قوی دلیل ہے۔
|
2265 -[5] وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى: مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا وأزيد وَمن جَاءَ بِالسَّيِّئَةِ فجزاء سَيِّئَة مِثْلُهَا أَوْ أَغْفِرُ وَمَنْ تَقَرَّبَ مِنِّي شِبْرًا تَقَرَّبْتُ مِنْهُ ذِرَاعًا وَمِنْ تَقَرَّبَ مِنِّي ذِرَاعًا تَقَرَّبْتُ مِنْهُ بَاعًا وَمَنْ أَتَانِي يَمْشِي أَتَيْتُهُ هَرْوَلَةً وَمَنْ لَقِيَنِي بِقُرَابِ الْأَرْضِ خَطِيئَةً لَا يُشْرِكُ بِي شَيْئًا لَقِيتُهُ بِمِثْلِهَا مَغْفِرَةً ". رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت ابوذر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ اﷲ تعالٰی فرماتا ہے جو ایک نیکی کرے اسے دس گناہ ثواب ہے اور زیادہ بھی دوں گا ۱؎ اور جو ایک گناہ کرے تو ایک برائی کا بدلہ اس کے برابر ہی ہے یا اسے بخش دوں ۲؎ اور جو مجھ سے ایک بالشت قریب ہوتا ہے تو میں اس کے ایک گز نزدیک ہوجاتا ہوں اورجو مجھ سے ایک گز نزدیک ہو تاہے تو میں اس سے ایک باغ قریب ہوجاتا ہوں۳؎ جو میرے پاس چلتا ہوا آتا ہے میں اس کی طرف دوڑتا ہوں۴؎ اور جو کسی کو میرا شریک نہ ٹھہرائے پھر زمین بھر گناہ لے کر مجھ سے ملے تو میں اتنی ہی بخشش کے ساتھ اس سے ملوں گا۵؎(مسلم) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع