دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم

۵؎ چونکہ اﷲ کے ذاکر مرد زیادہ ہیں عورتیں کم،اس لیے مردوں کا ذکر پہلے ہوا عورتوں کا بعد میں۔ مرقات نے فرمایا کہ اللہ کا بہت ذکر کرنے والا وہ ہے جو کسی حال میں رب کو نہ بھولے خلوص سے اس کی عبادت کرے خلقت سے مستغنی رہے فکر و شکر میں حریص ہو جو خدا سے غافل کرے اس سے دور رہے اﷲ کے ذکر میں ایسی لذات پائے جو کسی اور چیز میں نہ پائے ر ب تعالٰی فرماتاہے:"وَ تَبَتَّلْ اِلَیۡہِ تَبْتِیۡلًا"یعنی تمام غیر اﷲ سے کٹ کر رب کے ہوجاؤ۔

2263 -[3] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَثَلُ الَّذِي يَذْكُرُ رَبَّهُ وَالَّذِي لَا يَذْكُرُ مَثَلُ الْحَيّ وَالْمَيِّت»

روایت ہے حضرت ابو موسیٰ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے اس کی مثال جو رب کا ذکر کرے اور جو نہ کرے زندہ و مردہ کی سی ہے ۱؎ (مسلم،بخاری)۲؎

۱؎ یعنی جیسے زندہ کا جسم روح سے آباد ہے مردہ کا غیر آباد،ایسے ہی ذاکر کا دل ذکر سے آباد ہے غافل کا دل ویران یا جیسے شہروں کی آبادی زندوں سے ہے مردوں سے نہیں ایسے ہی آخرت کی آبادی ذاکرین سے ہے غافلین سے نہیں،یا جیسے زندہ دوسروں کو نفع و نقصان پہنچاسکتا ہے مردہ نہیں،ایسے اﷲ کے ذاکر سے نفع و نقصان خلق حاصل کرتی ہے غافل سے نہیں یا جیسے مردے کو کوئی دوا یا غذا مفید نہیں ایسے ہی غافل کو کوئی عمل وغیرہ مفید نہیں اﷲ کا ذکر کرو پھر دوسرے اعمال،ذاکر مرکر بھی جیتا ہے غافل زندہ رہ کر بھی مردہ ہے۔مرقات نے فرمایا کہ اس میں اشارۃً ارشاد ہوا کہ حی لایموت کا ذکر ذاکر کو حیات غیر فانیہ بخش دیتا ہے۔ اولیاء اﷲ مرتے نہیں بلکہ ایک گھر سے دوسرے گھر میں چلے جاتے ہیں۔(مرقاۃ)

۲؎  مسلم شریف میں ہے کہ جو گھر اﷲ کے ذکر سے آباد ہو وہ زندہ ہے اور جو گھراس کے ذکر سے خالی ہو وہ مردہ ہے گھر سے مراد مؤمن کا دل ہے کہ وہ اﷲ کا گھر ہے مبارک ہے وہ جو اس گھر کو آباد رکھے منحوس ہے وہ جو اسے ویران کردے۔شعر

آباد وہ ہی دل ہے جس میں تمہاری یاد ہے                             جو یاد سے غافل ہوا ویران ہے برباد ہے

2264 -[4] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى: أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي وَأَنَا مَعَهُ إِذَا ذَكَرَنِي فَإِنْ ذَكَرَنِي فِي نَفْسِهِ ذَكَرْتُهُ فِي نَفْسِي وَإِنْ ذَكَرَنِي فِي مَلَأٍ ذَكَرْتُهُ فِي مَلَأٍ خير مِنْهُم

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے اﷲ تعالٰی فرماتا ہے میں اپنے بندے کے گمان کے نزدیک ہوتا ہوں جو مجھ سے رکھے ۱؎ جب بندہ مجھے یاد کرتا ہے تو میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں ۲؎  اگر بندہ مجھے اپنے دل میں یاد کرتا ہے تو میں بھی اسے اکیلے ہی یاد کرتا ہوں اور اگر مجھے مجمع میں یاد کرتا ہے تو میں اسے بہتر مجمع میں یاد کرتا ہوں ۳؎(مسلم،بخاری)

۱؎ یہاں عبد سے مراد بندہ مؤمن ہے اور ظنّ بمعنی یقین بھی آتاہے جیسے"یَظُنُّوۡنَ اَنَّہُمۡ مُّلٰقُوۡا رَبِّہِمْ"اور بمعنی گمان نیک بھی جیسے"ظَنَّ الْمُؤْمِنُوۡنَ وَ الْمُؤْمِنٰتُ بِاَنۡفُسِہِمْ خَیۡرًا"اور بمعنی بدگمانی بھی جیسے"اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ"یہاں دونوں معنے درست ہیں یعنی بندہ میرے متعلق جیسا یقین رکھے گا میں ویسا ہی معاملہ اس سے کروں گا یا بندہ میرے متعلق جیسا گمان کرے گا میں ویسا ہی کروں گا مطلب یہ ہے کہ اگر بندہ قبولیت کی امید یا یقین پر دعا و عبادت کرے گا تو میں اس کی دعا و عبادت ضرور قبول کروں گا اور اگر ردکا یقین یا گمان کرے گا تو رد ہی کروں گا۔مقصد یہ ہے کہ اعمال بھی کرو اور قبول کی امید بھی رکھو عمل نہ

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن