30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۲؎ یہاں فرشتوں سے مر اد وہ فرشتے ہیں جو زمین کا چکر لگاتے رہتے ہیں ذکر الٰہی کے طبقے ڈھونڈھتے پھرتے ہیں اور رحمت سے مراد خاص رحمت الٰہی ہے جو ذاکرین کے لیے مخصوص ہے لہذا اس جملہ پر یہ اعتراض نہیں کہ فرشتے تو انسان کو ہر وقت ہی گھیرے رہتے ہیں کیونکہ ہر وقت ساتھ رہنے والے فرشتے حافظین ہیں۔
۳؎ سکینہ کی شرح "باب فضائل القرآن"میں گزرچکی کہ یا تو اس سے مراد خاص ملائکہ ہیں یا دل کا نور یا دلی چین و سکون ہے اﷲ کے ذکر سے دل کو چین نصیب ہوتا ہے رب تعالٰی فرماتاہے:"اَلَا بِذِکْرِ اللہِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوۡبُ"اور فرماتاہے:"ہُوَ الَّذِیۡۤ اَنۡزَلَ السَّکِیۡنَۃَ فِیۡ قُلُوۡبِ الْمُؤْمِنِیۡنَ"۔
۴؎ یعنی اﷲ تعالٰی کے ملائکہ مقربین ہیں جو ہمیشہ اس کے پاس رہتے ہیں انتظام عالم کے لیے نہیں آتے اور ارواح انبیاءعلیہم السلام و اولیاء عظام میں لوگوں کا ذکر فخر سے عزت وعظمت سے کرتے ہیں۔(مرقاۃ)یہ حدیث اس آیت کی شرح ہے"فَاذْکُرُوۡنِیۡۤ اَذْکُرْکُمْ"پھرجس طرح بندہ رب کو یاد کرتا ہے اسی طرح رب بندے کو مثلًا بندہ کہتاہے کہ مولیٰ میں گنہگار ہوں رب فرماتا ہے بندے مت گھبرا میں غفار ہوں وغیرہ۔
|
2262 -[2] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسِيرُ فِي طَرِيقِ مَكَّةَ فَمَرَّ عَلَى جَبَلٍ يُقَالُ لَهُ: جُمْدَانُ فَقَالَ: «سِيرُوا هَذَا جُمْدَانُ سَبَقَ الْمُفَرِّدُونَ» . قَالُوا: وَمَا الْمُفَرِّدُونَ؟ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: «الذَّاكِرُونَ الله كثيرا وَالذَّاكِرَات» . رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم مکہ کے راستہ میں جارہے تھے کہ ایک پہاڑ پرگزرے جیسے جمدان کہا جاتا ہے ۱؎ تو صحابہ سے فرمایا چلو یہ جمدان ہے۲؎ سبقت لے گئے جدا رہنے والے ۳؎ صحابہ نے عرض کیا یا رسول اﷲ الگ رہنے والے کون لوگ ہیں ۴؎ فرمایا اﷲ کی بہت یاد کرنے والے مردوعورت ۵؎(مسلم) |
۱؎ یہ پہاڑ مدینہ منورہ کے قریب ہے مکہ معظمہ کے راستے پر یہاں سے مدینہ منورہ پیدل ایک رات کے فاصلے پر ہے،طبرانی نے حضرت ابن مسعود سے روایت کیا کہ ایک دوسرے کو نام بنام پکارکر پوچھتے ہیں کہ کیا تجھ پر کوئی اﷲ کا ذاکر گزرا،اگر کوئی پہاڑ کہتا ہے کہ ہاں مجھ پر گزرا تو سب کہتے ہیں مبارک ہو عوارف المعارف میں حضرت انس سے روایت ہے کہ روزانہ صبح و شام زمین کے بعض حصے بعض سے پوچھتے ہیں کہ کیا تجھ پر کوئی بندہ ایسا گزرا یا بیٹھا جو اﷲ کا ذکر کررہا ہو،اگر کوئی طبقہ کہتا ہے کہ ہاں مجھ پر گزرا ہے تو دوسرے طبقے کہتے ہیں تو ہم سب سے افضل ہے۔مرقات
۲؎ یعنی اے جماعت صحابہ یہ جمدان پہاڑ ہے یہاں اﷲ کا ذکر کرتے چلو تاکہ کل قیامت میں تمہارا گواہ ہو۔
۳؎ مفردون تفرید سے ہے،بمعنی الگ کرنا،جدا رکھنا،یعنی جنہوں نے اپنے کو دنیاوی الجھنوں،اغیار کی مجلس سے الگ رکھا یا جنہوں نے تمام ذکروں سے اﷲ کے ذکر کو چھانٹ لیا۔جس میں وہ ہر وقت لگے رہتے ہیں۔
۴؎ یہ ما سوال احوال کے لیے ہے نہ کہ سوال ذات کے لیے جیسے فرعون نے موسیٰ علیہ السلام سے پوچھا تھا وما رب العلمین یعنی اﷲ تعالٰی کے صفات کیا ہیں اسی لیے یہاں من نہ بولا ما اور حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے جواب بھی وہ عنایت فرمایا جو سوال کے مطابق ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع