دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم

الفصل الثالث

تیسری فصل

2251 -[29]

عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لِيَسْأَلْ أَحَدُكُمْ رَبَّهُ حَاجَتَهُ كُلَّهَا حَتَّى يَسْأَلَهُ شِسْعَ نَعله إِذا انْقَطع»

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے ہر شخص اپنے رب سے اپنی ساری حاجتیں مانگے حتی کہ جب جوتا کا تسمہ ٹوٹ جائے تو اس سے مانگے ۱؎

۱؎ یعنی بندہ یہ خیال نہ کرے کہ اتنے بڑے آستانہ سے چھوٹی چیز کیا مانگوں کوئی بڑی حاجت مانگوں گا،نہیں ہر حاجت مانگو چھوٹی ہو یا بڑی،اگر اس سے بڑی چیز مانگی جائے تو بتاؤ چھوٹی حاجتوں کے لیے کون سا دروازہ ہے،غلام اپنے آقا سے ہر چیز مانگا ہی کرتے ہیں دیکھو موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام نے رب تعالٰی سے مدین پہنچ کر روٹی کا ٹکڑا مانگا کہ عرض کیا"رَبِّ اِنِّی لِمَاۤ اَنۡزَلْتَ اِلَیَّ مِنْ خَیۡرٍ فَقِیۡرٌ 

2252 -[30]

زَادَ فِي رِوَايَةٍ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ مُرْسَلًا «حَتَّى يَسْأَلَهُ الْمِلْحَ وَحَتَّى يَسْأَلَهُ شِسْعَهُ إِذَا انْقَطع» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

ایک روایت میں ثابت بنانی سے مرسلًا یہ زیادتی بھی ہے کہ رب سے نمک تک مانگے اور جب تسمہ ٹوٹ جائے تو وہ تک مانگے ۱؎ (ترمذی)

۱؎ یعنی ایک ہانڈی کا نمک جو چند تولے ہوتا ہے،ایسے ہی ایک جوتی کا تسمہ جو کوڑی دو کوڑی کا ہوتا ہے،وہ بھی رب تعالٰی ہی سے ما نگو۔

2253 -[31]

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي الدُّعَاءِ حَتَّى يُرى بياضُ إبطَيْهِ

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم دعا میں ہاتھ اتنے اٹھاتے تھے کہ آپ کی بغل شریف کی سفیدی دیکھی جاتی ۱؎

۱؎ یعنی حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم سر سے اونچے ہاتھ اٹھا کر دعا کرتے تھے حتی کہ اگر قمیص مبارک نہ پہنے ہوتے تو بغل شریف کے سفیدی نظر آجاتی۔خیال رہے کہ اس قدر اونچے ہاتھ اٹھانا یا تو نماز استسقاء میں ہوتا تھا یا کبھی کبھی بیان جواز کے لیے اور موقعوں پر بھی ورنہ عام دعاؤں میں سینے یا کندھے تک ہاتھ اٹھاتے تھے،لہذا یہ حدیث کندھوں یا سینہ تک ہاتھ اٹھانے کے خلاف نہیں اورنہ اس سے یہ لازم آتا ہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم بغیرقمیص کے نماز پڑھتے تھے یہ تو سخت مکروہ ہے،آج کل بعض لوگ بغیر قمیص نمازپڑھتے ہیں اور اس حدیث کو آڑ بنا تے ہیں مگر غلط ننگے کندھے نماز پڑھنے کی ممانعت باب الستر میں گزر گئی۔

2254 -[32]

وَعَن سهل بن سَعْدٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: كَانَ يَجْعَل أصبعيه حذاء مَنْكِبَيْه وَيَدْعُو

روایت ہے حضرت سہل ابن سعد سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرماتے ہیں کہ حضور دعا کے وقت اپنی انگلیاں کندھوں کے مقابل کرتے تھے ۱؎

۱؎ یعنی پہلے آپ ہاتھ شریف اتنے اٹھاتے کہ ہاتھوں کی انگلیاں کندھوں کے مقابل ہوجاتیں پھر دعا مانگتے تھے،یہ اکثری حالات کا ذکر ہے اور پہلی حدیث میں بعض مخصوص حال کا ذکر تھا۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن