30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
2244 -[22] وَعَن سَلْمَانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ رَبَّكُمْ حَيِيٌّ كَرِيمٌ يَسْتَحْيِي مِنْ عَبْدِهِ إِذَا رَفَعَ يَدَيْهِ إِلَيْهِ أَنْ يَرُدَّهُمَا صِفْرًا» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي الدَّعوات الْكَبِير |
روایت ہے حضرت سلمان سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ تمہارا رب حیاء والا ہے کرم والا ہے اس سے حیاء فرماتا ہے کہ بندہ اس کی بارگاہ میں ہاتھ اٹھائے وہ انہیں خالی لوٹا دے ۱؎ (ترمذی،ابوداؤد،بیہقی دعوات الکبیر) |
۱؎ اس میں ہاتھ پھیلانے کی حکمت کا بیان ہے ان شاءاﷲ پھیلے ہوئے ہاتھ رب کی بارگاہ سے خالی نہیں لوٹیں گے ۔خیال رہے کہ رب تعالٰی حیاء شرم وغیرہ کے ظاہری معنے سے پاک ہے اس کے لیے ان چیزوں کا نتیجہ مراد ہوتا ہے یعنی اﷲ تعالٰی ایسا کرتا نہیں کہ بندے کے پھیلے ہوئے ہاتھوں کو خالی پھیرے اس کے معنے ہم عرض کرچکے ہیں کہ اﷲ تعالٰی مانگنے والے کو ضرور دیتا ہے خواہ اس طرح کہ اس کی مراد پوری کردے یا اس طرح کہ اس کی کوئی آفت ٹال دے یا اس طرح کہ درجات بلند کردے،لہذا اس حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ بہت دفعہ ہاتھ پھیلا کر دعائیں کی جاتی ہیں اور مراد نہیں ملتی۔
|
2245 -[23] وَعَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَفَعَ يَدَيْهِ فِي الدُّعَاءِ لَمْ يَحُطَّهُمَا حَتَّى يمسح بهما وَجهه. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ |
روایت ہے حضرت عمر سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم جب دعا میں اپنے ہاتھ اٹھاتے تو بغیر منہ پر پھیرے ہاتھ نہ گراتے ۱؎ (ترمذی) |
۱؎ دعا میں آسمان کی طرف ہاتھ اٹھانے کی وجہ یہ ہے کہ آسمان دعا کا قبلہ ہے اور رزق و رحمت کے آنے کی جگہ یہ وجہ نہیں کہ رب تعالٰی آسمان میں رہتا ہے جیسے تنخواہ لینے والے خزانے پرجمع ہوجاتےہیں خزانے میں ان کی تنخواہیں ہیں نہ کہ خود بادشاہ۔
|
2246 -[24] وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَحِبُّ الْجَوَامِعَ مِنَ الدُّعَاءِ وَيَدَعُ مَا سِوَى ذَلِكَ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم جامع دعائیں پسند فرماتے تھے اور اس کے ماسواء دعائیں چھوڑ دیتے تھے ۱؎ (ابوداؤد) |
۱؎ جامع دعا وہ کہلاتی ہے جس کے الفاظ تھوڑے ہوں،معافی زیادہ جیسے"رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَاحَسَنَۃً" الایہ۔اور جیسے"اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِیَۃَ فِی الدِّیْنِ وَالدُّنْیَاوَالْاٰخِرَۃِ"۔یہاں عمومی حالات مراد ہیں یعنی حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم عام طور پر جامع دعائیں مانگتے تھے،خاص موقعوں پر خاص دعائیں بھی مانگی ہیں۔جیسے استسقاء میں بارش کی دعا وغیرہ لہذا یہ حدیث ان روایات کے خلاف نہیں۔
|
2247 -[25] وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «إِن أَسْرَعَ الدُّعَاءِ إِجَابَةً دَعْوَةُ غَائِبٍ لِغَائِبٍ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن عمرو سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے بہت جلد قبول ہونے والی دعا غائب کی غائب کے لیے ہے ۱؎ (ترمذی،ابوداؤد) |
۱؎ یعنی جب کوئی مسلمان دوسرے مسلمان کے لیے اس کی غیر موجودگی میں دعائے خیر کرے تو بہت جلد قبول ہوتی ہے اس کی وجہ ظاہر ہے کہ یہ شخص مسلمان بھائی کا خیر خواہ بھی ہے اور مخلص بھی،سامنے دعا کرنے میں ریاء دکھلاوے و خوشامد کا احتمال ہوسکتا ہے۔
|
2248 -[26] وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ اسْتَأْذَنْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْعُمْرَةِ فَأَذِنَ لِي وَقَالَ: «أَشْرِكْنَا يَا أُخَيُّ فِي دُعَائِكَ وَلَا تَنْسَنَا» . فَقَالَ كَلِمَةً مَا يَسُرُّنِي أَنَّ لِيَ بِهَا الدُّنْيَا. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَانْتَهَتْ رِوَايَتُهُ عِنْدَ قَوْلِهِ «لَا تنسنا» |
روایت ہے حضرت عمر ابن الخطاب سے فرماتے ہیں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے عمرہ کے لیے جانے کی اجازت مانگی ۱؎ تو مجھے اجازت دی اور فرمایا اے میرے بھائی ۲؎ ہمیں بھی اپنی دعا میں یاد رکھنا ہمیں بھول نہ جانا ۳؎ حضور نے یہ ایسی بات فرمائی کہ مجھے اس کے عوض ساری دنیا مل جانا پسند نہیں۴؎ (ابوداؤد،ترمذی)اور ترمذی کی روایت اس قول پر ختم ہوگئی کہ ہمیں بھول نہ جانا۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع