30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱؎ یعنی دعا کرتے وقت یہ یقین کرلو کہ رب تعالٰی اپنے کرم سے میر ی یہ دعا ضرور قبول کرے گا اس میں لطیف اشارہ اس جانب بھی ہے کہ دعا کے وقت تمام شرائط قبول اور آداب دعا پورے کرو جس سے تمہارے دل کو قبولیت کا یقین خود بخود ہو جائے پھر ساتھ ہی اس کے کرم سے امید رکھو اﷲ تعالٰی آس والوں کو نا امید نہیں فرماتا اس کا نام ہے رجاء السائلین ۔(از مرقات و لمعات)
۲؎ قبولیت دعا کی بہت سی شرطیں ہیں،جن میں سے بڑی اہم شرط دل لگنا ہے اسی لیے خصوصیت سے اس کا ذکر فرمایا گیا اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر دعا مانگنے کے وقت دل اور طرف ہو منہ اور طرف ہاتھ رب تعالٰی کی بارگاہ میں پھیلے ہوں،خیال بازار وغیرہ میں ہو تو دعا قبول نہیں ہوتی۔قبولیت دعا اس شرط سے ہے کہ ہاتھ،زبان،دل دھیان سب کا مرکز ایک ہی یعنی بارگاہ الہٰی۔
|
2242 -[20] وَعَنْ مَالِكِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:«إِذَا سَأَلْتُمُ اللَّهَ فَاسْأَلُوهُ بِبُطُونِ أَكُفِّكُمْ وَلَا تَسْأَلُوهُ بِظُهُورِهَا» |
روایت ہے حضرت مالک ابن یسار سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب تم اﷲ سے دعا مانگو تو ہتھیلیوں سے مانگو ہاتھوں کی پشت سے نہ مانگو ۱؎ |
۱؎ یعنی دعا کے وقت ہتھیلیاں آسمان کی طرف پھیلاؤ اور ہاتھوں کی پیٹھ زمین کی طرف رکھو کیونکہ مانگنے والا داتا کے سامنے لینے کے لیے ہتھیلی ہی پھیلاتاہے،نیز اس میں اظہار عجز زیادہ ہے ہاں جن دعاؤں میں کچھ مانگا جائے کسی آفت سے بچا جائے وہاں سنت یہ ہے کہ پہلے تو ہتھیلیاں پھیلاؤ اور پھر آسمان کی طرف ہاتھوں کی پیٹھیں کردو،نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نماز استسقاء کے بعد ایسے ہی دعا مانگتے تھے اس ہاتھ پلٹنے میں اشارۃً یہ عرض کرنا ہے کہ مولا دنیا کا حال بدل دے۔خشکی ہے تری کردے،قحط ہے فراخی کردے،گرانی ہے ارزانی کردے۔
|
2243 -[21] وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «سَلُوا اللَّهَ بِبُطُونِ أَكُفِّكُمْ وَلَا تَسْأَلُوهُ بِظُهُورِهَا فَإِذَا فَرَغْتُمْ فامسحوا بهَا وُجُوهكُم» . رَوَاهُ دَاوُد |
اور حضرت ابن عباس کی روایت میں یوں ہے کہ اﷲ سے دعا کرو ہتھیلیاں پھیلا کر نہ ہاتھ کی پشت سے پھر جب فارغ ہوجاؤ تو منہ پر ہاتھ پھیر لو۱؎ (ابوداؤد) |
۱؎ کیونکہ پھیلے ہوئے ہاتھوں پر اﷲ کی رحمت اترتی ہے ان ہاتھوں کے منہ پر پھیر لینے سے رحمت منہ پر پہنچ جاتی ہے،یہ عملی سنت بھی ہے اتباع سنت میں برکت ہےمرقا ۃ ۔ہاں بعض علماء نے فرمایا کہ کھانے کے بعد جو دعا مانگی جاتی ہے اگر مجمع میں کھانا کھایا جائے تو اس دعا میں ہاتھ نہ اٹھائے تاکہ ان لوگوں کو شرمندگی نہ ہو جو ابھی تک فارغ نہ ہوئے۔حصن حصین شریف میں ہے کہ ہاتھ اٹھانا آداب دعا سے ہے جن احادیث میں ہے کہ نبی کر یم صلی اللہ علیہ و سلم سوائے استسقاء کے اور دعاؤں میں ہاتھ نہ اٹھاتے تھے وہاں زیادہ اونچے ہاتھ اٹھانا مراد ہے یعنی نماز استسقاء میں ہاتھ سر مبارک سے اونچے اٹھاتے تھے باقی دعاؤں میں سینے کے مقابل لہذا احادیث میں تعارض نہیں۔
|
2244 -[22] وَعَن سَلْمَانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ رَبَّكُمْ حَيِيٌّ كَرِيمٌ يَسْتَحْيِي مِنْ عَبْدِهِ إِذَا رَفَعَ يَدَيْهِ إِلَيْهِ أَنْ يَرُدَّهُمَا صِفْرًا» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي الدَّعوات الْكَبِير |
روایت ہے حضرت سلمان سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ تمہارا رب حیاء والا ہے کرم والا ہے اس سے حیاء فرماتا ہے کہ بندہ اس کی بارگاہ میں ہاتھ اٹھائے وہ انہیں خالی لوٹا دے ۱؎ (ترمذی،ابوداؤد،بیہقی دعوات الکبیر) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع