30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
2239 -[17] وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ فُتِحَ لَهُ مِنْكُمْ بَابُ الدُّعَاءِ فُتِحَتْ لَهُ أَبْوَابُ الرَّحْمَةِ وَمَا سُئِلَ اللَّهُ شَيْئًا يَعْنِي أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ أَنْ يُسْأَلَ الْعَافِيَةَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ |
روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ تم میں سے جس کے لیے دعا کا دروازہ کھولا جائے تو اس کے لیے رحمت کے دروازے کھول دیئے جائیں گے ۱؎ عافیت سے بڑھ کر کوئی کیسی چیز اﷲ سے نہ مانگی گئی ہو جو اسے زیادہ پیاری ہو ۲؎ (ترمذی) |
۱؎ یعنی جسے ہر وقت ہر حال میں دعائیں مانگنے کی توفیق ملے تو یہ اس کی علامت ہے کہ اس کے لیے رب تعالٰی نے رحمت کے دروازے کھول دیئے ہیں،اس میں اشارۃً فرمایا گیا کہ دعا کی طرف دل کا راغب ہونا پھر دعا کے لیے اچھے الفاظ مل جانا رب تعالٰی ہی کے کرم سے ہے جب وہ کچھ دینا چاہتا ہے تو ہمیں مانگنے کی توفیق بخشتا ہے۔شعر
مری طلب بھی تمہارےکرم کاصدقہ ہے قدم یہ اٹھتےنہیں ہیں اٹھائےجاتےہیں
۲؎ لمعات نے فرمایا کہ عافیت کے معنے سلامتی ہیں،یہاں کامل سلامتی مراد ہے،یعنی زندگی موت،قبر حشر کی تمام ظاہری باطنی چھوٹی بڑی آفتوں سے سلامتی و حفاظت۔ ظاہر بات ہے کہ یہ دعاء جامع الدعاء ہے، مرقات نے فرمایا کہ رب تعالٰی نے مصیبتیں پیدا ہی اس لیے کی ہیں تاکہ بندہ ان سے سلامتی کی دعائیں مانگے۔صوفیائے کرام فرماتے ہیں کہ عافیت اسی میں ہے جس میں رب راضی ہے،لہذا حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کا خیبر میں زہر کھالینا فاروق اعظم کا مصلائے مصطفے پر خنجر کھا کر شہید ہونا،عثمان غنی کا قرآن پڑھتے ہوئے ذبح ہوجانا،حسین علیہ السلام کا بے آب دانہ مثل پروانہ،شمع مصطفوی پر نثار ہوجانا،عافیت ہی تھا۔لہذا رب تعالٰی سے وہ عافیت مانگو جو اس کے علم میں ہمارے لیے عافیت ہے نہ وہ جو ہمارے علم میں ہمارے لیے عافیت ہو۔ حضرت عباس نے عرض کیا یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم مجھے کوئی بہترین دعا سکھائیے فرمایا چچا جان،اﷲ سے دین و دنیا کی عافیت مانگو۔
|
2240 -[18] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَسْتَجِيبَ اللَّهُ لَهُ عِنْدَ الشَّدَائِدِ فَلْيُكْثِرِ الدُّعَاءَ فِي الرَّخَاءِ».رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيث غَرِيب |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نےجوچاہےکہ مصیبتوں کے وقت اﷲ اس کی دعا قبول کرے تو وہ آرام کے زمانہ میں دعائیں زیادہ مانگا کرے ۱؎ (ترمذی)اور ترمذی نے فرمایا کہ یہ حدیث غریب ہے۔ |
۱؎ اس کی وجہ ظاہر ہے کہ صرف مصیبت میں دعا مانگنا اور راحت میں رب سے غافل ہوجانا خود غرضی ہے اور ہر وقت دعا مانگنا عبدیت ہے رب کو خود غرضی ناپسند ہے عبدیت پسند خود فرماتاہے:"وَ اِذَاۤ اَنْعَمْنَا عَلَی الْاِنۡسٰنِ اَعْرَضَ وَنَاٰ بِجَانِبِہٖ وَ اِذَا مَسَّہُ الشَّرُّ فَذُوۡ دُعَآءٍ عَرِیۡضٍ"۔ایسے خود غرض کا حشر یہ ہوتا ہے کہ رب تعالٰی فرماتاہے اس پر مصیبت رہنے دو تاکہ اسی بہانے میرے دروازے پر حاضر رہے۔
|
2241 -[19] وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ادْعُوا اللَّهَ وَأَنْتُمْ مُوقِنُونَ بِالْإِجَابَةِ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَجِيبُ دُعَاءً مِنْ قَلْبٍ غَافِلٍ لَاهٍ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حديثٌ غَرِيب |
روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ اﷲ سے دعا کرو قبولیت کا یقین رکھتے ہوئے ۱؎ اور جان رکھو کہ اﷲ غافل و لاپرواہ کی دعا قبول نہیں فرماتا ۲؎ (ترمذی)اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع