دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم

۲؎  اس سے معلوم ہوا کہ قبولیت کی گھڑی صرف جمعہ یا شبِ قدر یا آخری رات ہی میں نہیں ہے اور وقت میں بھی ہوتی ہے،مگر کبھی کبھی تو ہر ساعت میں احتمال ہے کہ وہ قبولیت کی ہو،اس لیے ہمیشہ اچھی دعائیں ہی مانگے،کبھی بددعا منہ سے نہ نکالے۔خیال رہے کہ لعان میں ایسے ہی مباہلہ میں اپنے کو بددعا دینا اظہار حق کے لیے ہوتا ہے وہ محض بددعا نہیں ہوتی وہاں یہ کہا جاتا ہے کہ اگر میں حق پر نہ ہوں تو ہلاک ہوجاؤں،لہذا یہ حدیث آیت لعان اور آیت مباہلہ کے خلاف نہیں،وہ آیات اپنی جگہ حق ہیں۔

الفصل الثانی

دوسری فصل

2230 -[8]

عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:«الدُّعَاءُ هُوَ الْعِبَادَةُ»ثُمَّ قَرَأَ:(وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكم)رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَه

روایت ہے حضرت نعمان بن بشیر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ دعا ہی عبادت ہے ۱؎ پھر یہ آیت تلاوت کی کہ تمہارا رب فرماتا ہے مجھ سے دعا مانگو میں تمہاری دعا قبول کروں گا ۲؎ (احمد،ترمذی،ابوداؤد،نسائی، ابن ماجہ)

۱؎  الدعاء میں الف لام عہدی ہے یعنی اﷲ سے دعا کرنا بھی عبادت ہے کہ اس میں اپنی بندگی اور رب تعالٰی کی ربوبیت کا اقرار و اظہار ہے،یہ ہی عبادت ہے،لہذا اس پر بھی ثواب ملے گا،لہذا اس کا مطلب یہ نہیں کہ کسی بندے سے کچھ مانگنا گویا اس کی عبادت ہے یہ شرک ہے،لہذا حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم سے مانگنا،حاکم سے حکیم سے مالداروں سے کچھ مانگنا نہ یہ اصطلاحی دعا ہے اور نہ کفر و شرک،بندے بندوں سے دارو و دعا مانگا ہی کرتے ہیں غرض یہ کہ دعاء شرعی اور ہے اور دعائے لغوی کچھ اور جیسے صلوۃ شرعی اورہے یعنی نماز دعا لغوی کچھ اورنزول رحمت،دعائے رحمت وغیرہ،رب تعالٰی فرماتاہے:"اَقِیۡمُوا الصَّلٰوۃَ" یہاں صلوۃ شرعی مراد ہے اور صلوا علیہ میں صلوۃ لغوی مراد یا یوں کہو کہ اﷲ کے بندوں سے دعا مانگنا رب تعالٰی کی عبادت ہے نہ کہ ان بندوں کی،جیسے کعبہ کی طرف سجدہ کرنا رب تعالٰی کی عبادت ہے نہ کہ کعبہ کی بہرحال یہ حدیث وہابیوں کی دلیل نہیں ہوسکتی۔

۲؎  یہ آیت شہادت کے طور پر پیش فرمائی کہ جیسے رب تعالٰی نے نماز روزے کا حکم دیا ہے ویسے ہی دعا کا حکم دیا ہے۔اور اس پر قبولیت کا وعدہ فرمایا ہے۔ پہلے عرض کیا جاچکا ہے کہ قبولیت دعا کی تین صورتیں ہیں،مدعی پورا کردینا کوئی آفت ٹال دینا،درجات بڑا دینا،وغیرہ اس کے بعد رب تعالٰی فرمارہاہے:"اِنَّ الَّذِیۡنَ یَسْتَکْبِرُوۡنَ عَنْ عِبَادَتِیۡ"۔دعا کے بعد عبادت کا ذکر فرمانے سے معلوم ہوا کہ دعا عبادت ہے۔ خیال رہے کہ دعا مانگنا اکثر مستحب ہے واجب نہیں لہذا آیت کی یہ وعید اس کے لیے ہے جو تکبر سے دعا نہ مانگےکہ یہ تو کفر ہے۔(لمعات)

2231 -[9]

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الدُّعَاءُ مُخُّ الْعِبَادَةِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ دعا عبادت کا مغز ہے ۱؎ (ترمذی)

۱؎ یعنی دعا عبادت کا رکن اعلیٰ ہے جیسے مغز کے بغیر ہڈی کی،گودے کے بغیر چھلکے کی کوئی قدر نہیں ایسے ہی دعا سے خالی عبادت کی کوئی قدر نہیں،رب تعالٰی مانگنے کو پسند فرماتاہے جیسے حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم فرماتے ہیں"الحج عرفۃ"حج عرفہ کا نام ہے

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن