دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم

آپ نے ان دو سورتوں انفال و توبہ کے درمیان ایک فصل تو رکھا مگر دوسرا فصل بسم اﷲ والا نہ کیا اس کی کیا وجہ ہے سبحان اﷲ! دونوں سوال بہت ہی اہم ہیں۔

 ۳؎ یعنی سورۃ انفال کو جس کی آیتیں سو سے کم بھی ہیں مثانی میں رکھا حالانکہ مثانی سورتوں کی آیتیں تو مئین سے بھی زیادہ ہونی چاہئیں۔خیال رہے کہ مئین سورتوں کی آیتوں سو سے زیادہ ہیں اس لیے انہیں مئین کہتے ہیں اور مثانی کی آیتیں تو مئین سے بھی زیادہ ہیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ سورۂ توبہ پہلے چاہیئے تھی کہ بڑی ہے اور سورۂ انفال بعد کہ یہ جھوٹی ہے۔

۴؎ یعنی کبھی تو عرصہ تک حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم پر کوئی وحی نہ آتی تھی اور کبھی مسلسل سورتیں آتی رہتی تھیں پھر آیات کے نزول کا یہ حال تھا کہ کبھی کسی سورۃ کی کوئی آیت آگئی اور کبھی دوسری سورہ کی کوئی آیت سورتوں کے نزول کا بھی یہ ہی حال تھا کہ کبھی پچھلی سورۃ پہلے آگئی اور کبھی اگلی سورۃ پیچھے نازل ہو گئی،کیونکہ سورتوں آیتوں کا نزول حسب ضرورت ہوتا تھا یہ ترتیب نزول کے مطابق نہیں بلکہ لوح محفوظ کی ترتیب کے لحاظ سے ہے یہ کلام جواب کے علاوہ ہے۔

۵؎ یعنی جب کوئی آیت نازل ہوتی تو فرمادیتے کہ یہ آیت فلاں سورۃ کی فلاں آیت کی بعد رکھو معلوم ہوا کہ ترتیب آیات توقیفی چیز ہے،جس میں عقل کو دخل نہیں،اسی لیے خود حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے حکم اپنے اہتمام سے ترتیب دلائی،کیو نکہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کی نظر لوح محفوظ پرتھی،دیکھتے تھے کہ وہاں کون سی آیت کس جگہ ہے،ادھر دیکھ کر ادھر ترتیب دیتے تھے۔

 ۶؎ یہ دونوں جملے مکرر معلوم ہوتے ہیں مگر ان میں فرق یہ ہے کہ وہاں شیئ فرمایا گیا جس سے چند آیتوں کا مجموعہ مراد ہے اور یہاں آیۃ ارشاد ہوا یعنی ایک آیت مطلب یہ ہوا کہ اگر چند آیتیں ایک دم آتیں تو ان میں بھی سرکار خود ہی ترتیب دیتے تھے،اور اور اگر صرف ایک آیت آتی تب بھی ترتیب دیتے۔ خیال رہے کہ آیتوں کی ترتیب توبالاتفاق توقیفی ہے جس میں عقل کو دخل نہیں مگر سورتوں کی ترتیب میں اختلاف ہے بعض نے کہا وہ بھی توقیفی ہے بعض کے ہاں نہیں۔(مرقات)

۷؎ یعنی سورۃ انفال و براءت دونوں مدنی ہیں،اس لیے انہیں ایک ساتھ رکھا گیا،پھر سورۂ انفال پہلے ا تری،اس لیے اسے آگے رکھا گیا،اور سورہ براءت بعد آئی،اس لیے اسے پیچھے رکھا گیا یہ وجہ جمع و ترتیب کی ہوئی۔

 ۸؎ یعنی سورۂ انفال و براءت کا مضمون یکساں ہے کہ سورۃ انفال میں اکثر دین کی سر بلندی کفر کی نگو نساری کا ذکر ہے اور سورہ براءت میں زیادہ تر منافقوں کی رسوائی ان کی پردہ دری و عتاب کا ذکر ہے جو دین کی بلندی کا نتیجہ ہے،اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دونوں ایک ہی سورت ہیں۔

 ۹؎ یعنی حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم بسم اﷲ کے نزول سے معلوم فرماتے تھے کہ یہ آیت مستقل علیحدہ سورۃ ہیں یہ ہی ہم کو بتادیتے تھے مگر سورۂ براءۃ کے متعلق حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے یہ خبر نہ دی کہ یہاں بسم اﷲ آگئی ہے یہ سورۃ انفال سے علیحدہ سورت ہے۔

 ۱۰؎ خلاصہ جواب یہ ہوا کہ ان دونوں سورتوں کا مدنی ہونا دونوں کے مضامین کا بہت مناسب ہونا درمیان میں بسم اﷲ نہ آنا ان سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دونوں سورتیں ایک ہی سورۃ ہیں اس لیے درمیان میں بسم اﷲ نہ لکھی گئی مگر دونوں کے نزول میں اتنا فاصلہ ہونا کہ سورہ انفال شروع ہجرت میں نازل ہوئی اور سورت توبہ آخر میں۔ اس سےمعلوم ہوتا ہے کہ الگ الگ دو سورتیں ہیں اس لیے میں نے ان کی علیحدگی کی ایک علامت تو رکھ دی یعنی درمیان میں  لمبا خط سورۃ کا نام اس کی آیتوں رکوعوں کا ذکر اور دوسری علامت نہ

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن