دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم

۱۰؎ چنانچہ قرآن کریم کے سات نسخے نقل کئے گئے جن میں سے ایک مدینہ پاک میں رکھا گیا اور ایک کوفہ،ایک بصرہ ایک شام،ایک بحرین اور ایک مکہ معظمہ کو بھیجے۔

 ۱۱؎  یحرق ح مہملہ سے ہے،بمعنی جلادینا،بعض نسخوں میں یخرق خ منقوطہ سے ہے بمعنی پھاڑ ڈالنا یعنی اس کے علاوہ قرآن کے دوسرے اوراق کے جلا ڈالنے کا حکم دیا یا پھاڑ دینے کا مگر یحرق حاء مہملہ سے زیادہ مشہور ہے۔ خیال رہے کہ بعض صحابہ کے پاس کچھ اوراق تھے جن میں وہ آیات بھی تھیں جو منسوخ التلاوت ہوچکی تھیں۔مگر انہیں نسخ کی خبر نہ ہوئی تھی اور بعض تفسیری نوٹ بھی تھے جو حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے آیت کے ساتھ بطور تفسیر ارشاد فرمائے تھے یہ حضرات ان سب کو قرآن ہی سمجھے ہوئے تھے جیسے حضرت ابی ابن کعب یا ابن مسعود کے مصاحف،اگر وہ اوراق باقی رہ جاتے تو مسلمانوں میں بڑا فتنہ پھیلتا،ہر فرقہ کہتا کہ یہ قرآن درست دوسرا غلط اس لیے باقی تمام نسخے جلوادیئے گئے بعض بے وقوف کہتے ہیں کہ فضائل علی و اہل بیت کی آیات جلادی گئیں اور اب یہ موجودہ قرآن ناقص ہے مگر یہ محض غلط ہے ورنہ حضرت علی مرتضیٰ اس وقت خاموش نہ بیٹھتے قرآن کی حفاظت کے لیے اپنی جان قربان کردیتے کم از کم اپنے دور خلافت میں اس اصلی قرآن کو جاری کرتے اور اس قرآن سے نماز وغیرہ کبھی ادا نہ کرتے،یہ بھی خیال رہے کہ اس وقت ان نسخوں کا جلا ڈالنا ہی بہتر بلکہ ضروری تھا کہ اگر وہ دفن ہوتےتو بعد میں پھر نکال لیے جاتےاور ان کی اشاعت سے فساد پھیلتا اور اتنے اوراق دھونا دشوار بھی تھا اور خطرناک بھی ورنہ بے کار قرآن کے اوراق کا دفن کردینا بہتر ہے یا اگر قلمی ورق ہو تو اسے دھو کر پی لینا افضل ہے کہ یہ پانی ہر مرض کی شفا ہے۔ مرقاۃ

۱۲؎  ابن شہاب امام زہری کی کنیت ہے اور خارجہ زید ابن ثابت کے بیٹے ہیں،مدینہ منورہ کے بڑے علماء میں سے تھے تابعی ہیں انہوں نے اپنے والد زید ابن ثابت سے یہ سنا۔

۱۳؎  یعنی جب ہم نے صحیفہ صدیقی سے صحف عثمانیہ میں قرآن شریف نقل کیا تو اس صحیفہ میں یہ آیت نہ ملی غالب یہ ہے کہ وہ پرچہ اس عرصہ میں گم ہوگیا ہوگا یا گل گیا ہوگا ورنہ حضرت صدیق اکبر کے زمانہ میں ساری آیتیں مع ساری قرأتوں کے جمع ہوچکی تھیں ان بزرگوں کو یہ آیت بخوبی یاد تھا مگر کوشش یہ کی گئی کہ کہیں سے یہ آیت لکھی ہوئی بھی مل جائے اور ہوسکتا ہے کہ یہ واقعہ عہد صدیقی میں جمع قرآن کے وقت کا ہو۔

۱۴؎ یعنی لکھی ہوئی صرف حضرت خزیمہ انصاری کے پاس تھی باقی دوسرے لوگوں کو یاد ضرور تھی حضرت خزیمہ کی کنیت ابو عمارہ ہے،اوسی ہیں،بدری ہیں،بدراور اس کے بعد کے تمام غزوات میں حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ رہے، جنگ صفین میں حضرت علی کے ساتھ تھے اسی جنگ میں شہید ہوئے رضی اللہ عنہ۔

۱۵؎  اس طرح کہ یہ آیت سورۂ احزاب میں اپنی جگہ پر رکھ دی گئی،مرقات نے فرمایا کہ غالب یہ ہے کہ یہ واقعہ پہلی جمع کے وقت ہوا یعنی زمانہ صدیقی اس وقت سورہ توبہ کی آیت "لَقَدْ جَآءَکُمْ رَسُوۡلٌ"کا بھی یہی معاملہ ہوا تھا ورنہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ زمانہ صدیقی میں تمام قرآن جمع ہوجائے اور پھر یہ آیت اس میں نہ ہو،یہ جمع   ۲۵ھ؁ میں ہوا۔مرقات نے فرمایا کہ عہد صدیقی کا جمع کیا ہوا قرآن مروان ابن حکم کے زمانہ میں جلادیا گیا حضرت حفصہ کی وفات کے بعد۔اشعۃ اللمعات میں شیخ نے فرمایا کہ حضرت علی نے بھی نزول کے مطابق قرآنی آیات جمع فرمائی تھیں مگر فتنہ کے خوف سے اس قرآن  کی اشاعت نہ کی بلکہ اسے تلف کردیا تاکہ مسلمانوں میں دو قرآن نہ ہوجائیں کہ یہ سخت فتنہ کا باعث ہوگا۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن