30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
لیے رب تعالٰی فرماتاہے:"اِنَّ الَّذِیۡنَ یَکْتُمُوۡنَ مَاۤ اَنۡزَلْنَا مِنَ الْبَیِّنٰتِ وَالْہُدٰی مِنۡۢ بَعْدِ مَا بَیَّنّٰہُ لِلنَّاسِ فِی الْکِتٰبِ اُولٰٓئِکَ یَلۡعَنُہُمُ اللہُ وَیَلْعَنُہُمُ اللّٰعِنُوۡنَ"یعنی قرآن چھپانے والے پر اﷲ کی اور سب خلق کی لعنت ہے۔
|
2221 -[11] وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: أَنَّ حُذَيْفَةَ بْنَ الْيَمَانِ قَدِمَ عَلَى عُثْمَانَ وَكَانَ يُغَازِي أَهْلَ الشَّامِ فِي فَتْحِ أَرْمِينِيَّةَ وَأَذْرَبِيجَانَ مَعَ أَهْلِ الْعِرَاقِ فَأَفْزَعَ حُذَيْفَةَ اخْتِلَافُهُمْ فِي الْقِرَاءَةِ فَقَالَ حُذَيْفَةُ لِعُثْمَانَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَدْرِكْ هَذِهِ الْأُمَّةَ قَبْلَ أَنْ يَخْتَلِفُوا فِي الْكِتَابِ اخْتِلَافَ الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى فَأَرْسَلَ عُثْمَانُ إِلَى حَفْصَةَ أَنْ أَرْسِلِي إِلَيْنَا بِالصُّحُفِ نَنْسَخُهَا فِي الْمَصَاحِفِ ثُمَّ نَرُدُّهَا إِلَيْكِ فَأَرْسَلَتْ بِهَا حَفْصَةُ إِلَى عُثْمَانَ فَأَمَرَ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزبير وَسَعِيد بن الْعَاصِ وَعبد الرَّحْمَن بْنَ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ فَنَسَخُوهَا فِي الْمَصَاحِفِ وَقَالَ عُثْمَانُ لِلرَّهْطِ الْقُرَشِيِّينَ الثَّلَاثِ إِذَا اخْتَلَفْتُمْ فِي شَيْءٍ مِنَ الْقُرْآنِ فَاكْتُبُوهُ بِلِسَانِ قُرَيْشٍ فَإِنَّمَا نَزَلَ بِلِسَانِهِمْ فَفَعَلُوا حَتَّى إِذَا نَسَخُوا الصُّحُفَ فِي الْمَصَاحِفِ رَدَّ عُثْمَانُ الصُّحُفَ إِلَى حَفْصَةَ وَأَرْسَلَ إِلَى كُلِّ أُفُقٍ بِمُصْحَفٍ مِمَّا نَسَخُوا وَأَمَرَ بِمَا سِوَاهُ مِنَ الْقُرْآنِ فِي كُلِّ صَحِيفَةٍ أَوْ مُصْحَفٍ أَنْ يُحْرَقَ قَالَ ابْن شهَاب وَأَخْبرنِي خَارِجَة بن زيد بن ثَابت سَمِعَ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ قَالَ فَقَدْتُ آيَةً مِنَ الْأَحْزَابِ حِينَ نَسَخْنَا الْمُصْحَفَ قَدْ كُنْتُ أَسْمَعُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ بِهَا فَالْتَمَسْنَاهَا فَوَجَدْنَاهَا مَعَ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيِّ (مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا الله عَلَيْهِ)فَأَلْحَقْنَاهَا فِي سُورَتِهَا فِي الْمُصْحَفِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ
|
روایت ہے حضرت انس ابن مالک سے کہ حضرت حذیفہ ابن یمان جناب عثمان کی خدمت میں آئے جب کہ آپ فتح ارمینیہ میں شام والوں اور فتح آذربیجان میں عراق والوں سے جہاد کر رہے تھے حضرت حذیفہ کو لوگوں کی قرأت قرآن کے اختلاف نے گھبرا دیا تھا ۱؎ چنانچہ حضرت حذیفہ نے حضرت عثمان سے عرض کیا اے امیرالمؤمنین اس امت کی اس سے پہلے مدد کیجئے جب کہ وہ یہود و نصاریٰ کی طرح کتاب اﷲ میں اختلاف کر بیٹھیں ۲؎ تب جناب عثمان غنی نے بی بی حفصہ کو پیغام بھیجا کہ ہمارے پاس وہ اوراق بھیج دو تاکہ ہم انہیں صحیفوں میں نقل کرلیں۳؎ پھر تمہیں واپس کردیں گے ۴؎ حضرت حفصہ نے وہ صحیفے جناب عثمان کو بھیج دیئے آپ نے حضرت زید ابن ثابت عبداﷲ ابن زبیر سعید ابن عاص عبداﷲ ابن حارث ابن ہشام کو حکم دیا ۵؎ انہوں نے اسے مختلف صحیفوں میں نقل کیا ۶؎ اور حضرت عثمان نے قریشی جماعت سے فرمایا جو تین صاحب تھے ۷؎ کہ جب تم اور زید ابن ثابت قرآن کی کسی آیت میں اختلاف کرو ۸؎ تو اسے زبان قریش ہی میں لکھنا کیونکہ قرآن زبان قریش میں اترا ہے ۹؎ چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا حتی کہ جب یہ صحیفے دیگر مصاحف میں نقل کرلیے تو حضرت عثمان نے یہ اوراق بی بی حفصہ کو واپس کردیئے اور ان نقل شدہ میں سے ہر طرف ایک نسخہ بھیج دیا ۱۰؎ اور ان کے سواء بقیہ اور نسخوں کو جلا دینے کا حکم دے دیا ۱۱؎ ابن شہاب فرماتے ہیں کہ مجھے خارجہ ابن زید ابن ثابت نے خبر دی۱۲؎ کہ انہوں نے حضرت زید ابن ثابت کو فرماتے سنا کہ میں نے سورۂ احزاب کی ایک آیت قرآن نقل کرتے وقت گم پائی جو میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کو پڑھتے ہوئے سنا کرتا تھا ۱۳؎ ہم نے اسے بہت تلاش کیا تو اسے خزیمہ ابن ثابت انصاری کے پاس پایا۱۴؎ یعنی یہ آیت کہ مؤمنوں میں بعض وہ لوگ ہیں جنہوں نے اﷲ تعالٰی سے کئے ہوئے عہد کو سچ کر دکھایا چنانچہ ہم نے اسے قرآن شریف میں اس سورت سے ملادیا۔(بخاری)۱۵؎ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع