30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱۱؎ یعنی اگرچہ قرآن جمع کرنا بدعت ہے مگر اچھی بدعت ہے ۔خیال رہے کہ ایجادات صحابہ کو حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے سنت فرمایا ہے علیکم بسنتی و سنۃ الخلفاء الراشدین لغوی معنے سے یعنی طریقہ و مسلک،رب تعالٰی نے فرمایاہے:"سُنَّۃَ مَنۡ قَدْ اَرْسَلْنَا قَبْلَکَ مِنۡ رُّسُلِنَا"۔اور میں بھی سمجھ گیا کہ ہر بدعت بری نہیں ہوتی بعض بدعتیں اچھی بھی ہوتی ہیں جمع قرآن مجید ہے تو بدعت مگر اچھی ہے۔
۱۲؎ خیال رہے کہ چار صحابہ کو قرآن کریم مکمل حفظ تھا،ابی ابن کعب،زید ابن ثابت،معاذ ابن جبل،ابوالدرداء رضی اللہ عنہم،مگر حضرت زید نے صرف اپنی یاد پر جمع نہ فرمایا بلکہ تمام صحابہ سے ہر آیت کی تائید حاصل کی چنانچہ مختلف آیتیں مختلف صحابہ سے مختلف طرح ملیں کسی کو صرف یاد تھیں، کسی کے پاس یاد کے علاوہ پتوں،پتھروں وغیرہ پر لکھی ہوئی بھی تھیں،حضرت زید بن ثابت نے ان تمام چیزوں کو جمع کیا،پھر اپنی یاد سے مقابلہ کیا پھر انہیں مختلف اوراق میں پرچوں کی شکل میں یکجا کرکے انہی دھاگہ سے باندھ کر ایک تھیلہ میں محفوظ کرلیا۔صدیق اکبر کے زمانہ میں جمع قرآن کی یہ نوعیت ہوئی کہ آیات قرآنیہ متفرق تھیں ایک دھاگہ اور ایک تھیلہ میں جمع ہوگئیں،حضرت عثمان غنی کے زمانہ میں یہ تمام پرزے اور ورق ایک کتابی شکل میں جمع کرکے ان کی مختلف نقلیں کرا کر ہر طرف بھیجی گئیں کتابی شکل میں قرآن کا آنا عہد عثمانی میں ہوا،اس لیے حضرت عثمان کو جامع قرآن کہا جاتا ہے۔خلاصہ یہ کہ جمع قرآن تین بار ہوا ایک بار تو عہد نبوی میں کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کے حکم سے لوگوں نے اپنے ذہن میں ترتیب دے لیں،پھر عہد صدیقی میں کہ مختلف اوراق ایک دھاگہ ایک تھیلہ میں جمع ہوگئے پھر عہد عثمانی میں قرآن شریف کتابی شکل میں آگیا،لمعات و مرقات،اس تقریر سے تمام شبہات دفع ہوگئے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے خود جمع قرآن کیوں نہ کیا،یہ کہ جب جامع قرآن ابوبکر صدیق ہیں تو عثمان غنی کو جامع قرآن کیوں کہا جاتا ہے۔یہ کہ پھر تو قرآنی آیات متواتر نہ رہیں بعض مشکوک ہوگئیں جو محض اوراق یا پتوں یا پتھروں سے لی گئیں وغیرہ۔
۱۳؎ یعنی یہ آیت ابوخزیمہ انصاری کے سواء کسی کے پاس لکھی ہوئی محفوظ نہ تھی یاد مجھے بھی تھی اور دوسرے صحابہ کو بھی مگر میں نے صرف اپنی یاد پر آیات جمع نہ کیں لہذا اس سے لازم یہ نہیں کہ یہ آیت متواتر نہ تھی۔
۱۴؎ براءۃ سورۃ توبہ کا نام ہے کیونکہ اس کے اول میں ہے"بَرَآءَۃٌ مِّنَ اللہِ " یعنی سورۂ توبہ کی آخری آیت"لَقَدْ جَآءَکُمْ"سے "رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیۡمِ"تک صرف ابوخزیمہ انصاری کے پاس لکھی ہوئی ملی،مرقات نے فرمایا کہ الفاظ قرآن دلیل قطعی سے ثابت ہیں اور طریقہ کتابت دلیل ظنی سے۔
۱۵؎ چونکہ صدیق اکبر کی حیات شریف میں ہی حضرت عمر خلیفہ ہوگئے تھے۔اس لیے اوراق آیات کا یہ تھیلہ عمر فاروق کو خود صدیق اکبر ہی نے عطا فرمادیا تھا اور حضرت فاروق کی زندگی میں خلیفہ مقرر نہ ہوا تھا بعد میں چناؤ ہونا تھا،اس لیے یہ اوراق جناب عمر کی صاحبزادی حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کی زوجہ مطہرہ ام المؤمنین حفصہ کے پاس امانۃ محفوظ رہے جو پھر حضرت عثمان نے ان سے منگالیے جس کا ذکر اگلی حدیث میں آرہا ہے ۔
۱۶؎ یہاں مرقات نے حدیث حسن نقل کی کہ حضرت علی فرماتے ہیں کہ مسلمانوں پر احسان عظیم فرمانے والے ابوبکر صدیق ہیں اﷲ ان پر رحمتوں کی بارش کرے کہ مسلمانوں کو قرآن جمع کرکے دے گئے وہ جو بعض لوگ کہتے ہیں کہ حضرت علی نے خفیہ قرآن جمع کیا وہ روافض کی گھڑی ہوئی ہے ورنہ وہ ضرور اس قرآن کی اشاعت کرتے قرآن تو اشاعت کے لیے آیا نہ کہ غار میں چھپانے کے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع