30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بکری ہی دی جائے گی اور سونے کی زکوۃ میں سونا اور چاندی ہی۔وہ زکوۃ کو قربانی یا ہدی پر قیاس کرتے ہیں کہ ان کی قیمت نہیں دی جاتی۔(لمعات)ہمارے امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اﷲ علیہ کے نزدیک مال کی زکوۃ مالک کے ذمہ میں ہوتی ہے چاہے اس مال میں سے دے یا دوسرے مال میں سے یا قیمت حتی کہ سونے چاندی کی زکوۃ میں خودسوناچاندی یا اس کی قیمت یا اس قیمت کی روٹیاں، کوئی جانور،کپڑا،صابن وغیرہ دے سکتا ہے کیونکہ زکوۃ کا منشاء فقیر کو رزق پہنچانا اور اس کی حاجت روائی ہے، ان بزرگوں کا اس حدیث سے دلیل پکڑنا کچھ ضعیف ہی سا ہےکیونکہ ان حضرات نے لفظ خلط سے استدلال کیا ہے کہ خلط مال کا ہوتا ہے نہ کہ ذمہ کا مگر یہ ظاہر کے خلاف ہے اسی لیے خود صاحب مشکوٰۃ اگلا کلام فرمارہے ہیں۔
۴؎ اس توجیہ نے حدیث کو بالکل واضح کردیا کہ جو مال زکوۃ بن کر امیر کے پاس سے نکل چکا اسے گویا غیرمستحق زکوۃ لے کر اپنے مال سے ملالے اب خلط کے معنے بالکل واضح ہوگئے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع