30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
لیے سورۃ توبہ میں بسم اﷲ نہ لکھی گئی کیونکہ وہاں بسم اﷲ کی جگہ معلوم نہ ہوسکی سورۃ توبہ کا علیحدہ سورت ہونا مشکوک تھا اس لیے وہاں سورۃ کا نام تو لکھ دیا گیا بسم اﷲ نہ لکھی گئی، بعض علماء نے فرمایا کہ بسم اﷲ رحمت کی آیت ہےاور سورۃ توبہ عذاب و قہر کی سورۃ ہے اس لیے قہر کی سورت میں رحمت کی آیت مناسب نہیں۔(مرقات لمعات مع اضافہ)
|
2219 -[9] (مُتَّفق عَلَيْهِ) وَعَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ: كُنَّا بِحِمْصَ فَقَرَأَ ابْنُ مَسْعُودٍ سُورَةَ يُوسُفَ فَقَالَ رَجُلٌ: مَا هَكَذَا أُنْزِلَتْ. فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: وَاللَّهِ لَقَرَأْتُهَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «أَحْسَنْتَ» فَبَيْنَا هُوَ يُكَلِّمُهُ إِذْ وَجَدَ مِنْهُ رِيحَ الْخَمْرِ فَقَالَ: أَتَشْرَبُ الْخَمْرَ وَتُكَذِّبُ بِالْكِتَابِ؟ فَضَرَبَهُ الْحَد |
روایت ہے حضرت علقمہ سے فرماتے ہیں ہم حمص میں تھے حضرت ابن مسعود نے سورۂ یوسف پڑھی تو ایک شخص بولا یہ اس طرح نہیں اتری حضرت عبداﷲ نے فرمایا اﷲ کی قسم میں نے یہ سورۃ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانہ پاک میں پڑھی تو حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ٹھیک پڑھی ۱؎ جب کہ وہ شخص باتیں کررہا تھا کہ اس سے شراب کی بو محسوس کی تو عبداﷲ نے فرمایا تو شراب پیتا ہے اور قرآن کو جھٹلاتا ہے پھر اسے حدلگائی ۲؎(مسلم،بخاری) |
۱؎ یعنی تو تو کہتا ہے کہ سورۂ یوسف اس طرح نازل ہوئی اور خود صاحب قرآن صلی اللہ علیہ و سلم نے میری یہ ہی سورۃ سنی اور تصدیق و تحسین فرمائی تھی یہ فخریہ نہ کہا تھا بلکہ نعمت الٰہی کے اظہار کے لیے فرمایا۔
۲؎ اسی کوڑے شراب پینے کی سزا اس سے چند مسئلے ثابت ہوئے: ایک یہ کہ شراب کی بو منہ سے پائی جائے تو اس سے شراب پینے کا ثبوت ہوجائے گا، مجرم اقرار کرے یا نہ کرے،گواہی قائم ہو یا نہ ہو،مگر شرط یہ ہے کہ بو یقینًا شراب ہی کی ہو کھٹے سیب یا بہی کی نہ ہو،یہ ہی احناف کا مذہب ہے۔دوسرے یہ کہ شراب کی بو پائے جانے یا شراب کی قے کرنے پربھی حد شرب یعنی شراب کی سزا دی جاسکتی ہے۔تیسرے یہ کہ نشہ والے کا ارتداد معتبر نہیں کہ وہ اپنے ہوش میں نہیں ہوتا،دیکھو قرآن شریف کا یا اس کی متواتر قرأت یعنی طریقۂ ادا کا انکار کفر ہے،مگر حضرت ابن مسعود نے اسے مر تد قرار نہ دیا،بلکہ شرابی قرار دیا ورنہ آپ یا تو اسے قتل کراتے ورنہ تجدید ایمان و تجدید نکاح کا حکم دیتے ایک بار حضرت حمزہ نے نشہ کی حالت میں حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم و دیگر صحابہ سے کہہ دیا تھا"ھل انتم الا عبید لابی"یہ گفتگو کفر تھی،مگر انہیں کافر نہ کہا گیا فقہاء فرماتے ہیں کہ اگر میت سے بحالت نزع روح کفریہ بات سنی جائے تو اسے کافر نہ مانا جائے گا،اس کی نماز جنازہ و دفن کیا جائے گا کہ اس وقت ہوش ٹھکانے نہیں ہوتے بے ہوشی میں کہہ رہا ہے۔ بعض صوفیاء سے سکرکی حالت میں کلمۂ کفر ثابت ہیں جیسے انا الحق یا سبحانی ما اعظم شانی وہ معذور ہیں کہ مدہوش ہیں،نیند کا بھی یہ ہی حال ہے۔
|
2220 -[10] وَعَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ: أَرْسَلَ إِلَيَّ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَقْتَلَ أَهْلِ الْيَمَامَةِ. فَإِذَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ عِنْدَهُ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ إِنَّ عُمَرَ أَتَانِي فَقَالَ إِنَّ الْقَتْلَ قَدِ اسْتَحَرَّ يَوْمَ الْيَمَامَةِ بِقُرَّاءِ الْقُرْآنِ وَإِنِّي أَخْشَى أَنِ اسْتَحَرَّ الْقَتْلُ بِالْقُرَّاءِ بِالْمَوَاطِنِ فَيَذْهَبُ كَثِيرٌ مِنَ الْقُرْآنِ وَإِنِّي أَرَى أَنْ تَأْمُرَ بِجَمْعِ الْقُرْآنِ قُلْتُ لِعُمَرَ كَيْفَ تَفْعَلُ شَيْئًا لَمْ يَفْعَلْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ عُمَرُ هَذَا وَاللَّهِ خَيْرٌ فَلم يزل عمر يراجعني فِيهِ حَتَّى شرح الله صَدْرِي لذَلِك وَرَأَيْت الَّذِي رَأَى عُمَرُ قَالَ زَيْدٌ قَالَ أَبُو بَكْرٍ إِنَّكَ رَجُلٌ شَابٌّ عَاقِلٌ لَا نَتَّهِمُكَ وَقَدْ كُنْتَ تَكْتُبُ الْوَحْيَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَتَبَّعِ الْقُرْآنَ فَاجْمَعْهُ فَوَاللَّهِ لَوْ كَلَّفُونِي نَقْلَ جَبَلٍ مِنَ الْجِبَالِ مَا كَانَ أَثْقَلَ عَلَيَّ مِمَّا أَمَرَنِي بِهِ مِنْ جمع الْقُرْآن قَالَ: قلت كَيفَ تَفْعَلُونَ شَيْئا لم يَفْعَله النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ هُوَ وَاللَّهِ خير فَلم أزل أراجعه حَتَّى شرح الله صَدْرِي للَّذي شرح الله لَهُ صدر أبي بكر وَعمر. فَقُمْت فَتَتَبَّعْتُ الْقُرْآنَ أَجْمَعُهُ مِنَ الْعُسُبِ وَاللِّخَافِ وَصُدُورِ الرِّجَال حَتَّى وجدت من سُورَة التَّوْبَة آيَتَيْنِ مَعَ أَبِي خُزَيْمَةَ الْأَنْصَارِيِّ لَمْ أَجِدْهَا مَعَ أَحَدٍ غَيْرِهِ (لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ)حَتَّى خَاتِمَةِ بَرَاءَةَ. فَكَانَتِ الصُّحُفُ عِنْدَ أَبِي بَكْرٍ حَتَّى تَوَفَّاهُ اللَّهُ ثُمَّ عِنْدَ عُمَرَ حَيَاته ثمَّ عِنْد حَفْصَة. رَوَاهُ البُخَارِيّ |
روایت ہے حضرت زید ابن ثابت سے فرماتے ہیں مجھے ابوبکر صدیق نے جنگ یمامہ کے موقعہ پر بلایا ۱؎ تو حضرت عمر ابن خطاب آپ کے پاس تھے ابوبکر صدیق نے فرمایا کہ جناب عمر میرے پاس آئے تو بولے کہ یمامہ کے دن قرآن کے قاری بہت شہید ہو گئے میں ڈرتا ہوں کہ اگر اور چند جنگوں میں قاری شہید ہوتے رہے تو بہت سا قرآن ضائع ہوجائے گا ۲؎ لہذا میری رائے یہ ہے آپ قرآن جمع کرنے کا حکم دے دیں ۳؎ میں نے عمر سے کہا تم وہ کام کیسے کرسکتے جو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے نہ کیا ۴؎ فرماتے ہیں کہ تب حضرت عمر نے کہا رب کی قسم یہ کام اچھا ہے حضرت عمر بار بار یہ کہتے رہے حتی کہ اﷲ نے اس کام کے لیے میرا سینہ کشادہ کردیا ۵؎ اور میں نے حضرت عمر کی رائے میں مصلحت دیکھی حضرت زید کہتے ہیں کہ جناب ابوبکر نے فرمایا تم جوان ہو عقلمند ہو ہمیں تم پر بداعتمادی نہیں ۶؎ اور تم رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس وحی لکھتے رہے ہو ۷؎ لہذا تم ہی قرآن تلاش کرو اور اسے جمع کردو ۸؎ اﷲ کی قسم اگر وہ مجھے پہاڑوں میں سے کسی پہاڑ کے ہٹادینے کا حکم دیتے وہ مجھ پر اتنا گراں نہ ہوتا جتنا قرآن جمع کرنے کا حکم مجھ پر بھاری پڑا ۹؎ فرماتے ہیں میں نے کہا آپ وہ کام کیوں کرتے ہیں جو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے نہ کیا حضرت صدیق نے فرمایا خدا کی قسم یہ کام بہت ہی اچھا ہے ۱۰؎ پھر حضرت صدیق بار بار مجھے یہ فرماتے رہے حتی کہ اﷲ نے میرا سینہ بھی اس کے لیے کھول دیا جس کے لیے حضرت صدیق و فاروق کا سینہ کھولا ۱۱؎ پھر میں نے قرآن کی تلاش شروع کی کہ اسے خرمے کی شاخوں،پتھروں اور لوگوں کے سینوں سے جمع کرنے لگا۱۲؎ حتی کہ سورہ توبہ کا آخری حصہ حضرت ابو خزیمہ انصاری کے پاس پایا ان کے سواء کسی کے پاس نہ ملا ۱۳؎ یعنی لقد جاء کم رسول سے ختم سورۃ برات تک ۱۴؎ پھر یہ اوراق حضرت ابوبکر کے پاس رہے حتی کہ رب نے انہیں وفات دی دی پھر تاحین حیات حضرت عمر کے پاس پھر حضرت حفصہ بنت عمر کے پاس ۱۵؎(بخاری)۱۶؎ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع