30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۳؎ یعنی ان سات قرأتوں میں سے جو قرأت پڑھ لی جائے وہ مؤمن کے لیے باعث شفا ہے،اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی نبوت پر کافی دلیل ہے یا دنیا میں شافی ہے آخرت میں ثواب کے لیے کافی ہر قرأت کا ثواب یکساں،کیونکہ صرف الفاظ اور طریقہ ادا میں کچھ فرق ہے معنے یکساں ہیں۔
۴؎ سبحان اﷲ! فرشتے نورانی اور حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نور،نوروں نے نور کو گھیر لیا اور مجمع نور علی نور ہوگیا وحی حضرت جبریل لائے اور حضرت میکائیل صرف قدم بوسی کے لیے حاضر ہوئے حضور انورصلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں مختلف فرشتے مختلف مقاصد لے کر حاضری دیتے تھے کوئی وحی دینے کو کوئی فیض لینے کو۔
۵؎ جبریل ا مین سے اور وہ عرض کریں رب العالمین سے،تاکہ آپ کی امت کو یہ فیض اور یہ آسانی حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کے توسل سے اور ان فرشتوں کے ذریعہ سے میسر ہو۔خیال رہے کہ حضرت جبریل کا عرض کرنا کہ ایک قرأت پر تلاوت قرآن کیجئے رب تعالٰی کی طرف سے تھااور حضرت میکائیل کی یہ عرض بھی حقیقتًا ر ب تعالٰی ہی کی طرف سے ہے کہ یہ عرض ان کے دل میں ڈال دی اس کی حکمتیں ہم ابھی کچھ پہلے عرض کرچکے ہیں۔
۶؎ اس طرح کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کے فرمان پر جبریل امین بارگاہ رب العالمین میں حاضر ہوئے اور دو قرأتوں کی اجازت لائے پھر دوبارہ فرمان عالی پا کر پھر وہاں پہنچے اور تین قرأتوں کی اجازت لائے غرض کہ محب و محبوب کے درمیان سات چکر لگائے جیسے حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے شبِ معراج میں نمازیں کم کرانے کو حضرت کلیم اور بارگاہ ِ رب العالمین کے درمیان دس دفعہ گردش فرمائی تھی یہ منظر بھی عجیب ہوتا ہے۔
|
2216 -[6] وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ مَرَّ عَلَى قَاصٍّ يَقْرَأُ ثُمَّ يَسْأَلُ. فَاسْتَرْجَعَ ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ فليسأل الله بِهِ فَإِنَّهُ سَيَجِيءُ أَقوام يقرؤون الْقُرْآنَ يَسْأَلُونَ بِهِ النَّاسَ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ |
روایت ہے حضرت عمران ابن حصین سے کہ وہ ایک قصہ خواں پر گزرے جو قرآن پڑھتا اور لوگوں سے مانگتا تھا ۱؎ آپ نے انّا ﷲ پڑھی پھر فرمایا ۲؎ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ جو قرآن پڑھے تو اس کے ذریعہ صر ف اﷲ سے مانگے عنقریب ایسی قومیں ہوں گی جو قرآن پڑ ھیں گی اس کے ذریعہ لوگوں سے مانگیں گی(احمد،ترمذی)۳؎ |
۱؎ محدثین کی اصطلاح میں قاصّ پیشہ ور واعظ کو کہتے ہیں جو اپنی تقریر میں احکام شرعیہ بیان نہ کرے صرف شعر اشعار قصے کہانیاں سنا کر لوگوں کو خوش کرنے کی کوشش کرے اگرچہ قرآن شریف ہی کے قصے سنائے مگر احکام سے خالی جیسے آج کل کے عام بے علم واعظین یہ سب قاص ہیں واعظ نہیں کہ واعظ تو نصیحت کرنے والوں کو کہتے ہیں وہ نصیحت نہیں کرتا صرف پیسے مانگتا ہے حاجت مند کسی کو نصیحت نہیں کر سکتا۔
۲؎ اس گناہ و بدعت و علامت قیامت کو دیکھ کر آپ کو سخت صدمہ ہوا اظہار رنج کے لیے آپ نے انا ﷲ پڑھی۔
۳؎ یا تو اس طرح کہ دوران تلاوت میں جب آیت رحمت پر گزرے تو اس کے حصول کی دعا مانگ لے اور جب آیت عذاب تلاوت کرے تو اس سے پناہ مانگ لے یا اس طرح کہ تلاوت سے فارغ ہو کر دعا مانگے،معلوم ہوا کہ تلاوت سے فراغت پر خصوصًا ختم قرآن کے موقع پر دعا ضرور مانگی جائے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع