30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۲؎ یعنی تم نے جو سنا وہ ٹھیک سنا اور انہوں نے جو پڑھا درست پڑھا تمہارا سننا ان کا پڑھنا دونوں ٹھیک ہیں چونکہ تمہیں یہ خبر نہ تھی کہ قرآن کریم کی قرأت مختلف طریقوں سے جائز ہے اس لیے تم یہ انکار کر بیٹھے تمہیں ان صحابی سے اچھا گمان کرنا چاہیئے تھا انہیں میرے پاس لانا نہ چاہیئے تھا۔
۳؎ اس طرح کہ یہود نے توریت کے اور عیسائیوں نے انجیل کے مختلف نسخے بنادیئے اور ہر جماعت نے دوسرے نسخے کا انکار کردیا اور کلام الٰہی کا انکار کفر ہے۔
|
2213 -[3] وَعَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ: كُنْتُ فِي الْمَسْجِدِ فَدَخَلَ رَجُلٌ يُصَلِّي فَقَرَأَ قِرَاءَةً أَنْكَرْتُهَا عَلَيْهِ ثُمَّ دَخَلَ آخَرُ فَقَرَأَ قِرَاءَةً سِوَى قِرَاءَةِ صَاحِبِهِ فَلَمَّا قَضَيْنَا الصَّلَاةَ دَخَلْنَا جَمِيعًا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ إِنَّ هَذَا قَرَأَ قِرَاءَةً أَنْكَرْتُهَا عَلَيْهِ وَدخل آخر فَقَرَأَ سوى قِرَاءَة صَاحبه فَأَمَرَهُمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَرَآ فَحَسَّنَ شَأْنَهُمَا فَسَقَطَ فِي نَفْسِي مِنَ التَّكْذِيبِ وَلَا إِذْ كُنْتُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَلَمَّا رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا قَدْ غَشِيَنِي ضَرَبَ فِي صَدْرِي فَفِضْت عَرَقًا وكأنما أنظر إِلَى الله عز وَجل فَرَقَا فَقَالَ لِي: «يَا أُبَيُّ أُرْسِلَ إِلَيَّ أَن اقْرَأِ الْقُرْآنَ عَلَى حَرْفٍ فَرَدَدْتُ إِلَيْهِ أَنْ هَوِّنْ عَلَى أُمَّتِي فَرَدَّ إِلَيَّ الثَّانِيَةَ اقْرَأْهُ عَلَى حَرْفَيْنِ فَرَدَّدَتْ إِلَيْهِ أَنْ هَوِّنْ عَلَى أُمَّتِي فَرَدَّ إِلَيَّ الثَّالِثَةِ اقْرَأْهُ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ وَلَكَ بِكُلِّ رَدَّةٍ رَدَدْتُكَهَا مَسْأَلَةٌ تَسْأَلُنِيهَا فَقُلْتُ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِأُمَّتِي اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِأُمَّتِي وَأَخَّرْتُ الثَّالِثَةَ لِيَوْمٍ يَرْغَبُ إِلَيَّ الْخَلْقُ كُلُّهُمْ حَتَّى إِبْرَاهِيم صلى الله عَلَيْهِ وَسلم» . رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت ابی ابن کعب سے فرماتے ہیں،میں مسجد میں تھا کہ ایک شخص آکر نماز پڑھنے لگا اس نے ایسی قرأت کی جس کا میں نے انکار کیا ۱؎ پھر دوسرا شخص آیا تو اس نے بھی اس پہلے والے کی قرأۃ کے سواء اور قرأت کی ۲؎ جب ہم نماز پڑھ چکے اور ہم سب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ۳؎ تو میں نے عرض کیا کہ ان صاحب نے ایسی قرأت کی ہے جس کا میں انکاری ہوں اور دوسرے صاحب آئے تو انہوں نے ان کے سوا اور ہی قرأت کی تب نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے ان دونوں کو حکم دیا انہوں نے قرأت کی ۴؎ تو حضور نے ان کی تعریف کی اس سے میرے دل میں کچھ تردد پیدا ہوا ۵؎ جو زمانہ جاہلیت میں نہ ہوا تھا۶؎ جب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے مجھ پر چھایا ہوا تردد ملاحظہ کیا تو میرے سینے پر دستِ اقدس مارا کہ میں پسینے سے نچڑ گیا اور ڈر سے میں ایسا ہوگیا گویا ر ب کو دیکھ رہا ہوں ۷؎ مجھ سے فرمایا اے ابی قرآن مجھ پر ایک قرأت میں بھیجا گیا تھا میں نے رب کی بارگاہ میں رجوع کیا کہ الٰہی میری امت پر آسانی کر ر ب نے مجھے دوبارہ جواب دیا کہ دو قرأتوں پر پڑھ سکتے ہو پھر میں نے رب کی طرف رجوع کیا کہ میر ی امت پر آسانی فرما رب نے تبارہ جواب دیا کہ سات قرأتوں پر تلاوت کرسکتے ہو ۸؎ اور اے محبوب تمہیں ہر بار عرض کے عوض ایک خصوصی دعا بخشے ہیں جو تم ہم سے مانگ لینا ۹؎ میں نے عرض کیا الٰہی میری امت بخش دے الٰہی میری امت بخش دے ۱۰؎ اور میں نے تیسری دعا اس دن کے لیے بچا رکھی ہے جب ساری خلقت حتی کہ ابراہیم علیہ السلام بھی میرے در پر شفاعت کے لیے آئیں گے ۱۱؎(مسلم) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع