30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ڈالئے دیکھو حضرت عمر قرآن کے الفاظ میں فرق دیکھ کر طیش میں آگئے مگر تلاوت ختم ہونے پر حضرت ہشام کو گویا گرفتار کرلیا نہ رعایۃً نہ قرابۃً کی تلاوت۔
۴؎ اس لیے میں انہیں گرفتار کرکے آپ کی خدمت میں لایا ہوں تاکہ آپ اس سے منع فرمادیں اورگزشتہ قصور پر سزا دیں۔ معلوم ہوا کہ حتی الامکان کسی ملزم کو خود سزا نہ دو حاکم سے فیصلہ کراؤ۔
۵؎ چونکہ حضرت عمر کا یہ طیش نفس کے لیے نہ تھا اﷲ کے لیے تھا،نیز حضرت عمر مثل استاد کے تھے اور حضرت ہشام مثل شاگرد کے اس لیے حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے نہ تو حضرت عمر پر عتاب فرمایا اور نہ انہیں حضرت ہشام سے معافی مانگنے کا حکم دیا جیسے حضرت موسی علیہ السلام نے حضرت ہارون کی بے قصور داڑھی سر کے بال پکڑ لیے انہیں کھینچا کیونکہ ماں باپ استاد شیخ اگر غلط فہمی سے کسی کو سزا ناجائز طور پر بھی دیدیں تب بھی مجرم نہیں۔
۶؎ محدثین فرماتے ہیں کہ قرآن شریف لغت قریش میں نازل ہوا مگر چونکہ عرب کے بہت سے قبیلے تھے جن کی زبانیں مختلف تھیں ہر قبیلہ کی زبان گراں معلوم ہوتی تھی،اپنی زبان آسان تھی اور زمانہ بالکل نیا تھا اندیشہ تھا کہ دوسرے قبیلے تلاوت قرآن چھوڑ دیں گے اسی لیے سات بلکہ سات سے بھی زیادہ طریقوں سے تلاوت کی اجازت دے دی گئی تھی،یہاں سات سے مراد بیان زیادتی ہے نہ کہ خاص یہ عدد اور حرف سے مراد طریقہ تلاوت ہے خواہ خود حرف کی ذات میں فرق ہو جیسے نُنْشِزُھَا ز سے اور نُنْشِرُھَا رائے مہملہ سے یا صفات حرف میں فرق ہو جیسے"مٰلِكِ یَوْمِ الدِّیْنِ"اور "مَلِكِ یَوْمِ الدِّیْنِ"خواہ طریقہ ادا میں فرق ہو جیسے ادغام اظہار تفخیم،ترقیق،امالہ،مد قصر،تلیین وغیرہ مگر ان اختلاف کی وجہ سے معافی نہ بدلیں گے قرآن کریم کی سات قرأتیں تو متواتر ہیں اور چودہ شاذ،متواتر قرأتوں کی تلاوت کرے شاذ کی نہ کرے جیسے"فصیام ثلثہ ایام متوالیات"یا جیسے"و صلوۃ الوسطی صلوۃ العصر"وغیرہ اب ہماری قرأت ابو حفص عن عاصم والی ہے قاریوں کو چاہیئے کہ اس کی قرأۃ کیا کریں، ورنہ عوام میں فتنہ پھیلے گا اور لوگ ان قرأتوں کا انکار ہی کردیں گے۔
۷؎ بعض محدثین نے فرمایا کہ یہ حدیث متواتر ہے اکیس صحابہ سے مروی ہے شاید متواتر سے مراد متواتر المعنی ہو۔(مرقاۃ)
|
2212 -[2] وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا قَرَأَ وَسَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ خِلَافَهَا فَجِئْتُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ فَعَرَفْتُ فِي وَجهه الْكَرَاهِيَة فَقَالَ: «كِلَاكُمَا مُحْسِنٌ فَلَا تَخْتَلِفُوا فَإِنَّ مَنْ كَانَ قبلكُمْ اخْتلفُوا فهلكوا» . رَوَاهُ البُخَارِيّ |
روایت ہے حضرت ابن مسعود سے فرماتے ہیں میں نے ایک شخص کو تلاوت کرتے سنا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو اس کے خلاف تلاوت کرتے سنا تھا تو میں انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں لایا یہ سب بتایا تومیں نے حضور انور کے چہرہ منور میں ناراضی دیکھی ۱؎ فرمایا تم دونوں ٹھیک ہو ۲؎ آپس میں جھگڑو مت کیونکہ تم سے پہلے لوگ جھگڑے تو ہلاک ہوگئے ۳؎ (بخاری) |
۱؎ یہ ناراضی قرآن شریف میں اختلاف کی وجہ سے ہے حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کو خطرہ تھا کہ کہیں مسلمان کتاب اﷲ میں یہودو نصاریٰ کی طرح اختلاف نہ کرنے لگیں۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع