دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم

۱؎ اس طرح کہ پہلے یہ مال سانپ بن کر اس کے پیچھے بھاگے گا،پھر اسے پکڑ کر اس کے گلے میں طوق بن کر پڑ جائے گا،انگلیاں بھی چباتا رہے گا اور ڈستا بھی رہے گا،چونکہ گلے کا ہار ہر وقت نظر آتا ہے اور جیب کے اندر کی چیز ہر وقت نظر نہیں آتی اس لیے یہ سانپ گلے میں پڑے گا تاکہ مالک  دیکھ کر ہر وقت ڈرتا رہے اور محشر کے دوسرے لوگ پہچان جائیں کہ کنجوس یہ ہے،یہ واقعہ مسلمان کی عیب پوشی کے خلاف نہیں جیسے کہ ابھی عرض کیا جاچکا۔

۲؎ صوفیائے کرام فرماتے ہیں کہ بخل صرف مال میں ہی نہیں ہوتا بلکہ مال،کمال،اعمال،احوال،افضال سب میں ہوتا ہے۔لفظ مِنْ فَضْلِہٖ سب کو شامل ہے۔عالم اور صوفی کو چاہیئے  کہ لوگوں میں علم و ہدایت پھیلائیں ورنہ ان کی پکڑ مالی بخیل سے زیادہ ہوگی، رب تعالٰی فرماتا ہے:"اِنَّ الَّذِیۡنَ یَکْتُمُوۡنَ مَاۤ اَنۡزَلَ اللہُ مِنَ الْکِتٰبِ"۔

1793 -[22]

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَا خَالَطَتِ الزَّكَاةُ مَالًا قَطُّ إِلَّا أَهْلَكَتْهُ» . رَوَاهُ الشَّافِعِيُّ وَالْبُخَارِيُّ فِي تَارِيخِهِ وَالْحُمَيْدِيُّ وَزَادَ قَالَ: يَكُونُ قَدْ وَجَبَ عَلَيْكَ صَدَقَةٌ فَلَا تُخْرِجْهَا فَيُهْلِكُ الْحَرَامُ الْحَلَالَ. وَقَدِ احْتَجَّ بِهِ من يرى تعلق الزَّكَاةِ بِالْعَيْنِ هَكَذَا فِي الْمُنْتَقَى وَرَوَى الْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ بِإِسْنَادِهِ إِلَى عَائِشَةَ. وَقَالَ أَحْمَدُ فِي «خَالَطَتْ» : تَفْسِيرُهُ أَنَّ الرَّجُلَ يَأْخُذُ الزَّكَاةَ وَهُوَ مُوسِرٌ أَو غَنِي وَإِنَّمَا هِيَ للْفُقَرَاء

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ جب کبھی زکوۃ مال میں مخلوط ہوگی تو اسے ہلاک ہی کردے گی ۱؎ (شافعی اور بخاری نے اپنی تاریخ میں)اور حمیدی نے یہ زیادتی بھی کی کہ فرمایا ایسا ہوتا ہے کہ تم پر زکوۃ فرض ہو اور تم نہ نکالو تو حرام حلال کو ہلاک کردے ۲؎ اسی حدیث سے انہوں نے استدلال کیا ہے جو زکوۃ کو عین مال کے متعلق مانتے ہیں، یوں ہی منتقیٰ میں ہے۳؎ اوربیہقی نے شعب الایمان میں امام احمد بن حنبل سے روایت کی ان کی اسناد حضرت عائشہ تک ہے۔امام احمد نے مخلوط ہونے کے تفسیر یہ کی کہ کوئی شخص زکوۃ لے لے حالانکہ وہ خود مالدار غنی ہو زکوۃ تو غریبوں کے لیے ہے ۴؎

۱؎  مال میں زکوۃ مخلوط ہونے کی دو صورتیں ہیں:ایک یہ کہ صاحبِ نصاب جس پر خود زکوۃ فرض ہو وہ فقیر بن کر لوگوں سے زکوۃ لے اور اپنے مال میں ملا کر بڑھائے۔دوسرے یہ کہ آدمی زکوۃ نہ نکالے جو مال زکوۃ میں نکلنا چاہیئے  تھا وہ اپنے مال ہی میں رکھے، پہلے معنی زیادہ ظاہر ہیں اور دوسرے معنے زیادہ قوی۔ہلاک کرنے کی بھی دو صورتیں ہیں:ایک یہ کہ زکوۃ کے مخلوط ہونے کی وجہ سے سارے مال کی برکت مٹ جائے اور کچھ دنوں میں مال ختم ہوجائے یا کوئی ناگہانی آفت آپڑے جس سے سارا مال برباد ہوجائے جیسے بیماری، مقدمہ،چوری،ڈکیتی یا حرق و غرق یعنی جلنا ڈوبنا۔دوسرے یہ کہ یہ سارا مال اگرچہ رہے تو مگر اس سے نفع لینا جائز نہ ہوکیونکہ حرام اور حرام سے مخلوط چیز ناقابل انتفاع ہے۔دوسرے معنے ہی کی بنا پر صاحب مشکوٰۃ کا آئندہ کلام ہے۔

۲؎  قال کا فاعل امام بخاری ہیں یعنی حمیدی کہتے ہیں کہ امام بخاری نے اپنی تاریخ میں اس حدیث کی یہ شرح فرمائی۔

۳؎ خیال رہے کہ امام شافعی وغیرہ فرماتے ہیں کہ زکوۃ مالک کے ذمہ میں واجب نہیں ہوتی بلکہ عین مال میں ہوتی ہے لہذا ان کے ہاں ہر مال کی زکوۃ اسی سے ادا کرنا پڑے گی۔اس کی قیمت یا اس قیمت کا دوسرا مال زکوۃ میں نہیں دیا جاسکتا،بکریوں کی زکوۃ میں

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن