دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم

۴؎ یعنی اے محبوب قیامت کے دن ان کفار کا کیا بنے گا جب کہ ان کے انبیاء ان کے خلاف گواہی دیں گے اور اے محبوب تم ان تمام انبیاء کی تائیدی گواہی دو گے کہ مولیٰ یہ سارے انبیاء سچے ہیں ان کی قوموں نے واقعی بہت سرکشی کی تھی اپنے نبیوں کی بات نہ مانی تھی،اس آیت کریمہ کی نفیس تفسیر ہماری کتاب "شان حبیب الرحمان"اور "تفسیرنعیمی"میں ملاحظہ کرو۔

۵؎ یعنی حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک آنکھوں سے آنسوؤں کی جھڑی لگی ہوئی تھی یا تو ہیبت الٰہی سے قیامت کے اس مقدمہ کے تصور سے یا اپنی امت پر رحمت کی وجہ سے۔مرقات نے فرمایا کہ اس آیت پر بعض لوگ بے ہوش ہوگئے اور بعض حضرات مر بھی گئے۔معلوم ہوا کہ قرآن شریف پڑھ کر یا سن کر رونا سنت ہے بشرطیکہ بناوٹ سے نہ ہو۔بیہقی شریف میں ہے کہ قرآن کریم غم و رنج لیے ہوئے آیا ہے،اس لیے تم اس کی تلاوت پر روؤ(مرقات)

2196 -[10] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ: «إِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي أَنْ أَقْرَأَ عَلَيْكَ الْقُرْآنَ» قَالَ: آللَّهُ سَمَّانِي لَكَ؟قَالَ:«نَعَمْ».قَالَ:وَقَدْ ذُكِرْتُ عِنْدَ رَبِّ الْعَالَمِينَ؟ قَالَ: «نَعَمْ» . فَذَرَفَتْ عَيْنَاهُ. وَفِي رِوَايَةٍ: " إِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي أَنْ أَقْرَأَ عَلَيْكَ (لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوا)قَالَ: وَسَمَّانِي؟ قَالَ: «نَعَمْ» . فَبَكَى

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابی ابن کعب سے فرمایا کہ اﷲ تعالٰی نے مجھے حکم دیا ہے کہ تمہارے سامنے قرآن پڑھوں ۱؎ عرض کیا کہ اﷲ نے میرا نام لیا فرمایا ہاں عرض کیا کیا رب العٰلمین کی بارگاہ میں میرا ذکر ہوا ۲؎ فرمایا ہاں تو آپ کی آنکھوں سے اشک رواں ہوگئے ۳؎ اور ایک روایت میں یوں ہے کہ مجھے ا ﷲ نے حکم دیا کہ تم پر"لم یکن الذین کفروا" تلاوت کروں عرض کیا گیا رب تعالٰی نے میرا نام لیا فرمایا ہاں ۴؎(مسلم،بخاری)

۱؎  اس طرح کہ قرآن کریم کی بعض آیتیں یا سورتیں خصوصیت سے تم کو سناؤں اگرچہ عمومًا ہر مسلمان کو سنانا احکام بتاناہمارا تبلیغی فریضہ ہے۔معلوم ہوا کہ کسی خاص شخص کو قرآن پاک سنانا بھی سنت ہے۔

 ۲؎ یہ سوال تعجب کے لیے ہے کہ کیا مجھ جیسے عاجز مسلمان کا نام بھی رب تعالٰی نے آپ کے سامنے عزت کے ساتھ لیا۔کیا میں ایسا خوش نصیب انسان ہوں سوال کے بہت مقصد ہوتے ہیں ایک تعجب بھی ہے۔

 ۳؎ یہ رونا انتہائی خوشی کا تھا اور اس اندیشہ کی بنا پر تھا کہ میں عاجز انسان اتنی بڑی نعمت کا شکریہ کس طرح ادا کرسکوں گا ۔حضرت ابی ابن کعب نے قرآن سیکھنے میں بڑی محنت کی تھی حتی کہ آپ تمام صحابہ میں بڑے پائے کے قاری تھے اسی بنا پر رب تعالٰی نے فرمایا کہ اے محبوب چونکہ دنیا ان سے قرأت سیکھے گی لہذا آپ خصوصیت سے انہیں قرأت سنائیں آپ میرے شاگرد اعلیٰ ہیں یہ آپ کے شاگرد رشید ہوں۔

 ۴؎ خصوصیت سے یہ سورہ تلاوت فرمانے کی یہ وجہ ہوسکتی ہے کہ حضرت ابی ابن کعب علمائے یہود سے تھے اور اس سورۃ میں علمائے اہل کتاب کا ذکر ہے اس کے سننے سے ان کا ایمان اور بھی قوی ہوگا،اس حدیث سے حضرت ابی ابن کعب کی عظمت کا پتہ لگا۔یہ بھی معلوم ہوا کہ افضل مفضول کو مفضول افضل کو قرآن کریم سکھائے۔

2197 -[11] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِن يُسَافَرَ بِالْقُرْآنِ إِلَى أَرْضِ الْعَدُوِّ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ: «لَا تُسَافِرُوا بِالْقُرْآنِ فَإِنِّي لَا آمن أَن يَنَالهُ الْعَدو»

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے دشمن کی زمین میں قرآن کے ساتھ سفر کرنے سے منع فرمایا ۱؎ (مسلم،بخاری)اور مسلم کی روایت میں یوں ہے کہ قرآن لے کر سفر نہ کرو کہ مجھے اطمینان نہیں کہ اسے دشمن لے لے۲؎

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن