30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مصرفوں پر صرف کریں لہذا اب انہیں کوئی زکوۃ نہ دی جائے اسی لیے صدیق اکبر نے مَنَعُوْنِیْ فرمایا یعنی مجھے اور مجھ جیسے عادل سلطان اسلام(جس کے سارے حکام منصف ہوں)کو زکوۃ نہ دیں تو ان پر جنگ ہوگی۔مرقات نے اس جگہ فرمایا کہ عثمان غنی کے زمانہ میں لوگوں کا حال بدل گیا تھا اس لیے آپ نے زکوۃ وصول کرنے میں سختی نہ فرمائی بلکہ مال والے اپنی زکوتیں خود دینے لگے اور کسی صحابی نے آپ کے اس عمل پر انکار نہ کیا۔خیال رہے کہ وجوب زکوۃ کا انکار کفر ہے ایسے لوگوں پر اسلامی جہاد ہوگا اور اس زمانہ میں خلیفۃ المسلمین کو زکوۃ نہ ادا کرنا بغاوت تھی جس پر ان کے خلاف تادیبی کاروائی حتی کہ جنگ بھی کی جاسکتی تھی لہذا یہ حدیث بالکل واضح ہے اور اس کے شروع میں"کَفَرَ مَنْ کَفَرَ"فرمانا بالکل درست ہے۔مرقات میں یہاں ہے کہ احناف کے نزدیک حاکم کو جبرًا زکوۃ وصول کرنے کا حق نہیں،شوافع کے ہاں ہے،یہ حدیث چونکہ منکرین زکوۃ کے متعلق ہے اس لیے احنا ف کے خلاف نہیں۔
۵؎ یعنی میں نے حضرت صدیق کی رائے کی طرف رجوع کرلیا۔اس حدیث سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ صدیق اکبر بعد نبی تمام مخلوق سے بڑے عالم اور بڑے سیاست دان تھے،انہی کے علم پر حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کا دفن اپنے حجرے میں ہوا، انہی کے علم پرحضورانور صلی اللہ علیہ وسلم کا چھوڑا ہوا مال وقف بنا،انہی کے علم پر اس جہاد کی تیاری ہوئی،اگر آج آپ تھوڑی نرمی کرتے تو فرائض اسلامی کے انکار کا دروازہ کھل جاتا اسی لیے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی وفات کے وقت آپ ہی کو جانشین امام نماز بنایا،انہی کی سیاست سے حجاز بلکہ عرب میں امن و امان بحال ہوا اور فاروقی فتوحات کے لیے راستہ صاف ہوا۔دوسرے یہ کہ ایک شعار اسلامی کا انکار بھی ایسا ہی کفر ہے جیسے سارے ارکان کا انکار۔تیسرے یہ کہ کلمہ گو مرتدین پر جہاد کیا جائے گا۔
|
1791 -[20] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَكُونُ كَنْزُ أَحَدِكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعًا أَقْرَعَ يَفِرُّ مِنْهُ صَاحِبُهُ وَهُوَ يَطْلُبُهُ حَتَّى يُلْقِمَهُ أَصَابِعه» . رَوَاهُ أَحْمد |
روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ تم میں سے ہر ایک کا خزانہ قیامت کے دن گنجا سانپ ہوگا جس سے اس کا مالک بھاگے گا اور مال اسے ڈھونڈے گا حتی کہ اس کی انگلیوں کو لقمہ کرے گا ۱؎(احمد) |
۱؎ اس کی پوری شرح ابھی کچھ پہلے ہوچکی،چونکہ زکوۃ ہاتھ سے ادا کی جاتی ہے جس سے یہ بخیل محروم رہا اس لیے وہ سانپ اس کی انگلیاں بھی چبائے گا۔
|
1792 -[21] وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَا مِنْ رَجُلٍ لَا يُؤَدِّي زَكَاةَ مَالِهِ إِلَّا جَعَلَ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِي عُنُقِهِ شُجَاعًا» ثُمَّ قَرَأَ عَلَيْنَا مِصْدَاقَهُ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ: (وَلَا يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يبلخون بِمَا آتَاهُم الله من فَضله)الْآيَة. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَالنَّسَائِيّ وَابْن مَاجَه |
روایت ہے حضرت ابن مسعود سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے راوی کہ فرمایا ایسا کوئی شخص نہیں جو اپنے مال کی زکوۃ نہ دے مگر اﷲ قیامت کے دن اس کے گلے میں اسے سانپ بنا کر ڈالے گا ۱؎پھر آپ نے ہم پر اس دلیل میں قرآن شریف سے یہ آیت پڑھی کہ جو لوگ اﷲ کے دیئے ما ل میں بخل کرتے ہیں وہ یہ نہ سمجھیں،الایہ ۲؎(ترمذی،نسائی،ابن ماجہ) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع