دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم

2191 -[5]

وَعَنْ قَتَادَةَ قَالَ: سُئِلَ أَنَسٌ: كَيْفَ كَانَتْ قِرَاءَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: كَانَت مدا مَدًّا ثُمَّ قَرَأَ: بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ يَمُدُّ بِبَسْمِ اللَّهِ وَيَمُدُّ بِالرَّحْمَنِ وَيَمُدُّ بِالرَّحِيمِ. رَوَاهُ البُخَارِيّ

روایت ہے حضرت قتادہ سے فرماتے ہیں حضرت انس سے پوچھا گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاوت کیسی تھی ۱؎ تو فرمایا مد سے تھی کھینچ کر پھر آپ نے پڑھا بسم اﷲ الرحمن الرحیم کہ بسم اﷲ کو کھینچتے تھے پھر رحمان کو اور رحیم کو کھینچتے تھے ۲؎(بخاری)

۱؎ یعنی کیا حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آہستہ تلاوت فرماتے تھے،ٹھہرٹھہر کر یا جلدی اور تیزی سے تاکہ ہم بھی اسی طرح تلاوت کیا کریں۔معلوم ہوا کہ تلاوت قرآن کریم میں بھی سنت کا لحاظ رکھے ۔کوشش کرے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح تلاوت کرے کیونکہ طریقہ تلاوت بھی حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کو رب تعالٰی ہی نے سکھایاہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"اِنَّ عَلَیۡنَا جَمْعَہٗ وَ قُرْاٰنَہٗ

۲؎ یہاں مد سے مراد اصلی وطبعی مد ہے کہ اگر الف،ی واو ساکن کو قدرے کھینچ کر نہ پڑھا جائے تو یہ حروف ادا نہیں ہوتے بلکہ زبر،زیر،پیش بن جاتے ہیں اسے مد اصلی کہتے ہیں ایک مد فرعی ہوتا ہے جس کے سبب دو ہیں یا تو ان ہی حروف یعنی الف ی و کے بعد ہمزہ آجائے یا حرف ساکن خواہ مشدد ہو یا غیر مشدد،تو انہیں کھینچ کر پڑھنا پڑتا ہے جیسے لام،میم،نون،کے الف ی واؤ یا دواب یا ضالین کے آ۔یا اسرائیل کا الف ہمزہ خواہ ایک ہی کلمہ میں ان حروف کے بعد واقعی ہو جیسے السّماءُ،السُّوْءُ،جَیئَ یا دوسرے کلمہ میں جیسے مآ انزل،قالو امنا وغیرہ مدّ کی پوری تحقیق کتب تجویز میں ملاحظہ فرمایئے۔

2192 -[6] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا أَذِنَ اللَّهُ لِشَيْءٍ مَا أَذِنَ لِنَبِيٍّ يَتَغَنَّى بِالْقُرْآنِ»

روایت حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ اﷲ تعالٰی نے اپنے نبی کو جتنا خوش الحانی سے تلاوت قرآن کا حکم دیا اتنا کسی اور چیز کا نہ دیا ۱؎ (مسلم،بخاری)

۱؎  ظاہر یہ ہے کہ یہاں نبی کریم سے مراد تمام انبیائے کرام ہیں اور قرآن سے مراد تمام آسمانی کتابیں اورصحیفے ہیں یعنی اﷲ تعالٰی نے اپنے نبیوں کو جس قدر تاکیدی حکم اس کا دیا کہ اپنی کتب آسمانی خوش الحانی سے پڑھیں اتنا تاکیدی حکم اور دوسری چیزوں کا نہ دیا اور ممکن ہے کہ نبی سے مراد حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم ہوں اور قرآن سے مراد یہ ہی قرآن شریف ہویعنی اﷲ تعالٰی نے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کو جیسا تاکیدی حکم یہ دیا کہ قرآن کریم خوش الحانی سے تلاوت کریں اتنا تاکیدی حکم دوسرا نہ دیا کیونکہ خوش الحانی قرآن کریم کی زینت ہے جس سے قرآن کا حسن اور بھی بڑھ جاتاہے۔

2193 -[7] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا أَذِنَ اللَّهُ لِشَيْءٍ مَا أَذِنَ لِنَبِيٍّ حَسِنِ الصَّوْتِ بِالْقُرْآنِ يَجْهَرُ بِهِ»

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ اﷲ نے کسی چیز کا اتنا حکم نہ دیا جتنا نبی کو خوش الحانی سے قرآن پڑھنے کا حکم دیا ۱؎

۱؎  اس کی شرح ابھی اوپر والی حدیث میں گزرگئی،تغنی بالقرآن کے معنے ان شاءاﷲ ابھی اگلی حدیث میں عرض کئے جا ئیں گے۔

2194 -[8]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يَتَغَنَّ بِالْقُرْآنِ» . رَوَاهُ البُخَارِيّ

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو قرآن خوش الحانی سے نہ پڑھے وہ ہم میں سے نہیں ۱؎ (بخاری)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن