دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم

تعالٰی کی طرف سے بھلا دیا گیا،اس کلام میں اظہار حسرت ہے یعنی ہائے افسوس میں اس نعمت سے محروم کردیا گیا۔رب تعالٰی فرماتا ہے:"مَا نَنۡسَخْ مِنْ اٰیَۃٍ اَوْ نُنۡسِہَا نَاۡتِ بِخَیۡرٍ مِّنْہَاۤ"۔بجائے اعلان گناہ کے اظہار حسرت کرے کہ اعلان گناہ بھی گناہ ہے اور اظہار حسرت ثواب۔خیال رہے کہ یہ حکم استحبابی ہے لہذا یہ حدیث اس حدیث کے خلاف نہیں جس میں ارشا دہوا"رجل اُوتی ایۃً فَنَسِیَہَا"یا حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو ایک آیت کی تلاوت کرتے سنا تو فرمایا"لَقَدْ اَذْکَرَنِیْ اٰیَۃً کُنْتُ اسْقَطْتُھَا"۔اس جملے کی اور کئی شرحیں کی گئی ہیں مگر یہ شرح بہترین ہے۔

۲؎  یعنی جیسے شکاری جانور کا وطن جنگل ہے وہ تمہاری قید میں جب تک ہی رہے گا جب تک کہ تم اس کی نگرانی رکھو،یوں ہی قرآن کریم کا وطن عالم بالا ہے وہ تمہارے ذہنوں میں جب تک ہی محفوظ رہے گا جب تک کہ تم اس کی نگہبانی کرتے رہو ورنہ یہ چڑیا اس پنجرے سے اڑ جائے گی۔یہ تجربہ بھی ہے کہ بڑے سے بڑا حافظ یا عالم اگر کچھ دن یہ مشغلہ نہ رکھے تو بھول جاتا ہے اسی لیے علامہ شامی نے فرمایا کہ قاضی کو کچھ روز بعد کتب بینی کے لیے چھٹی دی جائے تاکہ علم قرآن شریف بھول نہ جائے۔

2189 -[3]

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّمَا مَثَلُ صَاحِبِ الْقُرْآنِ كَمَثَلِ صَاحِبِ الْإِبِلِ الْمُعَقَّلَةِ إِنْ عَاهَدَ عَلَيْهَا أَمْسَكَهَا وَإِنْ أَطْلَقَهَا ذَهَبَتْ»

روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قرآن والے کی مثال بندھے اونٹ والے کی سی ہے اگر اس کی نگہبانی کرے گا تو اسے روک لے گا اور اگر چھوڑ دے گا تو بھاگ جائے گا  ۱؎ (مسلم،بخاری)

۱؎ یعنی اونٹ تو مضبوط رسی سے کھونٹے پر رہتا ہے اور قرآن شریف ہمیشہ دور کرنے اور تکرار کرتے رہنے سے ذہن میں ٹھہرتا ہے، پھر جیسے اونٹ اگر ٹھہر جائے تو بڑے فائدے پہنچاتا ہے،سواری،باربرداری، گوشت، دودھ،نسل،اون وغیرہ سب ہی دیتا ہے ایسے ہی قرآن اگر ذہن میں ٹھہر جائے تو ایمان،عرفان رضائے رحمان وغیرہ سب کچھ اسی سے میسر ہوتے ہیں۔

2190 -[4] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ جُنْدُبِ بْنِ عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «اقرؤوا الْقُرْآنَ مَا ائْتَلَفَتْ عَلَيْهِ قُلُوبُكُمْ فَإِذَا اخْتَلَفْتُمْ فَقومُوا عَنهُ»

روایت ہے حضرت جندب ابن عبداﷲ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب تک تمہارا دل لگے قرآن پڑھتے رہو ۱؎ پھر جب ادھر ادھر ہونے لگو تو اس سے اٹھ جاؤ ۲؎ (مسلم،بخاری)

۱؎ یہ قاعدہ ان خوش نصیب لوگوں کے لیے ہے جن کو قرآن شریف کی تلاوت میں لذت اور حضور قلب میسر ہوتا ہے اور کبھی زیادہ تلاوت کی وجہ سے دل اکتا جاتا ہے،وہ دل لگنے تک پڑھتے رہیں مگر وہ شخص جس کا دل تلاوت میں لگتا ہی نہ ہو وہ دل کو مجبور کرکے تلاوت کرے دل نہ لگنے کے عذر سے تلاوت چھوڑ نہ دے پہلے کچھ دن دل پر جبر کرنا پڑے گا پھر ان شاءاﷲ دل لگنے لگے گا جیسا کہ تجربہ ہے۔

۲؎ یعنی کچھ دیر کے لیے تلاوت بند کردو حتی کہ وہ حالت جاتی رہے تمام عبادات کا یہی حال ہے کہ دل لگاکر ادا کرو۔

2191 -[5]

وَعَنْ قَتَادَةَ قَالَ: سُئِلَ أَنَسٌ: كَيْفَ كَانَتْ قِرَاءَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: كَانَت مدا مَدًّا ثُمَّ قَرَأَ: بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ يَمُدُّ بِبَسْمِ اللَّهِ وَيَمُدُّ بِالرَّحْمَنِ وَيَمُدُّ بِالرَّحِيمِ. رَوَاهُ البُخَارِيّ

روایت ہے حضرت قتادہ سے فرماتے ہیں حضرت انس سے پوچھا گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاوت کیسی تھی ۱؎ تو فرمایا مد سے تھی کھینچ کر پھر آپ نے پڑھا بسم اﷲ الرحمن الرحیم کہ بسم اﷲ کو کھینچتے تھے پھر رحمان کو اور رحیم کو کھینچتے تھے ۲؎(بخاری)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن