30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
2186 -[78] وَعَنِ الْحَسَنِ مُرْسَلًا: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ قَرَأَ فِي لَيْلَةٍ مِائَةَ آيَةٍ لَمْ يُحَاجِّهِ الْقُرْآنُ تِلْكَ اللَّيْلَةَ وَمَنْ قَرَأَ فِي لَيْلَةٍ مِائَتَيْ آيَةٍ كُتِبَ لَهُ قُنُوتُ لَيْلَةٍ وَمَنْ قَرَأَ فِي لَيْلَةٍ خَمْسَمِائَةً إِلَى الْأَلْفِ أَصْبَحَ وَلَهُ قِنْطَارٌ مِنَ الْأَجْرِ» . قَالُوا: وَمَا الْقِنْطَارُ؟ قَالَ: «اثْنَا عَشَرَ ألفا» . رَوَاهُ الدِّرَامِي |
روایت ہے حضرت حسن سے ۱؎ ارسالًا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا جو ایک رات میں سو آیتیں پڑھے تو قرآن شریف اس رات کے متعلق اس سے خصومت نہ کرے گا ۲؎ اور جو رات میں دو سو آیتیں پڑھے تو اس کے لیے تمام رات کی عبادت لکھی جائے گی اور جو رات میں پانچ سو سے ہزار آیتوں تک پڑھے تو اسے صبح ہونے پر ثواب کا ڈھیر ملے گا عرض کیا ڈھیر کتنا فرمایا بارہ ہزار۳؎(دارمی) |
۱؎ محدثین جب حسن مطلق بولتے ہیں،تو حضرت خواجہ حسن بصری رضی اللہ تعالٰی عنہ مراد ہوتے ہیں جو جلیل القدر تابعی ہیں۔
۲؎ قیامت میں قرآن شریف کی ایک شکل وصورت ہوگی وہ اپنے عاملوں کی شفاعت اور غافلوں کی شکایت کرے گا قرآن کریم کی دو شکایتیں ہوں گی: ایک تو اس کے خلاف عمل کرنے والے کی،دوسرے اس حافظ کی جو قرآن کریم کا دور نہ کرے حتی کہ اسے بھول جائے یہاں دوسری شکایت کا ذکر ہے یعنی جو حافظ ہر شب سو آیتیں تلاوت کرلیا کرے تو قرآن کریم اس حافظ کی یہ شکایت نہ کرے گا،لہذا حدیث بالکل واضح ہے،بلاوجہ کسی تاویل کی ضرورت نہیں،قرآن سے یہ ہی قرآن مراد ہے جو ہم پڑھا کرتے ہیں اور شکایت سے ظاہری شکایت ہی مراد ہے۔
۳؎ بارہ ہزار درہم یا دینار،یا بارہ ہزار اوقیہ خیرات کرنے کا ثواب ملے گا۔اور ایک اوقیہ آسمان و زمین کی وسعت سے زیادہ وسیع۔ غرضکہ رب تعالٰی کی عطا ہمارے فہم وسمجھ سے وراء ہے۔(مرقات وغیرہ)عربی میں قنطار بہت مال کو کہتے ہیں رب تعالٰی نے فرمایا: "وَّاٰتَیۡتُمْ اِحْدٰىہُنَّ قِنۡطَارًا"۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع