30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
2183 -[75] وَعَن عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: أَتَى رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَقْرِئْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ: " اقْرَأْ ثَلَاثًا مِنْ ذَوَاتِ (ألر)فَقَالَ: كَبُرَتْ سِنِّي وَاشْتَدَّ قَلْبِي وَغَلُظَ لِسَانِي قَالَ: " فَاقْرَأْ ثَلَاثًا مِنْ ذَوَاتِ (حم)فَقَالَ مِثْلَ مَقَالَتِهِ. قَالَ الرَّجُلُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَقْرِئْنِي سُورَةً جَامِعَةً فَأَقْرَأَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ (إِذَا زُلْزِلَتْ الأَرْض)حَتَّى فَرَغَ مِنْهَا فَقَالَ الرَّجُلُ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَا أَزِيد عَلَيْهَا أبدا ثمَّ أدبر الرَّجُلُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفْلَحَ الرُّوَيْجِلُ " مَرَّتَيْنِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُدَ |
روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن عمرو سے فرماتے ہیں ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور بولا یا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم مجھے قرآن سکھائیے ۱؎ فرمایا الروالی تین سورتیں پڑھا کرو۲؎ عرض کیا میری عمر بہت ہوچکی دل سخت اور زبان موٹی ہوچکی ۳؎ فرمایا تو حٰمٓ والی تین سورتیں پڑھا کرو۴؎ تو اس نے پھر وہ ہی عذر کیا پھر وہ بولا یا رسول اﷲ مجھے کوئی جامع سورۃ سکھائیے ۵؎ تو اسے رسول اﷲ نے سورۂ اذا زلزلت پڑھائی حتی کہ اس سے فارغ ہوگئے ۶؎ وہ شخص بولا اس کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میں اس پرکبھی کچھ زیادتی نہ کروں گا ۷؎ اس نے پیٹھ پھیری تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے دوبار فرمایا یہ شخص کامیاب بامراد ہوگیا ۸؎ (احمد،ابوداؤد) |
۱؎ یعنی تلاوت قرآن کی اجازت دیجئے یا قرآنی ورد وظیفے بتائیے جو میں پڑھا کروں،یہ مطلب نہیں کہ مجھے قرآنی الفاظ کے ہجے یا رواں کرنا سکھائیے جیسا کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کے جواب سے معلوم ہورہاہے۔
۲؎ یعنی جن سورتوں کے اول میں الف،لا،را ہے ان میں سے تین سورتیں روزانہ پڑھ لیا کرو،بہت فوائد دیکھو گے۔
۳؎ یعنی یہ سورتیں ہیں لمبی اور بڑھاپے کی وجہ سے میرا دل قابو میں ہے نہ زبان،زیادہ لمبے ورد نہیں پڑھ سکتا بہت زیادہ تلاوت نہیں کرسکتا۔
۴؎ یعنی اگر الروالی دراز سورتیں روزانہ نہیں پڑھ سکتے،تو حم والی سورتیں پڑھ لیا کرو کہ یہ ان سے چھوٹی ہیں۔
۵؎ یعنی ایسی سورۃ بتائیے،جو پڑھنے میں آسان ہوں،الفاظ میں مختصر ہو،فوائد میں جامع ہو کہ بڑی بڑی سورتوں کے فضائل وفوائد رکھتی ہو،جامع سے یہ ہی مراد ہے۔
۶؎ یعنی اس سے یہ سورت سنی اور سن کر اس کے ورد کی اجازت دے دی،حضرات صوفیاء دلائل الخیرات شریف وغیرہ وظیفے مریدوں کو سکھاتے ہیں،پھر ان سے سنتے ہیں،پھر ان کی اجازت دیتے ہیں جس سے ان کی تاثیر بہت زیادہ ہوجاتی ہے،اس سننے اور اجازت دینے کی اصل یہ حدیث بھی ہے کہ اس شخص نے حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم سے اذا زلزلت کے عمل کی اجازت لی، حضور علیہ ا لسلام نے اسے اجازت مرحمت فرمائی کلام کے اثر کے ساتھ زبان کی تاثیر بھی چاہئیے،کار توس کی طاقت کے ساتھ رائفل کی قوت بھی ضروری ہے۔
۷؎ یعنی صرف اسی سورت کا وظیفہ کیا کروں گا اگرچہ تلاوت سارے قرآن شریف کی کیا کروں گا یہ مطلب نہیں کہ سوائے اسی سورت کے اور کوئی آیت یا سورۃ کبھی نہ پڑھوں گا کہ یہ تو غلط ہے،نماز میں الحمد شریف پڑھنا واجب ہے اور اس کے بعد سورتیں بدل کر پڑھنا بھی ضروری ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ مرید شیخ کے بتائے ہوئے ورد وظیفے میں نہ تو زیادتی کمی کرے نہ تبدیلی کرے ورنہ اثر نہ ہوگا۔
۸؎ سورۃ اذا زلزلت فضائل و فوائد کے لحاظ سے بھی جامع ہے اور احکام مسائل شریعت و طریقت میں جامع ہے اس کی ایک آیت میں دونوں جہاں جمع ہیں"فَمَنۡ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیۡرًا یَّرَہٗ وَمَنۡ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ شَرًّا یَّرَہٗ"۔حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے اس آیت کو جامعہ فاذّہ فرمایا۔ اس سے معلوم ہوا کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم ہرشخص کے آئندہ کے عمل اور اس کے خاتمہ کو جانتے ہیں حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے یہاں اس شخص کے متعلق دو خبریں دیں:ایک یہ کہ اسے اس عمل کے نبھانے کی توفیق ملے گی،دوسرے یہ کہ اس کا انجام بخیر ہوگا۔کیونکہ کامیابی انہیں چیزوں پر موقوف ہے۔
|
2184 -[76] وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَا يَسْتَطِيعُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَقْرَأَ أَلْفَ آيَةٍ فِي كُلِّ يَوْمٍ؟» قَالُوا: وَمَنْ يَسْتَطِيعُ أَنْ يَقْرَأَ أَلْفَ آيَةٍ فِي كل يَوْم؟ قَالَ: " أَمَا يَسْتَطِيعُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَقْرَأَ: (أَلْهَاكُمُ التكاثر)؟)رَوَاهُ الْبَيْهَقِيّ فِي شعب الْإِيمَان |
روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کیا تمہارا کوئی یہ کرسکتا کہ روزانہ ہزار آیتیں پڑھ لیا کرے لوگ بولے روزانہ ہزار آیتیں کون پڑھ سکتا ہے ۱؎ فرمایا کیا کوئی یہ نہیں کرسکتا الہکم التکاثر پڑھ لیا کرے۲؎بیہقی شعب الایمان۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع