30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سورۂ یٰس پڑھنا نہایت مناسب ہے اور ہوسکتا ہے کہ موتی سے مراد میت ہی ہو،یعنی قبر پر یا دفن سے پہلے سورہ یٰس پڑھا کرو پہلے معنے زیادہ موزوں ہیں(لمعات و مرقات)
|
2179 -[71] وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ لِكُلِّ شَيْءٍ سَنَامًا وَإِنَّ سَنَامَ الْقُرْآنِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ وَإِنَّ لِكُلِّ شَيْءٍ لُبَابًا وَإِنَّ لباب الْقُرْآن الْمفصل. رَوَاهُ الدَّارمِيّ |
روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن مسعود سے انہوں نے فرمایا کہ ہر چیز کی ایک بلندی ہے اور قرآن کی بلندی سورۂ بقر ہے ۱؎ اور ہر چیز کا ایک خلاصہ ہے اور قرآن کا خلاصہ مفصّل ہے ۲؎(دارمی) |
۱؎ یعنی اونٹ کا حسن اونچے کوہان سے ہے مسجد کا حسن اونچے میناروں سے ہے اور قرآن کا حسن سورۃ بقرہ سے ہے کہ اکثر احکام شرعیہ اسی سورۃ میں ہیں،اور آیات جہاد بھی اسی سورۃ میں ہیں اور جہاد سے اسلام و قرآن سب ہی کی بقاءہے،نیز یہ سورۃ تمام سورتوں سے بڑی ہے۔
۲؎ سورۂ حجرات سے والناس تک کو مفصّل کہتے ہیں،اس کے تین حصے ہیں حجرات سے بروج تک طوال مفصّل ہے اور بروج سے لم یکن تک اوساط اور لم یکن سے والناس تک قصار۔مرقات نے فرمایا کہ بقیہ قرآن کے مضامین توریت و انجیل کے مضامین کے مشابہ ہیں،مگر مفصل کے مضمون بے مثال ہیں،ایسے ہی مفصل ہیں اکثر ان مضامین کی تفصیل کر دی گئی ہے،جو بقیہ قرآن میں اجمالًا مذکور ہوئے،اس لیے اسے خلاصہ قرآن فرمایا گیا۔
|
2180 -[72] وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم يَقُول: «لكل شَيْء عروس وعروس الْقُرْآن الرَّحْمَن» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيّ فِي شعب الْإِيمَان |
روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ ہر چیز کی ایک زینت ہے اور قرآن کی زینت سورہ رحمن ہے ۱؎ |
۱؎ چند وجہ سے سورۂ رحمان کو قرآن کی دلہن،زینت،فرمایا گیا اس سورۃ میں اﷲ تعالٰی کی ذات و صفات کا ذکر ہے اور ذات و صفات پر اعتقاد ایمان کی زینت ہے اس سورۃ میں جنت کی حوروں ان کے حسن و جمال ان کے زیورات کا ذکر ہے۔یہ چیزیں جنت کی زینت ہیں،اس سورۃ میں آیۃ کریمہ"فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِ"ستائیس جگہ ارشاد ہوا اس سے سورۃ کی زینت زیادہ ہوگئی۔خیال رہے کہ عربی میں عروس دولہا کو بھی کہتے ہیں اور دلہن کو بھی یہ عرس سے بنا ہے،بمعنی شادی بارات،چونکہ دولہا دلہن کو نہایت آراستہ پیراستہ کیا جاتا ہے اس لیے پھر یہ لفظ بمعنی زینت و زیبائش استعمال ہونے لگا۔یہاں اسی مجازی معنے میں ارشاد ہوا ہے،جنت میں رب تعالٰی سورۂ رحمان کی تلاوت فرمائے گا جنتی سنیں گے،اس سننے سے جو لذت و سرور حاصل ہوگا،وہ بیان بلکہ گمان سے وراء آج اچھے قاری کی تلاوت سن کر لوگ لوٹ پوٹ ہوجاتے ہیں،تو رب تعالٰی کی تلاوت کیسی ہوگی۔
|
2181 -[73] وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ قَرَأَ سُورَةَ الْوَاقِعَةِ فِي كُلِّ لَيْلَةٍ لَمْ تُصِبْهُ فَاقَةٌ أَبَدًا» . وَكَانَ ابْنُ مَسْعُودٍ يَأْمُرُ بَنَاتَهُ يَقْرَأْنَ بهَا فِي كل لَيْلَة. رَوَاهُ الْبَيْهَقِيّ فِي شعب الْإِيمَان |
روایت ہے حضرت ابن مسعود سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جو ہر رات سورۂ واقعہ پڑھا کرے تو اسے فاقہ کبھی نہ ہوگا ۱؎ حضرت ابن مسعود اپنی لڑکیوں کو حکم دیتے تھے کہ ہر رات یہ پڑھا کریں۲؎ یہ دونوں حدیثیں،بیہقی،شعب ایمان میں مروی ہیں۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع