30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱۱؎ یعنی بعض خصوصی فائدوں میں دوسری تما م سورتوں سے ساٹھ گنا زیادہ ہیں،یا بعض حالات میں ان کی تلاوت دوسری سورتوں کی تلاوت سے ساٹھ گنا زیادہ مفید ہو جیسے نماز وتر میں"سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْاَعْلَی"اور"قُلْ یٰۤاَیُّہَا الْکٰفِرُوۡنَ"اور"قُلْ ہُوَ اللہُ اَحَدٌ"پڑھنا بہت بہتر ہے اور جمعہ کی فجر میں سورۃ سجدہ اور سورۂ دھر کی تلاوت افضل ہے لہذا اس حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ سورۂ فاتحہ اور سورۂ اخلاص کے فضائل تو بہت ہیں۔
|
2177 -[69] وَعَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ قَالَ: بَلَغَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ قَرَأَ (يس)فِي صَدْرِ النَّهَارِ قضيت حَوَائِجه» رَوَاهُ الدَّارمِيّ مُرْسلا |
روایت ہے حضرت عطاء ابن ابی رباح سے ۱؎ فرماتے ہیں مجھے خبر ملی کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا جو شروع دن میں سورہ یٰس پڑھ لے اس کی تمام ضرورتیں پوری ہوں گی ۲؎(دارمی مرسلًا) |
۱؎ آپ جلیل القدر تابعی بے مثل عالم اور بے نظیر فقیہ تھے امام ابوحنیفہ رحمۃ اﷲ علیہ فرماتے ہیں کہ میں نے عطاء سے بڑا تو کیا ان جیسا عالم وفقیہ نہ دیکھا،سیا رنگ،ایک آنکھ،چپٹی ناک،ایک ہاتھ شل تھا،پاؤں سے لنگڑے تھے،آخر عمر میں نابینا ہوگئے تھے،اٹھاسی سال عمر پائی ۱۱۵ھ میں وفات ہوئی،امام احمد ابن حنبل فرماتے ہیں اگر علم نسب یا دوسری خصوصیات سے ملتا توعطاء کو نہ ملتا کہ ان میں کوئی ظاہر خصوصیت نہ تھی مگر علم کے خزانے ان کے سینے میں تھے پاک ہے وہ جس کی عطاء کسی کے کمال پر موقوف نہیں۔شعر
داد حق را قابلیت شرط نیست بلکہ شرط قابلیت داد اوست
آپ نے حضرت ابن عباس،ابوہریرہ،ابوسعید خدری،جابر ابن عمر،عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہم سے احادیث لیں اور ان سے فیوض حاصل کئے۔
۲؎ بعض بزرگ نماز فجر کے بعد سورہ یٰس کی تلاوت کرتے ہیں ان کی اصل یہ حدیث ہے،یہ عمل نہایت مجرب ہے اس کا عامل ان شاءاﷲ کبھی فقر و فاقہ یا دیگر آفات میں نہ پھنسے گا۔دفع حاجات کے لیے یہ سورہ اکسیر ہے۔
|
2178 -[70] وَعَن معقل بن يسَار الْمُزنِيّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ قَرَأَ (يس)ابْتِغَاءَ وَجْهِ اللَّهِ تَعَالَى غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنبه فاقرؤوها عِنْدَ مَوْتَاكُمْ» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ |
روایت ہے حضرت معقل ابن یسار مزنی سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ جو رضائے الٰہی کے لیے سورہ یٰس پڑھے اس کے گزشتہ گناہ بخش دیئے جائیں گے ۱؎ لہذا اسے مرنے والے کے پاس پڑھا کرو۲؎(بیہقی شعب الایمان) |
۱؎ یہ سورۃ یٰس کااخروی فائدہ ہے بعض اس کی تلاوت کرنے والا دنیاوی آفات سے محفوظ رہے گا اور اس کے گناہ بخش دیئے جائیں گے ان شاءاﷲ کبیرہ گناہ بھی۔(مرقات)
۲؎ ظاہر یہ ہے کہ یہاں موتی سے مراد وہ ہے جس کی جان نکل رہی ہو،قریب الموت ہو،ایسی حالت میں سورہ یٰس تلاوت کرنے کا عام رواج ہے،اس کی اصل یہ حدیث ہے،چونکہ اس سورۃ سے مشکل بھی حل ہوتی ہے اور گناہ بھی معاف،اس لیے اس وقت
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع