30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
2176 -[68] وَعَن خَالِد بن معدان قَالَ: اقرؤوا المنجية وَهِي(آلم تَنْزِيل)فَإِن بَلَغَنِي أَنَّ رَجُلًا كَانَ يَقْرَؤُهَا مَا يَقْرَأُ شَيْئًا غَيْرَهَا وَكَانَ كَثِيرَ الْخَطَايَا فَنَشَرَتْ جَنَاحَهَا عَلَيْهِ قَالَتْ: رَبِّ اغْفِرْ لَهُ فَإِنَّهُ كَانَ يُكْثِرُ قِرَاءَتِي فَشَفَّعَهَا الرَّبُّ تَعَالَى فِيهِ وَقَالَ: اكْتُبُوا لَهُ بِكُلِّ خَطِيئَةٍ حَسَنَةٍ وَارْفَعُوا لَهُ دَرَجَةً ". وَقَالَ أَيْضًا: " إِنَّهَا تُجَادِلُ عَنْ صَاحِبِهَا فِي الْقَبْرِ تَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتُ مِنْ كِتَابِكَ فَشَفِّعْنِي فِيهِ وَإِنْ لَمْ أَكُنْ مِنْ كِتَابِكَ فَامْحُنِي عَنْهُ وَإِنَّهَا تَكُونُ كَالطَّيْرِ تَجْعَلُ جَنَاحَهَا عَلَيْهِ فَتَشْفَعُ لَهُ فَتَمْنَعُهُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْر " وَقَالَ فِي (تبَارك)مثله. وَكَانَ خَالِد لَا يَبِيتُ حَتَّى يَقْرَأَهُمَا. وَقَالَ طَاوُوسُ: فُضِّلَتَا عَلَى كُلِّ سُورَةٍ فِي الْقُرْآنِ بِسِتِّينَ حَسَنَةً. رَوَاهُ الدَّارمِيّ |
روایت ہے حضرت خالد ابن معدان سے ۱؎ کہ انہوں نے فرمایا نجات دینے والی سورہ پڑھا کر جو الم تنزیلہے ۲؎ مجھے خبرملی ہے کہ ایک شخص یہ ہی سورہ پڑھتا تھا اس کے سواء کچھ نہ پڑھتا تھا۳؎ اور وہ تھا بڑا گنہگار تو اس سورۃ نے اس کے اوپر اپنے پر پھیلا دیئے بولی یا رب اسے بخش دے ۴؎ کیونکہ یہ میری بہت تلاوت کرتا تھا رب تعالٰی نے اس کے بارے میں اس کی شفاعت قبول کی ۵؎ اور فرمایا اس کے لیے ہر گناہ کے عوض نیکی لکھو اور درجہ بلند کرو ۶؎ راوی نے یہ بھی فرمایا کہ یہ سورۃ اپنے پڑھنے والے کی طرف سے قبر میں جھگڑے گی کہے گی الٰہی اگر میں تیری کتاب سے ہوں تو اس کے حق میں میری شفاعت قبول کر۷؎ اور اگر میں تیری کتاب سے نہیں ہوں تو مجھے اس سے مٹا دے ۸؎ اور وہ پرندے کی طرح ہوجائے گی کہ اس پر اپنے پر پھیلا دے گی ۹ ؎ اس کی شفاعت قبول کی جائے گی اور یہ اسے عذاب قبر سے بچالے گی اور سورہ ملک کے بارے میں اسی طرح فرمایا ۱۰؎ اور حضرت خالد اسے بغیر پڑھے نہ سوتے تھے حضرت طاؤس نے فرمایا یہ دونوں سورتیں قرآن کی تمام سورتوں پر ساٹھ گنا بزرگی رکھتی ہیں ۱۱؎(دارمی) |
۱؎ آپ مشہور تابعی ہیں،ستر صحابہ سے آپ کی ملاقات ہے،ثقہ ہیں،عالم ہیں۔(اشعہ)
۲؎ یہ سورۃ دنیاوی آفات عذاب قبروحشر سے نجات کا ذریعہ ہے اس لیے اسے منجیہ کہتے ہیں جب قرآنی سورۃ کو منجیہ کہنا درست ہے تو حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کو بھی منجی یعنی نجات دہندہ کہا جاسکتاہے۔
۳؎ یعنی صرف اس سورہ کا وظفیہ کرنا اس کے سوائے اس کا کوئی ورد وظفیہ نہ تھا۔
۴؎ یعنی جب وہ قبر میں گیا تو یہ سورت پرندے کی شکل میں نمودار ہوئی اور اس پر اپنے پروں کا سایہ کرلیا تاکہ اس شخص پر عذاب نہ آسکے ظاہر یہ ہے کہ یہ خبر حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے صحابہ کو دی ہو بعض صحابہ سے بعض گناہ سرزد ہوئے ہیں مگر ان میں فاسق کوئی نہیں گناہ اور ہے فسق کچھ اور۔
۵؎ یعنی اس شفاعت کی برکت سے عذاب قبر دفع ہی ہوگیا۔اولًا تو اس نے عذابِ قبر سے بچایا پھر دفع کیا۔
۶؎ یعنی اس کے نامۂ اعمال سے سارے گناہ مٹا دو اور ہر گناہ پر نیکی کا ثواب دو یہ مطلب نہیں ہے کہ گناہ ہٹا کر یہ لکھ دو کہ اس نے نیکیاں کیں کہ یہ تو جھوٹ ہے رب تعالٰی فرماتاہے:"فَاُولٰٓئِکَ یُبَدِّلُ اللہُ سَیِّاٰتِہِمْ حَسَنٰتٍ"۔بادشاہ خوش ہوتے ہیں تو گالی پر انعام دے دیتے ہیں گاہے بدشنام خلعت دہند،لہذا حدیث واضح ہے۔ خیال رہے کہ خطیئۃٌ سے مراد حقوق اﷲ کے گناہ صغیرہ ہیں نہ کہ حقوق العباد،لہذا اس سے یہ لازم نہیں کہ الٓم تنزیل پڑھنے والا لوگوں کے مال مارے چوری ڈکیتی کرتا رہے اور اس کو ان جرموں پر ثواب ملے۔
۷؎ اور اس کی قبر میں وسعت،نور کردے،اور اسے سوالات نکیرین میں کامیاب فرمادے،کیونکہ یہ مجھے بہت تلاوت کرتا تھا آج اس کا پھل اسے دے۔
۸؎ یعنی مجھے لوح محفوظ سے مٹادے یا قرآنی اوراق سے یا اس کے سینے سے نکال دے۔یہ ناز کی عرض و معروض ہے جیسے ناز پروردہ غلام اپنے آقا سے کہے کہ اگر میں تیرا غلام ہوں،تو میری بات مان ورنہ مجھے فروخت فرمادے،یا بیٹا باپ سے عرض کرے کہ اگر میں آپ کا فرزند ہوں تو میرے حق کا لحاظ فرمادیں،اگر نہی ہوں تو مجھے اپنے گھر سے باہر نکال دیجئے،لہذا یہ اگر مگر شک و تردد کے لیے نہیں۔
۹؎ یعنی جیسے مرغی یا چڑیا اپنے بچوں کو اپنے پروں میں لے لیتی ہے جس سے بچوں تک باہر کی تکلیف نہیں پہنچنے پاتی،ایسے ہی یہ سورۃ اپنے عامل کو قبر و قیامت میں اپنے پروں میں لے لے گی جس سے اس شخص تک گرمی،وحشت،دہشت وغیرہ نہ پہنچ سکے گی۔
۱۰؎ حضرت خالد ابن معدان نے سورہ ملک کے فضائل بھی تقریبًا ایسے ہی بیان کئے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع