30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱؎ آپ کا نام ایفع ابن ناکور کلاعی ہے ذوالکلاع یمن کا مشہور قبیلہ ہے،شیخ نے فرمایا کہ آپ صحابی ہیں مگر مرقات نے فرمایا کہ آپ تابعی ہیں کیونکہ آپ یمن سے حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کے دیدار کے لیے رو انہ ہوئے،راستہ میں تھے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کی وفات ہوگئی۔
۲؎ کیونکہ اس سورت میں رب تعالٰی کی توحید کا نہایت جامع اور مکمل بیان ہے اور کلام کی عظمت اس کے مضمون کی عظمت سے ہوتی ہے لہذا یہ حدیث ان احادیث کے خلاف نہیں جن میں ارشاد ہوا کہ سورۂ فاتحہ بڑی اعظم سورۃ ہے کہ وہاں اعظمیت اور لحاظ سے ہے کہ وہ بہت سے مضامین کی جامع ہے اور یہاں اعظمیت دوسری حیثیث سے غالبًا یہاں سوال بھی اسی اعظمیت کا تھا لہذا جواب سوال کے مطابق ہے۔
۳؎ جس میں رب کی ذات و صفات کا مکمل و جامع بیان ہو،پہلے سورۃ کے متعلق سوال تھا اب آیت کے متعلق سوال ہے۔
۴؎ آخر آیت"وَہُوَ الْعَلِیُّ الْعَظِیۡمُ"تک آیۃ الکرسی بہت ہی نافع آیت ہے اس کے فضائل حدوعد سے باہر ہیں۔
۵؎ یہاں برکت سے مراد دائمی ثواب و فائدہ ہے جو کبھی ختم نہ ہو برکت برک بنا بمعنی بیٹھ جانا نہ ہٹنا۔
۶؎ "اٰمَنَ الرَّسُوۡلُ"سے آخر تک اور بہتر یہ ہے کہ"لِلہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ"سے آخر تک پڑھا کرے ان خزانوں کا نزول عرش سے ہوا اور اس امت کے سواءکسی امت کو اس جیسی عظیم الشان نعمت نہ ملی۔
۷؎ کیونکہ اس آیت میں اﷲ تعالٰی کی توحید ملکیت عامہ غفاری،ستاری وغیرہ صفات کا بھی اعلیٰ بیان ہے اور جامع دعائیں بھی ہیں او ر رب تعالٰی کو بندے کا مانگنا بہت محبوب ہے یہ آیت عمومًا اور تہجد کی نماز میں خصوصًا پڑھنا چاہئیے اس کے بڑے فائدے دیکھے گئے ہیں۔
|
2170 -[62] وَعَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ مُرْسَلًا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فِي فَاتِحَةِ الْكِتَابِ شِفَاءٌ مِنْ كُلِّ دَاءٍ» . رَوَاهُ الدَّارمِيّ وَالْبَيْهَقِيّ فِي شعب الْإِيمَان |
روایت ہے عبدالملک ابن عمیر سے مرسلًا ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ سورہ فاتحہ میں ہر بیماری کی دعا ہے ۲؎(دارمی،بیہقی شعب الایمان) |
۱؎ یہ حدیث مرسل اس لیے ہے کہ عبدالملک ابن عمیر تابعی ہیں،امام شعبی کے بعد کوفے کے قاضی رہے،بڑے عالم ومتقی وہ فرماتے ہیں کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا صحابی کا ذکر نہ کیا اسی کا نام ارسال ہے۔
۲؎ جسمانی خیالی اور روحانی تمام بیماریوں کی شفاء مطلق ہے بہت بیماریوں میں مختلف طریقوں سے استعما ل کی جاتی ہیں۔اور بہت مفید ہوتی ہے تجربہ ہے ایمان و یقین شرط ہے۔
|
2171 -[63] وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: مَنْ قَرَأَ آخِرَ آلِ عِمْرَانَ فِي لَيْلَة كتب لَهُ قيام لَيْلَة. رَوَاهُ الدَّارمِيّ |
روایت ہے حضرت عثمان ابن عفان سے فرمایا جو رات کو آل عمر ان کی آخری آیات پڑھے اس کے لیے تمام رات عبادت کا ثواب لکھا جائے گا ۱؎ |
۱؎ یہ حدیث اگرچہ حضرت عثمان پر موقوف ہے مگر مرفوع کے حکم میں ہےکیونکہ قرآنی سورتوں کے فضائل عقل سے نہیں معلوم ہوسکتے صرف حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کے فرمان شریف سے ہی معلوم ہوسکتے ہیں آخر آل عمران سے مراد آیت"اِنَّ فِیۡ خَلْقِ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع