30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
2153 -[45] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِنَّ سُورَةً فِي الْقُرْآنِ ثَلَاثُونَ آيَةً شَفَعَتْ لِرَجُلٍ حَتَّى غُفِرَ لَهُ وَهِيَ: (تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ)رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَه |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے قرآن کی ایک تیس آیتوں والی سورۃ نے ۱؎ ایک شخص کی یہاں تک شفاعت کی کہ اس کی بخشش ہوگئی وہ سورہ تبارك الذی بیدہ الملك ہے ۲؎ (احمد،ترمذی،ابوداؤد نسائی، ابن ماجہ)۳؎ |
۱؎ اس سے معلوم ہوا کہ بسم اﷲ شریف سورۃ کا جزءنہیں ورنہ سورۂ ملک کی آیتیں۳۱ ہوجاتیں،کیونکہ سورۂ ملک کی بسم اﷲ کے علاوہ تیس آیتیں ہیں۔
۲؎ یعنی ایک شخص سورۂ ملک کا ورد رکھتاتھا اس سے بہت محبت کرتا تھا اس کے مرنے کے بعد اس سورہ نے اس کی سفارش کی تو اس کی شفاعت کی برکت سے وہ شخص عذاب قبر سے محفوظ رہا لہذا یہاں شفعت بمعنی ماضی ہی ہے۔معلوم ہوا کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کو اس عالم کی ہربات ہر واقعہ کی تفصیلی خبر ملتی رہتی ہے یا خود ملاحظہ فرماتے رہتے ہیں۔لمعات نے فرمایا کہ شفعت بمعنی مستقبل بھی ہوسکتا ہے یعنی سورۂ ملک اپنے عاملوں کی شفاعت کرے گی اور اس کی شفاعت کی برکت سے عامل کی بخشش ہوگی۔اس صورت میں یہ فرمان ترغیب کے لیے ہے تاکہ لوگ اس کی تلاوت کیا کریں اس کی شفاعت کی امید ر کھیں۔
۳؎ اسے ابن حبان اور حاکم نے بھی روایت کیا حاکم کی ر وایت میں یوں ہے کہ فر مایا نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ بہتر ہوتا کہ یہ سورۃ ہر مسلمان کے دل میں ہوتی۔
|
2154 -[46] وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: ضَرَبَ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خِبَاءَهُ عَلَى قَبْرٍ وَهُوَ لَا يَحْسَبُ أَنَّهُ قَبْرٌ فَإِذَا فِيهِ إِنْسَان يَقْرَأُ سُورَةَ (تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ)حَتَّى خَتَمَهَا فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هِيَ الْمَانِعَةُ هِيَ الْمُنْجِيَةُ تُنْجِيهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْر» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيث غَرِيب |
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے کسی صحابی نے ایک قبر پر خیمہ ڈال دیا انہیں خبر نہ تھی کہ یہاں قبر ہے ۱؎ پتہ لگا کہ اس میں ایک شخص سورۂ تبارك الذی بیدہ الملك پڑھ رہا ہے حتی کہ اس نے ختم کر لی ۲؎ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اس واقعہ کی خبر دی۳؎ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا یہ سورہ روکنے والی ہے۴؎نجات دینے والی ہے جو اﷲ کے عذاب سے نجات دے گی ۵؎ ترمذی اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔ |
۱؎ اگر قبر کی خبر ہوتی تو وہاں ہرگز خیمہ نہ ڈالتے کیونکہ قبر پر بیٹھنا لیٹنا،اس پر چلنا پھرنا ممنوع ہے۔
۲؎ مرقات نے یہاں فرمایا کہ بعض مردے قبر میں بھی بعض وہ نیکیاں کرتے رہتے ہیں جو زندگی میں کرتے تھے حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے موسیٰ علیہ السلام کو قبر میں نماز پڑھتے دیکھا۔صوفیاء فرماتے ہیں کہ جس حال میں جیو گے اسی میں مرو گے اور جس حال میں مرو گے اسی میں اٹھو گے،اس لیے کوشش کرو کہ زندگی اچھے اعمال میں گزارو۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ حضرت بلال اذان دیتے ہوئے قبر سے اٹھیں گے،ان کا ماخذ غالبًا ان جیسی روایات ہیں ان شاءاﷲ نعت خواں مسلمان قبر میں بھی حضور انورصلی اللہ علیہ و سلم کی نعت ہی پڑھیں گے۔رب تعالٰی قبول فرمائے ان صحابی کا یہ تلاوت سن لینا ان کی کرامت ہے ورنہ ہم لوگ نہیں سناکرتے۔
۳؎ اورتعجب کا اظہار کیا کہ مردہ بھی تلاوت قرآن کررہا تھا۔
۴؎ یعنی اس سورت کی تلاوت کرنے والے کو زندگی میں گناہوں سے، موت کے وقت خرابی خاتمہ سے، قبر میں عذاب و تنگی گورے، آخرت میں دہشت و سخت عذاب سے بچاتی ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع