30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۲؎ کہ جوشخص نماز فجر سے پہلے یا اس کے بعد یہ دو آیتں پڑھ لیا کرے خواہ آیۃ الکرسی سے پہلے پڑھےاور سورۂ مؤمن کی یہ آیت بعد میں یا اس کے برعکس،مرقات وغیرہ تو شام تک وہ اﷲ کی امان و حفظ میں رہے گا کہ شیطان،جادو اور دوسری دنیاوی آفتیں اس تک ان شاءاﷲ نہ پہنچ سکیں گی۔
۳؎ یعنی بعد نماز مغرب یہ آیتیں پڑھ لیا کرے تو صبح تک اﷲ کی حفظ و امن میں رہے گا۔خیال رہے کہ بغیر نماز کوئی وظیفہ یا عمل مفید نہیں تمام وردوظیفوں کے لیے پابندی نماز ضروری ہے
۴؎ یہ حدیث احمد و ابن حبان نے بھی روایت کی۔
|
2145 -[37] وَعَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ كتب كتابا قبل أَن يخلق السَّمَوَات وَالْأَرْضَ بِأَلْفَيْ عَامٍ أَنْزَلَ مِنْهُ آيَتَيْنِ خَتَمَ بِهِمَا سُورَةَ الْبَقَرَةِ وَلَا تُقْرَآنِ فِي دَارٍ ثَلَاثَ لَيَالٍ فَيَقْرَبَهَا الشَّيْطَانُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالدَّارِمِيُّ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيب |
روایت ہے حضرت نعمان ابن بشیر سے فرماتے ہیں فرمایا ر سول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ اﷲ تعالٰی نے زمین و آسمان کی پیدائش سے دو ہزار برس پہلے ایک کتاب لکھی ۱؎ جس میں سے دو آیتیں وہ اتاریں جن پر سورۂ بقرہ ختم فرمائی ۲؎ یہ ناممکن ہے کہ کسی گھر میں یہ آیتیں برابر تین شب پڑھی جائیں پھر شیطان اس کے پاس بھی پھٹکے ۳؎ ترمذی،دارمی اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث غریب ہے ۴؎ |
۱؎ دو ہزار برس سے مراد اس قدر مدت کہ اگر سورج ہوتا تو اسی مدت کے دو ہزار برس بن جاتے ورنہ اس وقت سورج نہ تھا نہ دن رات،پھر دن مہینے ہفتے اور سال کیسے بن سکتے ہیں،لکھنے سے مراد فرشتوں کو لکھنے کا حکم دینا ہے خاص خدا م کا کام گویا سلطان ہی کا کام ہے۔خیال رہے کہ مخلوق کی تقدیریں آسمان و زمین کی پیدائش سے پچاس ہزار برس پہلے لکھی گئیں،مگر یہ تحریر دو ہزار برس پہلے ہوئی لہذا یہ حدیث پچاس ہزار برس کی روایت کے خلاف نہیں کہ و ہاں لوح محفوظ میں تقدیروں کی تحریر مراد ہے،اور یہاں قرآن کریم کی تحریر مراد اور ہوسکتا ہے کہ یہاں دو ہزار برس سے تحریر مراد نہ ہو بلکہ مطلق زیادتی بیان کرنا مقصود ہو۔(مرقات)
۲؎ یہ دو آیتیں"اٰمَنَ الرَّسُوۡلُ"سےآخر سورۂ بقر تک ہیں اگرچہ سارا قرآن شریف ہی لوح محفوظ میں تھا اور وہاں سے ہی نازل ہوا مگر ان آیتوں میں وہ خصوصیت ہے جس کا ذکر آگے ہورہا ہے اس لیے ان کا ذکر خصوصیت سے فرمایا۔
۳؎ جب ان آیتوں کی برکت سے وہ گھر وہ عمارت وہ جگہ شیطان سے محفوظ ہوجاتی ہے جہاں تین دن یہ آیات پڑھ لی جائے تو جس زبان میں یہ آیتیں رہیں ان شاءاﷲ وہ بھی شیطان سے محفوظ رہیں گے۔ان جیسی تمام احادیث میں شیطان سے مراد ابلیس ہوتا ہے،ورنہ قرین شیطان اور نفس امارہ تو بہرحال انسان کے ساتھ رہتے ہیں ان موذیوں سے بچنے کی کوئی تدبیر نہیں جسے اﷲ بچائے وہ ہی بچے۔
۴؎ اس حدیث کو نسائی،ابن حبان اور حاکم نے اپنی مستدرک میں بھی روایت کیا۔(مرقات)
|
2146 -[38] وَعَن أبي الدَّرْدَاء قَالَ ك قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ قَرَأَ ثَلَاثَ آيَاتٍ مِنْ أَوَّلِ الْكَهْفِ عُصِمَ مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ |
روایت ہے حضرت ابوالدرداء سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے جو سورہ کہف شروع سے تین آیتیں پڑھا کرے وہ دجال کے فتنہ سے محفوظ رہے گا ۱؎ ترمذی اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع