دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم

2142 -[34]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم قَالَ لِأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ: «كَيْفَ تَقْرَأُ فِي الصَّلَاةِ؟» فَقَرَأَ أُمَّ الْقُرْآنِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا أنزلت فِي التَّوْرَاة وَلَا فِي الْإِنْجِيل وَلَا فِي الزبُور وَلَا فِي الْفرْقَان مِثْلُهَا وَإِنَّهَا سَبْعٌ مِنَ الْمَثَانِي وَالْقُرْآنُ الْعَظِيمُ الَّذِي أُعْطِيتُهُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَرَوَى الدَّارِمِيُّ مِنْ قَوْلِهِ: «مَا أُنْزِلَتْ» وَلَمْ يَذْكُرْ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ. وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ

روایت ہے حضر ت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے ابی ابن کعب سے تم نماز میں قرآن کیسے پڑھتے ہو ۱؎ تو انہوں نے الحمد شریف پڑھی ۲؎ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اس کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے اس جیسی سورت نہ توریت میں اتری نہ انجیل میں اور نہ زبور میں اور نہ قرآن میں۳؎ اور یہ سات مکرر آیتیں اور قرآن عظیم ہے جو مجھے عطا ہوئے۴؎ ترمذی اور دارمی نے ما انزلت کی روایت کی اور ابی ابن کعب کا واقعہ ذکر نہ کیا ۵؎ ترمذی نے فرمایا یہ حدیث حسن و صحیح ہے۔

۱؎ یعنی نماز کی ہررکعت میں کون سی سورۃ پڑھتے ہو،اور کیسے پڑھتے ہو،مجھے پڑھ کر سناؤ۔معلوم ہوا کہ شاگردوں کا امتحان لینا سنت ہے۔فقیر کی اس شرح سے حدیث پر یہ اعتراض نہ رہا کہ حضرت ابی کا جواب سرکار کے سوال کے مطابق نہیں کیونکہ یہاں قرأت، طریقہ قرأت اورمقرو سب کے متعلق تھا اس لیے جواب میں حضرت ابی کا سورۂ فاتحہ پڑھ کر سنا دینا ہرسوال کا جواب ہوگیا۔

۲؎ سورۂ فاتحہ کے بہت سے نام ہیں جن میں سے ایک نام ام القرآن بھی ہے کہ یہ سورۃ سارے قرآن کے سارے مضامین کو اپنے میں ایسے لیے ہوئے ہے جیسے ماں بچے کو اپنے پیٹ یا گود میں لیے ہوتی ہے اس کی تحقیق ہماری کتاب"تفسیرنعیمی"پارہ اول میں ملاحظہ فرمایئے۔اس سے معلوم ہوا کہ شاگرد کا استادکو پڑھا ہواسبق سنانا سنت صحابہ ہے۔

۳؎ یعنی ایسے فضائل و فوائد والی جامع سورہ کسی اور آسمانی کتاب میں تو کیا ہوتی خود قرآن کریم میں بھی نہیں ہے سورۂ فاتحہ کے فضائل و فوائد بے شمار ہیں اس لیے یہ نماز کی ہر رکعت میں پڑھی جاتی ہے اس کے فضائل وفوائد کی کچھ تفصیل ہماری "تفسیرنعیمی" پارہ اول میں ملاحظہ کیجئے۔یہ سورۃ شفاء ہے امان ہے مؤمن کی حرز جان ہے۔

۴؎ یعنی قرآن مجید میں ارشاد ہوا"سَبْعًا مِّنَ الْمَثَانِیۡ وَ الْقُرْاٰنَ الْعَظِیۡمَ"۔اس سے مراد سورۂ فاتحہ ہے،اس میں سات آیتیں ہیں،اور ہر رکعت میں بار بار پڑھی جاتی ہیں،نیز اس کا نزول ہجرت سے پہلے بھی ہوا اور بعد بھی اس لیے یہ سبع مثانی ہے یعنی سات مکرر آیتیں اور یہ قرآن عظیم بھی ہے کیونکہ قرآن کریم کی ہر آیت قرآن ہے جیسے پانی کا ہر قطرہ پانی ہے لہذا اس آیت کریمہ میں یہ دونوں وصف سورۃ فاتحہ کے ہیں۔

۵؎ یعنی دارمی کی روایت میں حضرت ابی ابن کعب کا یہ واقعہ مذکور نہیں صرف فضائل مذکور ہے۔

2143 -[35]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَعَلَّمُوا الْقُرْآنَ فَاقْرَءُوهُ فَإِن مثل الْقُرْآن لمن تعلم وَقَامَ بِهِ كَمثل جراب محشو مسكا يفوح رِيحُهُ كُلَّ مَكَانٍ وَمَثَلُ مَنْ تَعَلَّمَهُ فَرَقَدَ وَهُوَ فِي جَوْفِهِ كَمَثَلِ جِرَابٍ أُوكِئَ عَلَى مسك» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَالنَّسَائِيّ وَابْن مَاجَه

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسو ل اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے قرآن سیکھو ۱؎ پھر اسے پڑھا کرو ۲؎ کیونکہ جو قرآن سیکھے اور اس کی قرأت کرے اور اس پرعمل کرے اس کی مثال اس تھیلے کی سی ہے جس میں مشک بھرا ہو جس کی خوشبو ہر جگہ مہک رہی ہو۳؎ اور جو اسے سیکھے پھر سویا رہے ۴؎ اس طرح کہ اس کے سینے میں قرآن ہو وہ اس تھیلے کی طرح ہے جو مشک پر سربند کردیا گیا ہو ۵؎(ترمذی،نسائی،ابن ماجہ)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن