30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اے دل تر سندہ ازنا رو عذاب باچنیں دست و وہاں کن انتساب
بعض نے فرمایا کہ یہ کلام فرض و تقدیر پر ہے یعنی قرآن پاک کی عظمت کا تقاضا یہ ہے کہ آگ میں اس کا تھیلہ بھی نہ جلے جیسے رب تعالٰی کا فرمان کہ"لَوْ اَنۡزَلْنَا ہٰذَا الْقُرْاٰنَ عَلٰی جَبَلٍ لَّرَاَیۡتَہٗ خٰشِعًا مُّتَصَدِّعًا مِّنْ خَشْیَۃِ اللہِ"۔حضرت ابولبانہ سے روایت ہے فرماتے ہیں قرآنی سورتیں حفظ کر و کہ جس دل میں قرآن ہوگا اسے آگ سے عذاب نہ دیاجائے گا۔(لمعات و مرقات)خیال رہے کہ قرآن پاک کے یہ تمام فوائد مؤمن کے لیے ہیں۔اگر سارا قرآن حفظ کرلیں کفار تو بھی دوزخی ہیں،رام چندر دہلوی کو چودہ پارے حفظ تھے،بے جان جسم کو کوئی دوا مفید نہیں بے ایمان دل کو کوئی عمل فائدہ مند نہیں۔
|
2141 -[33] وَعَنْ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ فَاسْتَظْهَرَهُ فَأَحَلَّ حَلَالَهُ وَحَرَّمَ حَرَامَهُ أَدْخَلَهُ اللَّهُ بِهِ الْجَنَّةَ وَشَفَّعَهُ فِي عَشَرَةٍ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ كُلِّهِمْ قَدْ وَجَبَتْ لَهُ النَّارُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيب وَحَفْص بن سُلَيْمَان الرَّاوِي لَيْسَ هُوَ بِالْقَوِيِّ يَضْعُفُ فِي الْحَدِيثِ |
روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے جو قرآن پڑھے پھر اسے یاد رکھے ۱؎ اس کے حلال کو حلال اس کے حرام کو حرام جانے ۲؎ اﷲ اسے جنت میں داخل کرے گا اور اس کے گھر والوں میں سے ایسے دس آدمیوں میں اس کی شفاعت قبول فرمائے گا جن کے لیے دوزخ ضروری ہوچکی ۳؎ احمد ترمذی،ابن ماجہ دارمی اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث غریب ہے اور حفص ابن سلیمان راوی قوی نہیں انہیں حدیث میں ضعیف مانا گیا ہے۴؎ |
۱؎ استظہار کے معنے ہیں مدد لینا یعنی قرآن میں اپنے دل سے مدد لے کہ اسے یاد رکھے،ہر وقت اس کا خیال و لحاظ رکھے۔
۲؎ یعنی صرف تلاوت و حفظ پر قناعت نہ کرے بلکہ اس کے عقائد کو مانے احکام پرعمل کرے لہذا اس میں حافظ و عالم با عمل دونوں داخل ہیں۔
۲؎ ایسے باعمل عامل کو قرآن پاک سے دو عظیم الشان فائدے حاصل ہوں گے:ایک یہ کہ اول ہی سے جنت میں داخل کیا جائے گا۔ دوسرے یہ کہ اس کے اہلِ قرابت میں سے دس دوزخی مسلمانوں کو اس کی شفاعت سے بخشا جائے گا۔ معلوم ہوا کہ شفاعت بلندی درجات ہی کی نہ ہوگی بلکہ معافی سئیات کی بھی ہوگی اور علماء حافظ،شہدا،وغیرہم کی شفاعت برحق ہے۔ خیال رہے کہ شفاعت کبرے کا سہرا صرف حضور انورصلی اللہ علیہ و سلم کے سر ہے شفاعت صغرے حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کے غلام بھی کریں گے شفاعت کی تحقیق و تقسیم ہماری "تفسیرنعیمی"جلد سوم میں ملاحظہ فرمائیے۔
۴؎ یہ حدیث غریب بھی ہے اور حفص ابن سلیمان راوی کی وجہ سے اس کی یہ اسناد جس میں یہ راوی ہے ضعیف بھی ہے مگر ہم پہلے عرض کرچکے ہیں کہ فضائل میں حدیث ضعیف بھی قبول ہے۔
|
2142 -[34] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم قَالَ لِأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ: «كَيْفَ تَقْرَأُ فِي الصَّلَاةِ؟» فَقَرَأَ أُمَّ الْقُرْآنِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا أنزلت فِي التَّوْرَاة وَلَا فِي الْإِنْجِيل وَلَا فِي الزبُور وَلَا فِي الْفرْقَان مِثْلُهَا وَإِنَّهَا سَبْعٌ مِنَ الْمَثَانِي وَالْقُرْآنُ الْعَظِيمُ الَّذِي أُعْطِيتُهُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَرَوَى الدَّارِمِيُّ مِنْ قَوْلِهِ: «مَا أُنْزِلَتْ» وَلَمْ يَذْكُرْ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ. وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ |
روایت ہے حضر ت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے ابی ابن کعب سے تم نماز میں قرآن کیسے پڑھتے ہو ۱؎ تو انہوں نے الحمد شریف پڑھی ۲؎ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اس کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے اس جیسی سورت نہ توریت میں اتری نہ انجیل میں اور نہ زبور میں اور نہ قرآن میں۳؎ اور یہ سات مکرر آیتیں اور قرآن عظیم ہے جو مجھے عطا ہوئے۴؎ ترمذی اور دارمی نے ما انزلت کی روایت کی اور ابی ابن کعب کا واقعہ ذکر نہ کیا ۵؎ ترمذی نے فرمایا یہ حدیث حسن و صحیح ہے۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع